’کہہ دو کہ کچھ نہیں ہوا تھا‘: انڈونیشین مدرسے کے سزا یافتہ استاد کی رہائی اور جنسی استحصال کا نشانہ بننے والی طالبات کا خوف

انڈونیشیا کے ایک اسلامی بورڈنگ سکول (مدرسے) میں ایک طالبہ کے ساتھ جنسی حملے کے جرم میں سزا یافتہ ایک استاد کو سزا مکمل ہونے سے پہلے جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ انکشاف بی بی سی آئی کی تحقیقات میں سامنے آیا ہے۔
A still of Ira partially facing the camera.
BBC
ایرا پہلی بار عوامی طور پر بیچی کے خلاف اپنے الزامات کے بارے میں بات کر رہی ہیں

انڈونیشیا کے ایک اسلامی بورڈنگ سکول (مدرسے) میں ایک طالبہ کے ساتھ جنسی حملے کے جرم میں سزا یافتہ ایک استاد کو سزا مکمل ہونے سے پہلے خفیہ طور پر جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ یہ انکشاف بی بی سی آئی کی تحقیقات میں سامنے آیا ہے۔

موچ صبحی ازال ثانی، جو ’بیچی‘ کے نام سے معروف ہے، ایک بااثر مذہبی رہنما کے بیٹے ہیں۔

ان کے مقدمے نے انڈونیشیا میں شدید ردِعمل پیدا کیا تھا، جہاں لاکھوں والدین اپنے بچوں کو اسلامی بورڈنگ سکولوں میں تعلیم کے لیے بھیجتے ہیں۔

بیچی کو 2022 میں مشرقی جاوا میں واقع اپنے والد کے مدرسے سے گرفتار کیا گیا تھا، جہاں وہ تدریس کرتے تھے۔ اس گرفتاری سے قبل تقریباً 15 گھنٹے تک محاصرہ جاری رہا تھا جس میں قریب ایک ہزار پولیس اہلکار شامل تھے، جبکہ ان کے خاندان کے حامیوں کی بڑی تعداد اس کی گرفتاری روکنے کے لیے جمع ہو گئی تھی۔ اسی سال انھیں سات سال قید کی سزا سنائی گئی۔

حکومت نے اس مدرسے کا لائسنس منسوخ کر دیا تھا، لیکن بعد میں اس وقت کے صدر جوکو ویدودو نے مداخلت کرتے ہوئے مدرسے کو بند ہونے سے بچا لیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ معاملہ ایک فرد سے متعلق ہے، ادارے سے نہیں۔

تاہم، ہماری تحقیقات میں 46 سالہ بیچی کے خلاف مزید الزامات سامنے آئے ہیں، اور ایسے شواہد بھی ملے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ مدرسے اور ان کے خاندان نے ان الزامات کو دبانے کی کوشش کی۔

بیچی کی رہائی ایسے وقت میں ہوئی جب خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق قومی کمیشن نے اسلامی بورڈنگ سکولوں میں جنسی تشدد کی صورتحال کو ’ہنگامی حالت‘ قرار دیا ہے۔

کمیشن کے مطابق مذہبی رہنماؤں کا اثر و رسوخ ان اداروں کو مؤثر نگرانی اور قانونی نتائج سے بچا رہا ہے، جبکہ طلبہ کو استحصال کی شکایات درج کرانے سے بھی روکا جاتا ہے۔

Bechi caught on film by BBC reporters who were undercover
BBC
بی بی سی کے خفیہ رپورٹرز نے رواں سال کے آغاز میں ایک تقریب کے دوران ویڈیو ریکارڈ کی تھی

جن طالبات نے بیچی کے خلاف جنسی استحصال یا ریپ کے الزامات عائد کیے تھے، ان میں سے صرف ایک نے قانونی مقدمے کی پیروی کی جس کے نتیجے میں وہ مجرم قرار پائے۔ اس طالبہ کی شناخت کبھی عوام کے سامنے ظاہر نہیں کی گئی۔

استغاثہ نے ریپ کے جرم میں اس کے لیے زیادہ سے زیادہ 16 سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا، لیکن عدالت نے بیچی کو ریپ کے الزام سے بری قرار دیا اور انھیں کم درجے کے جرم، یعنی جنسی استحصال میں قصوروار ٹھہرایا۔

بی بی سی کی خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی ویڈیو سے اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ انھیں اپنی سزا کا نصف عرصہ مکمل ہونے سے پہلے ہی رہا کر دیا گیا تھا۔

بیچی کو مارچ 2027 کے قریب پیرول کے لیے اہل ہونا تھا، یا پھر اپنی پوری سزا مکمل کرنے کے بعد 2029 میں رہا ہونا تھا۔

