مصنوعی ذہانت اور روبوٹائزیشن کے انسانی روزگار پر ممکنہ اثرات کے خلاف پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں 30 روبوٹس نے انسانوں کے حق میں منفرد احتجاج کیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق پولینڈ کی وزارتِ ڈیجیٹل امور کے سامنے ہونے والے مظاہرے میں ہیومنائیڈ اور چار ٹانگوں والے روبوٹس نے شرکت کی۔ روبوٹس نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور ’ملازمتوں کا دفاع کرو‘، ’قواعد بنانے کا وقت ہے‘ اور ’انتظار مت کرو، ضوابط بناؤ‘ جیسے نعرے بھی لگائے۔
دلچسپ بات یہ رہی کہ احتجاج میں شریک روبوٹس نے موقع پر موجود صحافیوں کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔ مظاہرین کی جانب سے مصنوعی ذہانت اور روبوٹائزیشن کے لیے مزید سخت قوانین و ضوابط بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔
پولینڈ کے وزیرِ ڈیجیٹل امور کرسٹوف گاکوفسکی نے بھی احتجاجی مقام کا دورہ کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بے قابو مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کو انسان نما روبوٹس میں شامل کیا گیا اور یہ مشینیں کام کے دوران اپنی صلاحیتیں مسلسل بڑھاتی رہیں تو اس کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
مظاہرے کا اہتمام ’ڈیموکریٹزم‘ نامی تنظیم نے کیا، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت اور روبوٹائزیشن کے لیبر مارکیٹ پر اثرات پر بحث کو فروغ دینا ہے۔ منتظم گریگورز کولیِش کے مطابق انسان نما روبوٹس مستقبل میں جسمانی کے ساتھ ذہنی نوعیت کے کاموں میں بھی انسانوں کی جگہ لے سکتے ہیں، اس لیے ملازمین کے تحفظ کے لیے بروقت قوانین بنانا ضروری ہے۔