پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کوچ مائیک ہیسن نے جہاں ایشین گیمز میں ٹیم کی بہتر کارکردگی کی امید ظاہر کی ہے تو وہیں اپنی کارکردگی کا دفاع بھی کیا ہے۔ ایشین گیمز کے لیے پاکستانی ٹیم میں شاہین شاہ آفریدی یا بابر اعظم جیسے نام نہیں۔ اس ٹورنامنٹ میں پاکستان اور انڈیا کی ٹیموں کے مدمقابل ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے جہاں ایشین گیمز میں ٹیم کی بہتر کارکردگی کی امید ظاہر کی ہے تو وہیں انھوں نے اپنی کارکردگی کا دفاع بھی کیا ہے۔
بدھ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ٹیسٹ ٹیم کی خراب کارکردگی کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کا حالیہ ٹی ٹوئنٹی ریکارڈ بھی خراب ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ون پرسینٹیج کے اعتبار سے ہماری ٹی ٹوئنٹی ٹیم نے گذشتہ 15 ماہ میں دنیا کی تیسری یا چوتھی بہترین ٹیم جیسی کارکردگی دکھائی ہے۔‘
پاکستان صاحبزادہ فرحان کی کپتانی میں 24 ستمبر سے شروع ہونے والے ایشین گیمز کرکٹ ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہا ہے جس میں اس کا پہلا میچ 28 ستمبر کو کھیلا جائے گا۔ ایشین گیمز کے لیے پاکستانی ٹیم میں شاہین شاہ آفریدی یا بابر اعظم جیسے نام نہیں شامل نہیں ہیں۔
اس ٹورنامنٹ میں پاکستان اور انڈیا کی ٹیموں کے مدمقابل ہونے کا امکان بھی موجود ہے۔
’میں آپ کو یہیں روکوں گا۔۔۔‘ مائیک ہیسن نے آخر کہا کیا؟
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کوچ مائیک ہیسن کا کہنا تھا کہ ایشین گیمز کے لیے سکواڈ کا انتخاب اولمپک پلیئنگ کنڈیشنز کے تحت قریب پانچ ماہ قبل کیا گیا۔ ’یہ جارحانہ انداز کی ٹیم ہے جس میں نئے ٹیلنٹ کو دیکھنے کا موقع ملے گا۔ اگر کنڈیشنز سازگار ہوئیں تو ہمارے پاس کئی جارحانہ بلے باز ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ انڈین ٹیم وائٹ بال میں مثالی کارکردگی دکھا رہی ہے اور ’ہمیں ان کے برابر پہنچنے کا چیلنج درپیش ہے۔ ہم بھرپور انداز میں تیاری کر رہے ہیں اور اگر مقابلہ ہوا تو ہم ان پر دباؤ ڈالیں گے، جیسے ہم نے ایشیا کپ فائنل میں کیا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ایشین گیمز فائنل تک پہنچنے کے لیے پاکستان اور انڈیا دونوں کو کئی میچز جیتنے ہوں گے۔
پاکستان صاحبزادہ فرحان کی کپتانی میں 24 ستمبر سے شروع ہونے والے ایشین گیمز کرکٹ ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہا ہے جس میں اس کا پہلا میچ 28 ستمبر کو کھیلا جائے گااس ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم کی کپتانی صاحبزادہ فرحان کو سونپی گئی ہے۔ اس بارے میں مائیک ہیسن کا کہنا تھا کہ صاحبزادہ فرحان کے پاس تجربہ حاصل کرنے کا اچھا موقع ہے مگر آیا وہ 2028 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی پاکستان کی کپتانی کریں گے، اس کا فیصلہ سلیکشن کمیٹی کو کرنا ہوگا۔