انڈونیشیا کی وزارتِ امیگریشن و اصلاحات نے بی بی سی کو بتایا کہ بیچی کو اگست 2025 میں ’قانون کے مطابق دی جانے والی سزا میں کمی‘ کے باعث رہا کیا گیا۔ تاہم وزارت نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ اس کی سزا میں کمی کیوں کی گئی۔

ایرا پسپیتاساری ایک اور طالبہ تھیں جنھوں نے مقدمے کے دوران گواہی دی تھی، لیکن ان کے الزامات کی بنیاد پر الگ سے کوئی مقدمہ قائم نہیں کیا گیا۔ انھوں نے پہلی بار عوامی طور پر بات کرنے کے لیے اپنی شناخت خفیہ رکھنے کے قانونی حق سے دستبرداری اختیار کی۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میرے ساتھ ایک غلام جیسا سلوک کیا جاتا تھا۔ مجھے قید رکھا گیا، میرا ریپ کیا گیا اور مجھے مارا پیٹا گیا۔‘

’میں کبھی نہیں بھول سکتی کہ انھوں نے مجھ سے کیا کہا تھا: ’کیا تمھیں احساس نہیں کہ تم صرف میری غلام ہو؟‘‘

مارچ میں ریکارڈ کی گئی خفیہ ویڈیو میں بیچی کو مسکراتے ہوئے اور اپنے حامیوں سے ملتے ہوئے دیکھنے کے بعد ایرا جذباتی ہو جاتی ہیں اور کہتی ہیں: ’ایسا لگتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔‘

ایرا نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ 15 سال کی تھیں تو اس وقت سے لے کر چار سال سے زیادہ عرصے تک بیچی ان کا ریپ اور جنسی استحصال کرتے رہے۔

ان کے مطابق انھوں نے فرار ہونے کی کوشش کی، لیکن بیچی کے نجی محافظوں نے انھیں تلاش کر لیا، اغوا کر کے ایک الگ تھلگ جھونپڑی میں لے گئے، جہاں بیچی نے انھیں تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کا ریپ کیا۔

ایرا کا کہنا ہے کہ بعد میں انھیں مدرسے سے نکال دیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ ان تمام واقعات کی اطلاع انھوں نے پولیس کو دی تھی، لیکن بعد میں انھیں اپنا مقدمہ واپس لینے کے لیے ڈرایا دھمکایا گیا۔

انھوں نے ایک آڈیو ریکارڈنگ بھی بی بی سی کو فراہم کی، جس میں بیچی کی والدہ انھیں یہ کہتی سنائی دیتی ہیں کہ ’کہہ دو کہ کچھ نہیں ہوا تھا۔‘

رواں سال جنوری میں، جب یہ خبریں سامنے آئیں کہ بیچی کو ممکنہ طور پر وقت سے پہلے رہا کر دیا گیا ہے، تو بی بی سی کے خفیہ رپورٹرز مشرقی جاوا کے شِدّیقیہ اسلامی بورڈنگ سکول میں منعقد ہونے والی سالانہ تقریب میں شریک ہوئے۔

رپورٹرز نے بیچی کو ماسک پہنے ہوئے اپنے والد کے ساتھ بیٹھا دیکھا۔ تاہم، ان کے سٹیج پر آنے سے کچھ دیر پہلے ویڈیو اور فوٹوگرافی پر پابندی لگا دی گئی، جو گذشتہ برسوں کے مقابلے میں ایک نمایاں تبدیلی تھی۔

اس کے بعد مارچ میں بی بی سی کے رپورٹرز نے ایک اور عید کی دعائیہ تقریب کے دوران، جو سکول کے احاطے میں واقع ان کے خاندانی گھر میں منعقد ہوئی تھی، خفیہ کیمرے سے دوبارہ بیچی کی موجودگی ریکارڈ کی۔

بی بی سی نے بیچی، اس کی والدہ اور شِدّیقیہ سکول سے مؤقف لینے کی کوشش کی، لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

جن طالبات نے مقدمے میں گواہی دی تھی، جن میں وہ لڑکی بھی شامل تھی جس کے ساتھ ریپ کے جرم میں بیچی کو سزا سنائی گئی تھی، انھیں گواہوں کے تحفظ کے پروگرام میں شامل کیا گیا تھا، اور انڈونیشیا کے قانون کے مطابق انھیں بیچی کی رہائی کے بارے میں آگاہ کیا جانا چاہیے تھا۔

لیکن ایرا اور ایک دوسری سابق طالبہ، جنھوں نے گواہی دی تھی، نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ بیچی کی خفیہ ویڈیو دیکھ کر وہ حیران رہ گئیں، کیونکہ ان کا خیال تھا کہ وہ اب بھی جیل میں ہے۔

