کسان اتحاد کا 25 ستمبر کو اسلام آباد میں بھرپور احتجاج کا اعلان

image

کراچی پریس کلب میں کسان اتحاد کے چیئرمین خالد حسین باٹھ اور سندھ آبادگار کے صدر زبیر تالپور نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسانوں کے مسائل حل نہ ہوئے تو تمام کسان تنظیموں کی شرکت کے ساتھ 25 ستمبر کو پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے سامنے بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کسانوں سے ٹکراؤ کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔

رہنماؤں نے بتایا کہ بلوچستان اور سندھ میں اکتوبر جبکہ پنجاب میں نومبر سے گندم کی کاشت شروع ہوتی ہے، لیکن ابھی تک کسی بھی صوبائی حکومت نے گندم خریداری کی پالیسی تشکیل نہیں دی۔ گزشتہ تین سال سے کسانوں سے لاگت سے بھی کم قیمت پر گندم خریدی جا رہی ہے، جس کے باعث ناقص حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے کسانوں نے کاشت کم کر دی ہے۔ گندم کی فی من پیداواری لاگت تقریباً 4,500 روپے ہے اور مطالبہ ہے کہ کسان کو لاگت پر 20 فیصد منافع کے ساتھ قیمت دی جائے۔ اگر 4,000 روپے فی من ریٹ نہ ملا تو کسان گندم کاشت نہیں کریں گے۔

پریس کانفرنس میں نشاندہی کی گئی کہ اس وقت آٹے کی قیمت 8,000 روپے فی من ہے جبکہ کسان سے گندم 3,200 روپے میں لی گئی۔ حکومت اپنے کسان سے خریدنے کے بجائے باہر سے 5,500 روپے فی من کے حساب سے 7 لاکھ 50 ہزار میٹرک ٹن گندم درآمد کر رہی ہے، جس کی مالیت تقریباً 38 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو حکومت کو اگلے سال 35 سے 40 لاکھ میٹرک ٹن گندم باہر سے منگوانی پڑے گی۔

کسان رہنماؤں نے زرعی مشینری اور ٹریکٹر کے لیے کسانوں کو فیول ریلیف دینے کا بھی مطالبہ کیا اور بتایا کہ صرف گندم کی کاشت میں ٹریکٹر کے ڈیزل پر 20 سے 25 ہزار روپے کا خرچ آتا ہے۔ اس کے علاوہ کسانوں کے سابقہ واجبات کی ادائیگی، نومبر سے کرشنگ سیزن کے آغاز اور گنے کی آنے والے سیزن کے لیے بروقت کم از کم سپورٹ پرائس 650 روپے فی 40 کلو مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ مطالبہ تسلیم نہ ہونے کی صورت میں شوگر ملز کو گنا نہ دینے اور ان کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا گیا، جبکہ آئینی و قانونی راستہ بھی اپنایا جائے گا۔ حکومت نے 2 لاکھ میٹرک ٹن چینی ایکسپورٹ کی اجازت دی ہے جس سے زرمبادلہ تو ملے گا لیکن کسان کو فائدہ پہنچنا ضروری ہے۔

مزید برآں، آلو، کپاس، پیاز اور ٹماٹر کے کاشتکاروں کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے افغانستان سے پیاز، ٹماٹر اور روئی کی غیر قانونی آمد و اسمگلنگ روکنے کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ اگر یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو بلوچستان میں شدید احتجاج ہوگا۔ رہنماؤں نے جنوبی پنجاب اور سندھ کے ٹیلوں تک پانی کی عدم فراہمی کو فوڈ سیکیورٹی کا بڑا مسئلہ قرار دیا اور سندھ طاس معاہدے پر مؤثر عملدرآمد کے لیے اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کو خطوط لکھنے کا فیصلہ کیا۔

پریس کانفرنس میں کسان اتحاد پنجاب کے جنرل سیکریٹری ملک یاسین جھجھ اور دیگر گرفتاران کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ مقدمات، چھاپوں اور دباؤ سے کسان کی آواز نہیں دبائی جا سکتی۔ تمام صوبوں کی کسان تنظیموں سے مشاورت جاری ہے اور ملک کو صرف کسان ہی بچا سکتا ہے، اگر حکومت کسانوں کے ساتھ بیٹھ جائے تو گندم اور چینی سمیت تمام اشیاء سستی فراہم کی جا سکتی ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US