انڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستانی بحریہ کے ایک جہاز کی انڈین نیوی کے جہاز کے ساتھ ٹکر کے معاملے پر پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور (چارج ڈی افیئرز) کو طلب کر کے ’شدید احتجاج‘ کیا گیا ہے۔
فائل فوٹوپاکستان نے انڈین بحریہ کے ایک جہاز پر مُلک کے خصوصی اقتصادی زون میں ’اشتعال انگیز اور ناقابلِ قبول اقدام‘ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے اسلام آباد میں انڈیا کے ناظم امور کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ’پاکستان بحریہ کی مشق ’سی سپارک 26‘ جاری تھی کہ انڈین بحری جہاز نے پاکستانی بحری جہاز کے انتہائی قریب آ کر جارحانہ انداز میں نقل و حرکت کی، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں کے درمیان ٹکر ہوئی۔‘
بدھ کی شام کو انڈیا کی جانب سے بھی پاکستانی بحریہ پر اسی طرح کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ملک کی وزارتِ خارجہ نے پاکستانی بحریہ کے جہاز پر بین الاقوامی سمندر میں انڈین بحریہ کے ایک جہاز کو ٹکر مارنے کا الزام عائد کیا تھا، اور پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور (چارج ڈی افیئرز) کو طلب کر کے پاکستانی بحریہ کے یونٹس کے مبینہ ’غیر پیشہ ورانہ اور ناقابلِ قبول طرزِ عمل‘ پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔
تاہم پاکستان انڈیا کے اس الزام کی تردید کرتا ہوا نظر آتا ہے۔
پاکستان کا کیا کہنا ہے؟
پاکستان کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ مُلک کی بحریہ خصوصی اقتصادی زون میں سی سپارک مشق 2026 میں مصروف تھی کہ انڈین بحری جہاز نے پاکستانی بحری جہاز کے انتہائی قریب آ کر جارحانہ انداز میں نقل و حرکت کی۔
پاکستانی وزارتِ خارجہ کا بدھ کے روز جاری بیان میں کہنا تھا کہ ’یہ واقعہ بین الاقوامی قانون اور سنہ 1991 کے فوجی مشقوں، جنگی نقل و حرکت اور فوجی دستوں کی نقل و حرکت کے بارے میں پیشگی اطلاع سے متعلق دوطرفہ معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے اور اس سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خطرہ پیدا ہوا۔‘
’انڈین ناظم الامور سے کہا گیا کہ وہ اپنی حکومت کو آگاہ کریں کہ پاکستان انڈین اقدام کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔ انڈیا پر زور دیا گیا کہ وہ بین الاقوامی قانون اور دوطرفہ معاہدوں، بالخصوص سمندر میں ایسے واقعات کی روک تھام سے متعلق معاہدوں، کی مکمل پابندی کرے۔‘
وزارتِ خارجہ کے مطابق نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور بھی انڈین وزارتِ خارجہ کے سامنے اسی معاملے پر احتجاج ریکارڈ کرائیں گے۔
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انڈیا سے ’جارحانہ رویہ‘ ترک کرنے اور ایسے ’غیر ذمہ دارانہ اقدامات‘ سے گریز کرنے کا مطالبہ کرے جن سے جنوبی ایشیا میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔
انڈیا نے کیا کہا؟
انڈین وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ بین الاقوامی سمندری حدود میں پیش آیا اور اس کے نتیجے میں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا۔
انڈیا کا کہنا ہے کہ پاکستانی بحریہ کے ایک جہاز کی انڈین نیوی کے جہاز کے ساتھ مبینہ ٹکر کے معاملے پر پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور کو طلب کر کے ’شدید احتجاج‘ کیا گیا ہے۔
بدھ کو جاری کردہ بیان میں انڈیا کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے ناظم الامور (چارج ڈی افیئرز) کو طلب کر کے پاکستانی بحریہ کے یونٹس کے مبینہ ’غیر پیشہ ورانہ اور ناقابلِ قبول طرزِ عمل‘ پر شدید احتجاج ریکارڈ کروایا گیا ہے۔
انڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس واقعے میں بین الاقوامی سمندری حدود میں پاکستانی نیوی کا جہاز انڈین بحریہ کے ایک جہاز کے ساتھ ٹکرایا ہے۔
تاہم انڈیا کا بھی مؤقف ہے کہ پاکستانی بحری جہاز کا طرزِ عمل اپریل 1991 میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان فوجی مشقوں، نقل و حرکت اور فوجی دستوں کی پیشگی اطلاع سے متعلق معاہدے کے آرٹیکل 10 کی براہِ راست خلاف ورزی تھا۔
وزارت خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈین حکام نے پاکستانی ناظم الامور کو ہدایت کی ہے کہ وہ متعلقہ پاکستانی حکام تک یہ پیغام پہنچائیں کہ دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدوں کا احترام کرتے ہوئے تمام فوجی یونٹس احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
انڈیا نے مزید کہا ہے کہ انھوں نے اسلام آباد میں تعینات اپنے ناظم الامور کو بھی ہدایت جاری کی گئی ہے کہ وہ پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے سامنے اسی نوعیت کا احتجاج ریکارڈ کروائیں۔
خبر رساں ادارے اے این آئی نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ واقعہ 15 ستمبر کی شب شمالی بحیرۂ عرب میں پیش آیا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ پاکستانی بحریہ کا جہاز ’تیز رفتاری سے انڈین بحریہ کی وار شپ سے ٹکرایا جو نگرانی کے معمول کے مشن پر موجود تھا۔‘
اگرچہ انڈین وارشپ کا نام نہیں بتایا گیا تاہم انڈین میڈیا نے اس واقعے میں پاکستانی بحریہ کی آف شور پیٹرول ویسل پی این ایس حنین کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