انڈیا کی ریاست تلنگانہ کے کریم نگر علاقے میں پولیس نے بتایا ہے کہ دو بیٹوں کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا ہے کہ انھوں نے اس توہم پرستی کے باعث اپنی ماں کو کنویں میں دھکا دے کر قتل کر دیا کہ اگر وہ گھر میں فوت ہوئیں تو انھیں گھر چھوڑنا پڑتا۔

انتباہ: اس خبر میں شامل بعض تفصیلات پریشان کن ہو سکتی ہیں۔
’اس توہم پرستی کی وجہ سے کہ اگر کوئی نحس وقت میں مر جائے تو گھر چھوڑنا پڑتا ہے، اسی لیے بیٹوں نے اپنی زندہ ماں کو کنویں میں پھینک کر قتل کر دیا اور اسے خودکشی ظاہر کرنے کی کوشش کی۔‘
یہ بات تلنگانہ پولیس نے ایک قتل کے مقدمے کی تفتیش کے بعد بتائی۔ یہ انکشاف ایک معمر خاتون کی موت کے مقدمے میں پانچ ماہ بعد ہوا؟
انڈیا کی ریاست تلنگانہ کے کریم نگر علاقے میں پولیس نے بتایا ہے کہ دو بیٹوں کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا ہے کہ انھوں نے اس توہم پرستی کے باعث اپنی ماں کو کنویں میں دھکا دے کر قتل کر دیا کہ اگر وہ گھر میں فوت ہوئیں تو انھیں گھر چھوڑنا پڑتا۔
ابتدا میں خودکشی کا مقدمہ درج کیے گئے اس کیس کا پانچ ماہ کی تفتیش کے بعد خاتمہ ہوا ہے۔
پولیس انسپکٹر سرینواس نے بی بی سی کو بتایا ’طبی اور فارنزک رپورٹوں کے ذریعے یہ ثابت ہو گیا کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ بیٹوں کی جانب سے منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا قتل تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ اگرچہ ابتدا میں مضبوط شواہد موجود نہیں تھے، لیکن صرف اس شبہے کی بنیاد پر کئی ماہ تک تفتیش جاری رکھی گئی کہ ایک بیمار اور ضعیف خاتون خودکشی کرنے کے لیے گھر سے کچھ فاصلے پر واقع مقام تک پیدل جا ہی نہیں سکتی تھیں۔
پولیس، اہلِ خانہ اور گاؤں والوں کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق، چھ اپریل کو کریم نگر ضلع کے گاؤں ایلاپودارم کے رہائشی کونے رویندر نے سیتھاپور پولیس تھانے میں شکایت درج کرائی کہ ان کی اسی سالہ والدہ کونے وینکٹاما نے خودکشی کر لی ہے۔
’ماں ایسی حالت میں تھیں کہ حرکت بھی نہیں کر سکتی تھیں‘
پولیس نے مشتبہ موت کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی پولیس نے مشتبہ موت کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی۔
وینکٹاما کے گھر اور اس کنویں کے درمیان، جہاں ان کی لاش ملی تھی، کافی زیادہ فاصلہ تھا، جس نے حکام کے شکوک کو بڑھا دیا۔
انسپکٹر سرینواس نے بتایا، ’وینکٹاما بڑھاپے اور بیماری کی وجہ سے بستر تک محدود تھیں۔ وہ بستر سے اٹھ کر چل بھی نہیں سکتی تھیں۔ ان میں حرکت کرنے کی بھی صلاحیت نہیں تھی۔ ایسی صورتِ حال میں یہ دعویٰ کہ وہ گھر سے تقریباً 300 میٹر دور جا کر خودکشی کر گئی تھیں، شروع ہی سے ہمارے لیے باعثِ شک تھا۔‘
پولیس نے کہا کہ وہ ٹھوس شواہد کی کمی کے باوجود ایک اہم عنصر کی بنیاد پر کئی مہینوں سے کیس کی تفتیش کر رہے تھے ماں کی دیکھ بھال کے لیے بیٹوں نے باری مقرر کر رکھی تھی
وینکٹاما کے چار بیٹے جبکہ ایک بڑی بیٹی بھی ہے۔
بڑے بیٹے سمّیا کے گھر میں وینکٹاما کے لیے ایک علیحدہ کمرہ مختص کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق، ’پہلے چاروں بیٹے باری باری ایک ایک ماہ تک اپنی ماں کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ حال ہی میں وینکٹاما کی صحت بہت زیادہ خراب ہو گئی تھی۔ ان کی حالت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ وہ بیٹھ بھی نہیں سکتی تھیں، اس لیے بیٹوں نے ذمہ داری کو تقسیم کرتے ہوئے ایک ایک ہفتے کی باری مقرر کر لی تھی۔‘
