ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ کے لیے فاسٹ بولر محمد عباس کو فائنل الیون سے باہر کرنے کے پاکستان کرکٹ ٹیم کے فیصلے نے ملکی کرکٹ حلقوں کو حیران کردیا ہے۔
پہلے ٹیسٹ میں 8 وکٹیں (بشمول دوسری اننگز میں 5 وکٹیں) حاصل کرنے کے باوجود عباس کو ڈراپ کیا گیا، جبکہ پاکستان کی کرکٹ تاریخ میں 1979 کے بعد یہ صرف دوسرا موقع ہے کہ کسی بولر کو پچھلے میچ میں 5 وکٹیں لینے کے باوجود اگلے ٹیسٹ سے باہر کیا گیا ہو۔
کپتان بابر اعظم کے مطابق 36 سالہ محمد عباس کو پورٹ آف اسپین کی سست اور کم باؤنس والی پچ کے حالات کی وجہ سے ڈراپ کیا گیا ہے۔ اس ٹیسٹ میں پاکستان نے چار تبدیلیوں کے ساتھ میدان میں اترتے ہوئے فاسٹ بولر عبید شاہ اور بلے باز اویس ظفر کو ٹیسٹ کیپ دی، جبکہ عبداللہ شفیق کو واپس لایا گیا ہے۔ عامر جمال، محمد عباس اور خرم شہزاد کو ٹیم سے باہر کیا گیا جبکہ پہلے ٹیسٹ میں سنچری بنانے والے شان مسعود انگلی کی چوٹ کے باعث اس میچ کا حصہ نہیں ہیں۔
پورٹ آف اسپین میں بارش سے متاثرہ پہلے دن کا کھیل ختم ہونے تک ویسٹ انڈیز نے 5 وکٹوں کے نقصان پر 239 رنز بنا لیے تھے۔ ویسٹ انڈیز کی جانب سے جسٹن گریوز (64 ناٹ آؤٹ) اور روسٹن چیس (36 ناٹ آؤٹ) نے چھٹی وکٹ کے لیے 66 رنز کی غیر متزلزل شراکت قائم کر کے ٹیم کو سنبھالا دیا، جبکہ برینڈن کنگ نے 46 اور عامر جانگو نے 26 رنز بنائے۔ پاکستان کی جانب سے محمد علی نے دو وکٹیں حاصل کیں جبکہ ڈیبیو کرنے والے عبید شاہ اور علی عثمان نے ایک ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
سابق ٹیسٹ کپتان معین خان اور سابق اسپنر اقبال قاسم نے عباس کو باہر بٹھانے اور صرف دو فاسٹ بولرز کے ساتھ میدان میں اترنے کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ معین خان کے مطابق عباس اپنے تجربے کے باعث سست پچز پر بھی موثر ثابت ہو سکتے تھے، تاہم انہوں نے اور اقبال قاسم نے دو اسپنرز کو کھلانے کے فیصلے کی حمایت کی۔ میچ کے پہلے دن بابر اعظم کی کپتانی، سست اوور ریٹ اور خراب فیلڈنگ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جہاں بابر اعظم نے خود بھی حریف کپتان کا ایک اہم کیچ چھوڑا۔