جب ایک صحافی نے ان سے پاکستانی ٹیم کی خراب کارکردگی پر سوال کیا تو انھوں نے صحافی کو ٹوکتے ہوئے کہا 'میں آپ کو یہیں روکوں گا۔ ظاہر ہے ٹیسٹ ٹیم مشکل میں ہے، ہمیں سب کو معلوم ہے۔ مگر ون پرسینٹیج کے اعتبار سے ہماری ٹی ٹوئنٹی ٹیم نے گذشتہ 15 ماہ میں دنیا کی تیسری یا چوتھی بہترین ٹیم جیسی کارکردگی دکھائی ہے۔
’ہم کئی مواقع پر انڈیا سے ہارے ہیں جو کہ پاکستانی شائقین کے لیے اصل معیار ہے اور ہم اسے سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن یہ کہنا درست نہیں کہ ٹی ٹوئنٹی ٹیم کی کارکردگی اچھی نہیں ہے۔ جب میں آیا تھا تو ٹی ٹوئنٹی ٹیم آٹھویں نمبر پر تھی۔ اب ہم پانچویں نمبر پر ہیں۔ ہم 30 پوائنٹ اوپر گئے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان صرف اپنے ملک میں ہی نہیں بلکہ دبئی وغیرہ میں بھی سیریز جیتا ہے۔ ’تینوں فارمیٹس کو ایک طرح دیکھنا درست نہیں۔‘
مائیک ہیسن نے کہا کہ پاکستانی کرکٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے ’حقائق استعمال کریں، جذبات نہیں۔‘
انھوں نے اپنی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’ایشیا کپ تک پاکستان پچھلے تین ایونٹس میں پہلے راؤنڈ سے آگے نہیں بڑھ سکا تھا، کوارٹر فائنل تک بھی نہیں پہنچ سکا تھا۔‘
پاکستانی کوچ نے کہا کہ ’ایشیا کپ میں ہم انڈیا کے سوا ہر میچ جیتے۔ ہم فائنل میں انڈیا سے ہارے جو کہ ہم سے بہتر ٹیم تھی۔‘
’ہم ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کوارٹر فائنل تک پہنچے مگر انگلینڈ سے دو گیندوں سے ہارے اور وہ فائنل تک پہنچے تھے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں بارش ہو گئی تھی۔ ہم انڈیا سے بھی ہارے مگر اس کے علاوہ ہر میچ جیتے۔‘
مائیک ہیسن نے کہا کہ ’ہماری پاکستان سے امیدیں بہت زیادہ ہونی چاہییں لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم ایک موقع پر آٹھ بہترین ٹیموں میں بھی نہ پہنچ پا رہے ہوں اور اس کے بعد اچانک ہر میچ جیتنے لگیں۔‘
’مائیک ہیسن کسی اور ہی دنیا میں رہ رہے ہیں‘
سوشل میڈیا پر کئی صارفین مائیک ہیسن کے بیان پر ردعمل دے رہے ہیں۔
جیسے کرکٹ تجزیہ کار اور براڈکاسٹر ڈاکٹر نعمان نیاز نے کہا کہ مائیک ہیسن ’ایک الگ ہی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ آج ان کی پریس کانفرنس نے ایک تضاد پیدا کر دیا۔ ایک طرف ان کی اپنی حقیقت اور دوسری طرف حقیقی حالات۔
’مجھے یقین ہے کہ جو بھی ان کی پیروی کرے گا، وہ حقیقی تصاویر کے بجائے صرف سائے کا تعاقب کرے گا۔ ان کے گرد کی دنیا سمٹتی جا رہی ہے، تاہم وہ اب بھی خود کو تیرتا ہوا اور بلند مقام پر محسوس کرتے ہیں۔‘
عروج جاوید کی رائے تھی کہ پاکستان کی کارکردگی پر مائیک ہیسن کے دعوے نے ’سب کو چونکا دیا ہے۔‘
جبکہ حامد رضا نے ایکس پر پیغام میں لکھا کہ ’مائیک ہیسن کسی اور ہی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بہت بہتر ٹیم بن چکے ہیں۔۔۔ لیکن حقیقت میں ہم انڈیا، انگلینڈ یا نیوزی لینڈ جیسی کسی بھی ٹیم کے خلاف ایک بھی ٹی ٹوئنٹی نہیں جیت سکے۔‘