جب یہ قتل ہوا، اس وقت تیسرے بیٹے کمار سوامی کی باری ختم ہونے والی تھی۔ مزید دو دن بعد سب سے چھوٹے بیٹے سرینواس کی باری شروع ہونا تھی۔
گھر میں موت کے حوالے توہم پرستی
پولیس کے مطابق، اہلِ خانہ کا خیال تھا کہ وینکٹاما زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں اور شاید صرف ایک یا دو دن ہی مزید زندہ رہ سکیں گی۔
اسی دوران بڑے بیٹے سمّیا نے کہا کہ اب ہر بیٹا اپنی ماں کو اپنے اپنے گھر لے جا کر ان کی دیکھ بھال کرے۔
’سمّیا کا ماننا تھا کہ اگر پنچانگ کے مطابق کسی نحس وقت میں ان کی ماں ان کے گھر میں وفات پا گئیں تو انھیں کچھ عرصے کے لیے گھر بند کرکے وہاں سے نکلنا پڑے گا۔‘
پولیس کے مطابق، اس سے پہلے جب ان کے والد کی موت ہوئی تو خاندان نے اسی رسم پر عمل کرتے ہوئے گھر چھوڑ دیا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ ’تفتیش کے دوران سب سے چھوٹے بیٹے سرینواس نے اعتراف کیا کہ وہ اس خوف میں مبتلا تھا کہ اگر اس کی ماں اس کے گھر میں فوت ہو گئیں تو اسے بھی اپنا گھر چھوڑنا پڑے گا۔ چونکہ اس کا خیال تھا کہ ماں زیادہ دن زندہ نہیں رہیں گی، اس لیے اس نے اپنے بڑے بھائی سمّیا کے ساتھ مل کر انھیں وقت سے پہلے قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔‘
گاؤں والوں نے بتایا کہ وینکٹما طویل عرصے بیمار تھیں ’بڑے اور چھوٹے بیٹے نے مل کر یہ کام کیا‘
حسورآباد پولیس اور گاؤں کے لوگوں کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق، ’پانچ اپریل کی رات، جب تیسرے بیٹے کمار سوامی کے خاندان کے افراد اپنی باری مکمل کرکے گھر واپس چلے گئے، تو منصوبے کے مطابق سمّیا اور سرینواس نے مل کر اپنی ماں کو گھر سے اٹھایا اور قریب واقع ایک زرعی کنویں میں پھینک دیا۔‘
انسپکٹر سرینواس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’ماں کو قتل کرنے کے لیے دونوں بھائیوں نے پہلے ہی ایک کنویں کا انتخاب کر رکھا تھا۔ سرینواس اپنی ماں کو اٹھا کر لے جا رہا تھا، جبکہ سمّیا اس بات کا خیال رکھ رہا تھا کہ راستے میں کوئی انھیں دیکھ نہ لے۔‘
اگلے روز اہلِ خانہ نے وینکٹاما کے لاپتا ہونے پر ان کی تلاش شروع کی۔
اس شبہے کے تحت کہ وہ گھر کے پیچھے موجود زرعی کنویں میں گر گئی ہوں گی، موٹروں کے ذریعے کنویں کا پانی نکالا گیا۔ آخرکار ان کی لاش برآمد ہو گئی۔
گاؤں ایلاپودارم کے سربراہ (سرپنچ) نامِنڈلا رویندر نے بی بی سی کو بتایا، ’وینکٹاما طویل عرصے سے بیماری اور فالج کا شکار تھیں۔ ہم نے سمجھا تھا کہ شاید وہ چلتے ہوئے گھر کے پیچھے موجود کنویں میں گر گئی ہوں گی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان بھائیوں نے گاؤں والوں کو گمراہ کیا تھا۔‘

وینکٹاما کی موت کے بارے میں خاندان کے کسی فرد نے کوئی شبہ ظاہر نہیں کیا۔
اگرچہ پولیس کو شکوک تھے، لیکن یہ ایسا مقدمہ تھا جسے صرف تکنیکی شواہد کی بنیاد پر حل نہیں کیا جا سکتا تھا۔
پولیس حکام کے مطابق، ’جب قتل کے امکان کے زاویے سے تفتیش کی گئی تو لاش پر فوری طور پر کسی قسم کے زخموں کے آثار نظر نہیں آئے۔ اس کے علاوہ تفتیشی افسر کی تبدیلی کے باعث بھی مقدمے کی تحقیقات متاثر ہوئیں۔‘
