آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے نوجوان طالب علم راجہ محمد اسامہ نے اپنی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے اور والدین پر مالی بوجھ کم کرنے کے لیے اسلام آباد کے مرکز آئی ایٹ میں رات کے وقت کافی فروخت کرنے کا منفرد سلسلہ شروع کر دیا، جو نہ صرف کامیابی سے جاری ہے بلکہ وہاں سے گزرنے والے شہریوں اور طلبہ کے لیے بھی محنت، خودداری اور حلال رزق کی ایک خوبصورت مثال بن گیا ہے۔
راجہ محمد اسامہ ماسٹرز کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور ان کا تعلق سات بہن بھائیوں پر مشتمل خاندان سے ہے۔ ان کے والد ریٹائر ہو چکے ہیں، جبکہ موجودہ دور میں اعلیٰ تعلیم کے اخراجات بھی خاصے بڑھ چکے ہیں۔ ایسے حالات میں انہوں نے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے یا صرف ملازمت کی تلاش میں دفاتر کے چکر لگانے کے بجائے اپنے لیے روزگار کا ایک منفرد راستہ تلاش کیا۔
راجہ محمد اسامہ نے بتایا کہ انہیں یہ خیال بنگلہ دیش کے چند نوجوانوں کو دیکھ کر آیا، جو اپنی تعلیمی ضروریات پوری کرنے کے لیے سڑکوں اور مختلف مقامات پر کافی فروخت کرتے تھے۔ اسی تصور کو انہوں نے پاکستان میں عملی شکل دینے کا فیصلہ کیا اور کافی فروخت کرنے کی اپنی کِٹ راولپنڈی کے راجہ بازار سے تیار کروائی۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدا میں یہ ایک چھوٹا سا تجربہ تھا، تاہم اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ سلسلہ کامیاب ہوتا گیا۔ اب وہ رات کے اوقات میں آئی ایٹ مرکز میں کافی فروخت کرتے ہیں اور اس آمدن سے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کر رہے ہیں۔ شہری بھی ان کے جذبے، محنت اور خودداری کو سراہتے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
راجہ محمد اسامہ کا کہنا ہے کہ “میں نہیں چاہتا تھا کہ اپنی ضروریات کے لیے گھر والوں پر مزید بوجھ بنوں۔ میں نے سوچا کہ کیوں نہ کوئی ایسا کام شروع کیا جائے جس سے عزت کے ساتھ حلال رزق بھی کمایا جا سکے اور اپنی تعلیم کے اخراجات بھی پورے کیے جا سکیں۔”
انہوں نے نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آج بہت سے نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے گھروں میں بیٹھے ہیں اور نوکری کی تلاش میں مختلف دفاتر کے چکر لگاتے ہیں۔ مسلسل ناکامی کے باعث کئی نوجوان مایوس بھی ہو جاتے ہیں، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلیں اور اپنی صلاحیتوں کو عملی میدان میں استعمال کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ “نوجوان صرف سرکاری یا پرائیویٹ نوکری کے انتظار میں نہ رہیں، بلکہ اپنے اردگرد کے حالات کا جائزہ لیں، مارکیٹ کو سمجھیں اور کوئی چھوٹا سا کاروبار شروع کریں۔ اگر میں طالب علم ہوتے ہوئے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے یہ کام کر سکتا ہوں تو دوسرے نوجوان بھی اپنی صلاحیت اور حالات کے مطابق کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکال سکتے ہیں۔”
راجہ محمد اسامہ نے کہا کہ حلال رزق کمانے میں کسی کام کو چھوٹا نہیں سمجھنا چاہیے، اصل چیز محنت، نیت اور خودداری ہے۔ اللہ تعالیٰ رزق دینے والا ہے، انسان کو صرف کوشش اور جدوجہد کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان کی یہ چھوٹی سی کوشش مستقبل میں مزید ترقی کرے گی اور وہ نہ صرف اپنی تعلیم مکمل کرنے میں کامیاب ہوں گے بلکہ دوسرے نوجوانوں کے لیے بھی عملی مثال بن سکیں گے۔
راجہ محمد اسامہ کا یہ سفر اس حقیقت کا عکاس ہے کہ کامیابی ہمیشہ بڑے دفتر، بڑی ملازمت یا بڑے سرمائے سے شروع نہیں ہوتی؛ کبھی کبھی ایک چھوٹی سی کافی کی کِٹ، محنت کرنے والے ہاتھ اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین بھی انسان کے لیے نئی راہوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔
ان کا نوجوانوں کے نام آخری پیغام تھا: ”گھروں سے باہر نکلیں، میدانِ عمل میں آئیں، اپنی صلاحیتوں کو آزمائیں، حلال رزق کمائیں اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین رکھیں۔“