"میں پہلا ایسا شخص بننے والا ہوں جو بغیر ہاتھوں کے ریسنگ کا حصہ بنے گا۔ میرے لیے یہ صرف گاڑی چلانے کی بات نہیں بلکہ یہ ثابت کرنے کا موقع ہے کہ جسمانی کمی کسی انسان کو اپنے خواب پورے کرنے سے نہیں روک سکتی۔"
23 سالہ کلوم اسمتھ نے ریسنگ کی دنیا میں ایک منفرد مثال قائم کردی ہے۔ پیدائشی طور پر دونوں ہاتھوں سے محروم کلوم نہ صرف گاڑی چلاتے ہیں بلکہ ریسنگ ٹریک پر 110 میل فی گھنٹہ تک کی رفتار بھی حاصل کرچکے ہیں۔ اب ان کا اگلا ہدف فرانس میں ہونے والی مشہور اسپورٹس کار ریس ’لی مانز‘ میں حصہ لینا ہے۔
کلوم گاڑی کے اسٹیئرنگ، ایکسیلیٹر اور بریک کو اپنے پیروں کی مدد سے کنٹرول کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ان کے لیے ایک خصوصی اسٹیئرنگ پلیٹ تیار کی گئی ہے، جسے جم ڈوران ہینڈ کنٹرولز نے ڈیزائن کیا۔ ان کا بایاں پیر اسٹیئرنگ پلیٹ کو گھماتا ہے جبکہ دایاں پیر ایکسیلیٹر اور بریک سنبھالتا ہے۔
ریسنگ سے کلوم کی محبت اس وقت شروع ہوئی جب وہ صرف 2 سال کے تھے۔ اپنے دادا کے ساتھ بائیک ریس دیکھنے کے بعد انہیں رفتار اور ریسنگ کی دنیا نے اپنی طرف متوجہ کرلیا۔ تاہم باقاعدہ طور پر ریسنگ ٹریک کا تجربہ انہوں نے جولائی 2025 میں اپنے پہلے ٹریک ڈے سے شروع کیا۔
اپریل 2026 میں کلوم نے 3.66 میل طویل سرکٹ تقریباً 100 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مکمل کیا، جس کے بعد ان کے لیے ریسنگ میں آگے بڑھنے کے امکانات مزید روشن ہوگئے۔
انگلینڈ میں فنانس اسسٹنٹ کے طور پر ملازمت کرنے والے کلوم کو اب ٹیم BRIT کی جانب سے اپنا پہلا ڈرائیونگ کنٹریکٹ بھی مل چکا ہے۔ وہ توقع رکھتے ہیں کہ جلد ہی مکمل ریسنگ لائسنس حاصل کرلیں گے اور اس کے بعد باقاعدہ مقابلوں میں شرکت کا راستہ کھل جائے گا۔
کلوم اسمتھ کی کہانی صرف ایک منفرد ڈرائیونگ تکنیک تک محدود نہیں، بلکہ یہ اس بات کی مثال بھی ہے کہ غیر معمولی حالات کے باوجود کسی خواب کے پیچھے مستقل مزاجی سے چلا جائے تو راستے نکالے جاسکتے ہیں۔