بعد میں اس مقدمے کی تفتیش کرنے والے انسپکٹر سرینواس نے کہا، ’یہ ایک ایسا مقدمہ تھا جس میں خاندان کے افراد ہی ملوث تھے۔ وینکٹاما طویل عرصے سے شدید بیماری کے باعث بستر پر تھیں، اس لیے ان کی موت پر گاؤں والوں کو بھی کوئی شبہ نہیں ہوا۔ لیکن ہمیں یہ بات قابلِ یقین نہیں لگ رہی تھی کہ یہ خودکشی ہے۔ دوسری جانب ہمارے پاس یہ ثابت کرنے کے لیے بھی کوئی واضح ثبوت موجود نہیں تھا کہ یہ قتل ہے۔ جب ملزمان خود گھر کے افراد ہوں تو انھیں جرم سے جوڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسی لیے ہم نے سائنسی شواہد پر توجہ مرکوز کی۔‘
’فارنزک رپورٹ میں سلجھنے والی گتھی‘
وینکٹاما کی موت حادثہ تھی یا قتل، اس کا تعیّن کرنے کے لیے پولیس نے مختلف زاویوں سے تحقیقات کیں۔
اسی دوران بعض دیہاتیوں کی طرف سے بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا۔
پولیس نے مقامی ڈاکٹروں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ، فرانزک لیبارٹری اور کاکاٹیا میڈیکل کالج کی رپورٹوں کے نتائج کا جائزہ لیا۔
اس بات کی تحقیقات کی گئیں کہ آیا ان کا گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا؟ کیا انھیں زبردستی کنویں میں دھکیلا گیا تھا؟ یا کہیں اور قتل کرنے کے بعد لاش کنویں میں پھینکی گئی تھی؟ ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد پولیس اس نتیجے پر پہنچی کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل تھا۔
انسپکٹر سرینواس نے کہا، ’خواہ کتنے ہی شکوک کیوں نہ ہوں، انھیں ثابت کرنے کے لیے شواہد درکار ہوتے ہیں۔ فارنزک اور پوسٹ مارٹم رپورٹوں سے واضح ہو جاتا ہے کہ آیا گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا، قتل کے بعد کنویں میں پھینکا گیا تھا یا کنویں میں گرنے کے بعد موت واقع ہوئی تھی۔ اسی طرح اگر جسم پر زخم ہوں تو یہ بھی معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ موت سے پہلے لگے تھے یا موت کے بعد۔ ان رپورٹوں کے آنے میں تاخیر کی وجہ سے ہی مقدمہ نمٹانے اور دونوں ملزمان کو گرفتار کرنے میں بھی تاخیر ہوئی۔‘
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وینکٹاما کے قتل کے پیچھے جائیداد، پیسہ یا خاندانی تنازعات جیسی کوئی وجہ نہیں تھی، بلکہ یہ قتل اس توہم پرستی کے باعث کیا گیا کہ کہیں گھر چھوڑنے کی نوبت نہ آ جائے۔
انسپکٹر سرینواس نے کہا، ’اگر ماں کی حالت بہت خراب تھی تو انھیں سرکاری ہسپتال لے جا کر علاج کرایا جا سکتا تھا۔ لیکن توہم پرستی کی وجہ سے انھوں نے اپنی ماں کو قتل کر دیا۔‘
سرپنچ نامِنڈلا رویندر کے مطابق، پولیس کی تفتیش میں سامنے آنے والے حقائق نے گاؤں کے لوگوں کو شدید صدمے میں مبتلا کر دیا۔
انھوں نے کہا کہ ’گاؤں میں سب لوگ یہ بات کر رہے ہیں کہ یہ مقدمہ ان لوگوں کے لیے سبق ہونا چاہیے جو اپنے والدین کی دیکھ بھال میں کوتاہی کرتے ہیں۔ اپنی ماں کو، جو قدرتی موت کا انتظار کر رہی ہو، قتل کر دینا انتہائی سفاکانہ عمل ہے۔ گھر چھوڑنے کی بات محض ایک توہم پرستی ہے۔ اگر واقعی ایسی صورتِ حال پیش بھی آتی تو وہ کسی دوسرے گھر کو کرائے پر لے کر وہاں رہ سکتے تھے۔‘
بی بی سی نے ملزمان کے خاندان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ گاؤں کے سربراہ، مقامی رہائشیوں اور پولیس کے ذریعے بھی ان تک پہنچنے کی کوششیں کی گئیں، تاہم ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