پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو پریذیڈنٹس کپ فرسٹ کلاس ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی ڈیپارٹمنٹل ٹیموں سے 1 کروڑ 50 لاکھ روپے (15 ملین) شرکت فیس وصول کرنے کے منصوبے میں شدید دھچکا لگا ہے، کیونکہ ملک کی قدیم ترین اور دفاعی چیمپئن ٹیم خان ریسرچ لیبارٹریز (کے آر ایل) نے اتنی بھاری فیس کی عدم ادائیگی کی وجہ سے ایونٹ سے دستبردار ہونے کا باقاعدہ اعلان کردیا ہے۔
کے آر ایل انتظامیہ نے پی سی بی کو مطلع کیا ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں ایک شاندار اور باقاعدہ تاریخ رکھنے کے باوجود مالی مشکلات کی بنا پر وہ 2026/27 کے ڈومیسٹک سیزن میں حصہ لینے سے قاصر ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق شرکت فیس میں اچانک 300 فیصد کے غیر معمولی اضافے نے ان کے پاس دوسرا کوئی راستہ نہیں چھوڑا، کیونکہ اس قدر بھاری رقم ادا کرنے کے بعد ان کے پاس ٹیم کے دیگر روزمرہ اخراجات سنبھالنے کے لیے بجٹ نہیں بچے گا۔
1 کروڑ 50 لاکھ روپے کی یہ شرکت فیس پی سی بی کی جانب سے اعلیٰ سطح کے ڈومیسٹک مقابلوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل ٹیموں سے مانگی گئی اب تک کی سب سے بڑی رقم ہے۔ اس فیصلہ کن اقدام سے قبل ڈیپارٹمنٹل نمائندوں اور پی سی بی حکام کے درمیان ہونے والے ایک ورچوئل اجلاس میں بھی اکثر اداروں نے واضح طور پر خبردار کیا تھا کہ اگر بورڈ نے فیس میں نظرثانی نہ کی تو اداروں کے پاس ڈومیسٹک سیزن میں شرکت کا بجٹ موجود نہیں ہوگا اور ان کے لیے کھیلنا ناممکن ہو جائے گا۔
واضح رہے کہ کے آر ایل پریذیڈنٹس کپ کی دفاعی چیمپئن ہے اور فاسٹ بولر شعیب اختر سمیت قومی کرکٹ ٹیم کے کئی نامور اور بہترین کھلاڑی ڈومیسٹک مقابلوں میں اس کی نمائندگی کرچکے ہیں۔