پاکستان کے سابق ٹیسٹ بلے باز اور چیف سلیکٹر ہارون رشید نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ کا زوال سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے ڈومیسٹک کرکٹ کا نظام تبدیل کرنے سے شروع ہوا۔
ایک پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ڈومیسٹک اسٹرکچر کا جائزہ لینے والی ٹاسک فورس نے عمران خان کو ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی شمولیت کے ساتھ ایک 'ہائبرڈ ماڈل' تجویز کیا تھا، تاہم عمران خان نے آسٹریلین طرز پر ٹیمیں صرف پانچ یا چھ تک محدود کرنے پر زور دیتے ہوئے اس ماڈل کو مسترد کردیا۔
ہارون رشید کے مطابق ڈیپارٹمنٹس کا خاتمہ اور صوبائی نظام کا فوری نفاذ ایک غلط فیصلہ تھا جس سے کرکٹ کے معیار میں تنزلی آئی اور بین الاقوامی سطح سے خلا بڑھ گیا۔
انہوں نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں تمام ڈومیسٹک ٹورنامنٹس کا توازن برقرار ہے، جبکہ پاکستان میں خودمختاری اور مستقل مزاجی کا فقدان ہے جہاں ہر سیزن میں نظام بدل دیا جاتا ہے۔