وزارت نے کہا کہ متاثرین کو مطلع کرنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ بیچی اب بھی پیرول پر ہے، لیکن گواہوں کے تحفظ کے ادارے نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ متاثرین کو اس کی رہائی کے بارے میں آگاہ کرنا ضروری تھا۔

آیو ماسوروہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ بیچی نے ان کے ساتھ کبھی استحصال نہیں کیں، لیکن انھوں نے ان کے خلاف الزامات کی تحقیقات اس وقت شروع کیں جب انھوں نے اپنی ساتھی طالبات سے ان کے بارے میں سنا۔ وہ سکول کے قریب رہتی ہیں اور کہتی ہیں کہ بیچی کی رہائی نے انھیں خوفزدہ کر دیا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’وہ مجھ سے نفرت کرتا ہے۔ اس کے حامی مجھے کئی بار قتل کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ میں یہاں کبھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کروں گی۔ مجھے انڈونیشیا میں رہتے ہوئے بھی تحفظ کا احساس نہیں ہوتا۔‘

پہلی بار عوامی طور پر بات کرتے ہوئے انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے کم از کم 10 دوسری طالبات کے بیانات جمع کیے تھے، جن سب کا الزام تھا کہ بیچی نے ان کے ساتھ جنسی استحصال یا ریپ کیا۔

ان کے مطابق بعض طالبات نے بتایا کہ بیچی ان سے کہتا تھا کہ وہ ’منتخب‘ کی گئی ہیں، جبکہ ایک طالبہ نے کہا کہ بیچی نے اسے ’ذاتی انٹرویو‘ کے بہانے بلایا اور پھر اس کا ریپ کی۔

بی بی سی کے حاصل کردہ عدالتی ریکارڈ کے مطابق، یہ تمام بیانات بند کمرے میں چلنے والی عدالتی کارروائی کا حصہ تھے، جن میں سکول میں برسوں تک جاری مبینہ جنسی استحصال کے الزامات شامل تھے۔

A still of Ira and Ayu talking to each other.
BBC
ایرا اور آیو، دونوں نے بیچی کے مقدمے میں گواہی دی تھی، اور ان کا کہنا ہے کہ انھیں اس کی قبل از وقت رہائی کا علم اس وقت تک نہیں تھا جب تک انھوں نے بی بی سی کی ریکارڈ کردہ ویڈیو نہیں دیکھی

نون سیوتی، جو پہلے اس مدرسے کے وکیل تھے لیکن بعد میں اسے چھوڑ کر طالبات کی حمایت کرنے لگے، کہتے ہیں کہ بیچی کی قبل از وقت رہائی پر وہ ’شدید مایوس‘ ہیں۔

ان کے مطابق یہ ’متاثرین کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے اس معاملے کو سامنے لانے کے لیے ایک طویل اور مشکل قانونی عمل کا سامنا کیا تھا۔‘

انھوں نے بھی مقدمے میں گواہی دی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ریپ کے الزامات پہلی بار سامنے آئے تو بیچی نے انھیں ہدایت کی کہ وہ اس معاملے کو دبا دیں۔ لیکن جب انھوں نے الزامات کی تحقیقات شروع کیں تو انھیں احساس ہوا کہ وہ غلط فریق کا دفاع کر رہے ہیں اور انھیں معلوم ہو گیا کہ اب انھیں ’درست مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔‘

اس کے بعد نون نے شواہد جمع کرنا شروع کیے اور مدرسہ چھوڑنے سے پہلے خفیہ طور پر بیچی کی ایک گفتگو ریکارڈ کی۔ بی بی سی کی سنی گئی اس ریکارڈنگ میں بیچی کہتے ہیں ’میں جس کے ساتھ چاہوں اپنی مرضی کر سکتا ہوں۔‘

خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق قومی کمیشن نے مئی میں جاری ایک بیان میں خبردار کیا تھا کہ حالیہ برسوں میں انڈونیشیا میں سامنے آنے والے ایسے واقعات شاید اصل مسئلہ کا ایک معمولی سا عکس ہیں۔

کمیشن کے مطابق بہت سے تعلیمی اداروں میں طلبہ اور طالبات مناسب حفاظتی نظام نہ ہونے کی وجہ سے استحصال کی شکایات درج نہیں کروا پاتے۔ اس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نگرانی کا نظام مزید مضبوط بنایا جائے اور سخت سزائیں متعارف کرائی جائیں تاکہ مذہبی رہنما بلا روک ٹوک اختیارات استعمال نہ کر سکیں۔

