کراچی کے علاقے ملیر سٹی میں پولیس کارروائی کے دوران 18 سالہ طالب علم ارشاد کی ہلاکت اور اہل خانہ کی جانب سے پولیس پر قتل کے الزام کے بعد تحقیقات کے لیے انکوائری افسر مقرر کردیا گیا۔
متوفی کے لواحقین نے واقعے کے خلاف پریس کلب اور جناح اسپتال کے باہر لاش کے ہمراہ شدید احتجاج کرتے ہوئے پولیس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب پولیس حکام نے حراستی قتل کا الزام مکمل طور پر رد کردیا ہے۔ ایس ایس پی ملیر عبدالخالق شیخ اور ایس ایچ او ملیر سٹی ریاض بھٹو کے مطابق پولیس نے لاسی گوٹھ میں بدنام منشیات فروش ارشد کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تھا اور اسے 55 گرام آئس سمیت حراست میں لیا گیا۔
کارروائی کے دوران پڑوسی نوجوان ارشاد پولیس کو دیکھ کر ڈر کے مارے بھاگا اور چھتوں سے کودنے کے دوران بجلی کے تاروں سے الجھ کر دوسری گلی میں جا گرا۔
پولیس نے بے ہوشی کی حالت میں نوجوان کو فوری طور پر جناح اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد اس کی ہلاکت کی تصدیق کی اور بتایا کہ ہلاکت کرنٹ لگنے سے ہوئی ہے، جبکہ اس کے ہاتھ پر کرنٹ کا نشان بھی موجود تھا۔
ایس ایس پی ملیر نے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے ایس پی ملیر کو انکوائری افسر مقرر کردیا ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ رپورٹ میں جو بھی ذمہ دار ثابت ہوا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