ترکی کی انقرہ یونیورسٹی میڈیکل فیکلٹی کے پروفیسر ڈاکٹر بُلنت کوستو اس وقت جذباتی ہوگئے جب ان کی بیٹی نے انہیں زندگی کی ایک ایسی خوشخبری سنائی جس نے باپ کے دل کو خوشی سے بھر دیا۔
بیٹی اپنے والد کے پاس پہنچی اور محبت سے کہا، ”بابا! آپ کی بیٹی حافظِ قرآن بن گئی ہے۔“ بیٹی کے منہ سے یہ الفاظ سنتے ہی پروفیسر ڈاکٹر بُلنت کوستو کے جذبات قابو میں نہ رہ سکے۔ انہیں اپنی بیٹی کے حفظِ قرآن مکمل کرنے پر بے حد خوشی اور فخر محسوس ہوا۔
یہ منظر اس وقت مزید جذباتی ہوگیا جب کمرے میں موجود دیگر افراد بھی اس خوشی میں شریک ہوئے۔ بیٹی کی کامیابی اور والد کے جذبات دیکھ کر کئی لوگوں کی آنکھوں سے بھی بے اختیار آنسو چھلک پڑے۔
ایک بیٹی کی جانب سے والد کو اس انداز میں اپنی کامیابی کی خوشخبری دینا بلاشبہ ایک یادگار لمحہ تھا، جبکہ والد کے لیے بیٹی کا حافظِ قرآن بننا خوشی اور فخر کا ایسا موقع بن گیا جسے وہ شاید کبھی فراموش نہ کر سکیں۔