بیچی کا معاملہ انڈونیشیا کے نمایاں ترین جنسی استحصال کے سکینڈلز میں شمار ہوتا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ اس کے والد کا سیاسی اور سماجی اثر و رسوخ ہے۔

کیاہی مختار معطیٰ اسلامی تعلیمات کو انڈونیشین قوم پرستی پر زور دینے کے ساتھ جوڑتے ہیں، اور مشرقی جاوا میں ان کا قائم کردہ مدرسہ ایک بڑے تعلیمی و مذہبی مرکز کا حصہ ہے، جس کے ہزاروں وفادار پیروکار ہیں۔

2022 میں گرفتاری کے وقت بیچی کم از کم ایک دہائی سے اس مدرسے میں تدریسی خدمات انجام دے رہا تھا۔

اس کی گرفتاری کے باوجود عوامی سطح پر خاصی مخالفت دیکھنے میں آئی۔ سینکڑوں طلبہ اور حامی مدرسے کے دروازوں کے پیچھے جمع ہو گئے تاکہ پولیس کو اندر داخل ہونے سے روکا جا سکے۔

وہ شانہ بشانہ کھڑے تھے، مکے فضا میں بلند کر رہے تھے اور نعرے لگا رہے تھے کہ وہ مدرسے کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں۔

Bechi photographed at the time of arrest in 2022
ANTARAFOTO/Didik Suhartono
بیچی کو 2022 میں گرفتار کیا گیا تھا، اور اس کے کچھ ہی عرصے بعد اس پر مقدمہ چلا کر انھیں مجرم قرار دے دیا گیا تھا

برسوں تک مختار اور ان کے مدرسے، نیز اس سے منسلک شدیقیہ کمپلیکس، نے ایسے عوامی رہنماؤں کو اپنی طرف متوجہ کیا جو ایک اہم سیاسی میدان میں حمایت حاصل کرنا چاہتے تھے۔

2014 میں صدارتی امیدوار جوکو ویدودو نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اس مقام کا دورہ کیا تھا۔ پانچ سال بعد ان کے جانشین پرابوو سوبیانتو نے بھی یہی کیا۔

گذشتہ سال اگست میں انڈونیشیا کے قومی پولیس سربراہ نے مدرسے کا دورہ کیا اور مختار سے ملاقات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ شدیقیہ کے ساتھ مزید قریبی تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔

ایرا کا کہنا ہے کہ خاندان کا اثر و رسوخ اور طاقت ہی وہ عوامل تھے جن کی وجہ سے وہ بیچی کے خلاف اپنے الزامات واپس لینے پر آمادہ ہوئیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا، ’میں بہت خوفزدہ تھی‘، اور مزید کہا کہ صورتحال اس وقت مزید خراب ہو گئی جب بیچی کے حامیوں نے انھیں قتل کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔

ایرا کے مطابق جون 2018 میں انھیں اور ان کے والد کو مدرسے کے قریب ایک ہوٹل میں بلایا گیا، جہاں ان کی ملاقات بیچی کی والدہ نیائی شوفواتل امہ سے ہوئی۔

ایرا نے خفیہ طور پر اس گفتگو کو ریکارڈ کیا اور بعد میں بی بی سی کے ساتھ شیئر کیا۔ اس ریکارڈنگ میں بیچی کی والدہ کہتی ہیں کہ ان کے بیٹے نے ’غلطیاں کی تھیں، شاید ایرا کے ساتھ اپنے تعلق میں۔ اس لیے میں معذرت کرتی ہوں۔‘

اس کے بعد وہ ایرا سے پولیس رپورٹ واپس لینے کا مطالبہ کرتی ہیں اور کہتی ہیں، ’کچھ نہیں ہوا، یہ صرف خاندانی معاملہ ہے۔‘

ایرا کا کہنا ہے کہ اپنی جان کے خوف کی وجہ سے انھوں نے ایک بیان پر دستخط کر دیے جس میں انھوں نے اپنے الزامات واپس لے لیے، لیکن اب انھیں اس فیصلے پر افسوس ہے۔

جب مقدمہ عدالت میں گیا تو ایرا کے مطابق ان سے گھنٹوں پوچھ گچھ کی گئی۔

وہ کہتی ہیں، ’انھوں نے مجھ سے بہت گہرے اور تکلیف دہ سوالات کیے۔ میں نے عدالت کو سب کچھ بتا دیا تھا۔‘

اب بیچی کو جیل سے باہر دیکھنے والی ویڈیو دیکھ کر وہ کہتی ہیں، ’ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ جیت گیا ہے اور میں ہار گئی ہوں۔‘

’یہ بہت ضروری ہے کہ دنیا سچ جان لے۔ یہ حقیقت ہے، وہ آزاد ہے۔ یہ قانون کا مکمل مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US