ادھر آمنہ ملک نامی صارف نے ہیسن کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’ہیسن نے یہاں ایک اہم فرق واضح کیا ہے۔ ٹی ٹوئنٹی، ایک روزہ اور ٹیسٹ کرکٹ تین مختلف کہانیاں ہیں اور ان سب کا جائزہ ایک ہی زاویے سے نہیں لیا جانا چاہیے۔‘

ایشین گیمز کرکٹ: 10 ٹیمیں ’پاکستان جیسی‘ پچ پر مدمقابل
جاپان کے شہر ناگویا میں ایشین گیمز کرکٹ کے چوتھے ایڈیشن میں مردوں کا ٹورنامنٹ 24 ستمبر سے شروع ہو رہا ہے اور فائنل 3 اکتوبر کو کھیلا جائے گا۔
انڈیا ان مقابلوں کا دفاعی چیمپیئن ہے جس نے 2022 میں کانسی کے تمغے جیتے تھے۔
اولمپکس کے بعد دنیا کے دوسرے بڑے کھیلوں کے مقابلے ایشین گیمز کو ہر چار سال بعد منعقد کیا جاتا ہے جس میں 45 ممالک کے کھلاڑی 40 سے زیادہ کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں۔
یہ گذشتہ پانچ ایڈیشنز میں چوتھی مرتبہ ہو گا کہ کرکٹ ایشین گیمز کا حصہ ہو گی۔ کرکٹ کو پہلی بار 2010 میں ایشین گیمز میں شامل کیا گیا تھا۔
پاکستان خواتین کے مقابلوں میں دو بار (2010 اور 2014) گولڈ میڈل جیت چکا ہے جبکہ بنگلہ دیش (2010)، سری لنکا (2014) اور انڈیا (2022) مردوں کے مقابلوں میں ایک ایک بار چیمپیئن رہے ہیں۔ افغانستان مسلسل تین سلور میڈل جیتنے کے بعد اس بار ایک قدم آگے بڑھنے کی امید رکھتا ہے۔
مردوں کے مقابلوں میں 10 ٹیمیں دو مراحل پر مشتمل ٹورنامنٹ کھیلیں گی۔ پہلے مرحلے میں کم درجہ بندی والی چھ ٹیموں کو تین، تین ٹیموں کے دو گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر گروپ کی ٹاپ دو ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچیں گی۔
افغانستان، میزبان جاپان اور نیپال گروپ اے میں شامل ہیں جبکہ ہانگ کانگ، ملائیشیا اور عمان گروپ بی میں حصہ لیں گے۔
انڈیا، سری لنکا، پاکستان اور بنگلہ دیش کو پہلے مرحلے سے استثنیٰ حاصل ہے اور وہ براہِ راست کوارٹر فائنل مرحلے میں پہنچیں گے۔
مردوں کے کوارٹر فائنلز 28 ستمبر سے شروع ہوں گے، جب انڈیا گروپ اے کی رنر اپ ٹیم کے خلاف کھیلے گا جبکہ پاکستان کا سامنا گروپ بی کی رنر اپ ٹیم سے ہو گا۔
29 ستمبر کو سری لنکا گروپ اے کی فاتح ٹیم سے کھیلے گا جبکہ بنگلہ دیش گروپ بی کی فاتح ٹیم کا سامنا کرے گا۔
سیمی فائنلز یکم اکتوبر کو منعقد ہوں گے جبکہ کانسی اور سونے کے تمغوں کے فائنل دو روز بعد کھیلے جائیں گے۔
ایشین گیمز کرکٹ ٹورنامنٹ کے میچز نشین کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلے جائیں گے جو کہ ناگویا کے مضافات میں واقع کوروگی سپورٹس پارک کے وسط میں واقع ہے۔
آئی سی سی کے مطابق اس گراؤنڈ کی پِچ 'ہائبرڈ سرفیس' ہے جس کی خصوصیات پاکستانی پچز سے ملتی جلتی ہیں جہاں گیند میں باؤنس اور ٹرن ہوتا ہے۔
میدان میں عارضی سٹینڈز بھی نصب کیے گئے ہیں جو 2000 شائقین کی گنجائش رکھتے ہیں۔