آئرلینڈ کے گول کیپر گیون بازونو نے اسرائیل کے خلاف فٹبال میچ کا بائیکاٹ کیا ہے تاہم دیگر کھلاڑی اتوار کو ہنگری میںنیشنز لیگ کے اس میچ کا بائیکاٹ نہیں کریں گے بلکہ وہ ’غزہ تنازع میں جان گنوانے والے تمام افراد کی یاد میں‘ سیاہ پٹیاں باندھیں گے۔
اسرائیلی فٹبالر سید ابو فرچی کو آسٹریا کے خلاف میچ میں گول کا جشن مناتے ہوئے کارنر فلیگ اٹھانے پر میدان سے باہر بھیج دیا گیا تھاآئرلینڈ کے گول کیپر گیون بازونو نے اسرائیل کے خلاف فٹبال میچ کا بائیکاٹ کیا ہے تاہم دیگر کھلاڑی اتوار کو ہنگری میںنیشنز لیگ کے اس میچ کا بائیکاٹ نہیں کریں گے بلکہ وہ ’غزہ تنازع میں جان گنوانے والے تمام افراد کی یاد میں‘ سیاہ پٹیاں باندھیں گے۔
فٹبال ایسوسی ایشن آف آئرلینڈ (ایف اے آئی) کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ کوریل نے تصدیق کی کہ ایک کھلاڑی میچ سے پہلے سکواڈ سے دستبردار ہو گیا ہے۔
تاہم انھوں نے مزید کہا کہ سکواڈ میں ہونے والی رائے شماری میں کھیلنے کے حق میں ’واضح اکثریت‘ نے ووٹ دیا ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ جب نیشنز لیگ میں اسرائیل اور آسٹریا کے درمیان میچ میں تنازع ہوا تھا۔ اسرائیلی فٹبالر سید ابو فرچی کو آسٹریا کے خلاف میچ میں گول کا جشن مناتے ہوئے کارنر فلیگ اٹھانے پر میدان سے باہر بھیج دیا گیا تھا۔
آئرلینڈ کے اسرائیل کے خلاف میچ کے بارے میں کوریل نے کہا کہ کھلاڑی ابتدائی میچ اور اگلے اتوار دوبارہ اسرائیل کے خلاف سربیا میں میچ سے متعلق ایسے دیگر اقدامات کا ارادہ رکھتے ہیں۔
جب سے دونوں ٹیموں کا گروپ بی تھری میں ایک دوسرے کے خلاف مقابلہ طے ہوا تب سے یہ متنازع رہا ہے۔
جمہوریہ آئرلینڈ کے کھلاڑیوں سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ وہ اسرائیل کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کریں۔ ’سٹاپ دی گیم‘ نے بھی فلسطین کے حق میں اس حوالے سے مہم چلائی تھی۔
کوریل نے سنیچر کو اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ان کے مطالبات میں سے ایک یہ ہے کہ اس ونڈو کے باقی عرصے کے لیے ان کی میڈیا ذمہ داریاں ختم کر دی جائیں۔‘
’ان کا یہ بھی ارادہ ہے کہ وہ غزہ تنازع میں جان گنوانے والے تمام افراد کی یاد میں سیاہ پٹیاں پہنیں گے۔‘
’میچ سے پہلے ہونے والی تقریب کے کچھ حصے ایسے ہوں گے جن میں آئرلینڈ جمہوریہ شرکت نہیں کرے گا اور کھلاڑیوں کا یہ بھی ارادہ ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف میچ کی فیس اور جمعرات کو آسٹریا کے خلاف میچ کی فیس سے خیراتی عطیات میں ایک نمایاں حصہ دیں گے۔‘
بعض کھلاڑی میچ نہ کھیلنے پر بضد
سنیچر کی صبح حقیقی طور پر یہ شبہ پیدا ہو گیا تھا کہ آیا یہ میچ ہوگا بھی یا نہیں۔
منیجر ہیمر ہالگریمسن اور ایک کھلاڑی کی پری میچ پریس کانفرنس آغاز سے صرف 15 منٹ پہلے ملتوی کر دی گئی اور رپورٹرز کو بتایا گیا کہ یہ ٹیم کے تربیتی سیشن کے بعد ہوگی جس میں مزید تاخیر کر دی گئی تھی۔
کھلاڑی اپنے ہوٹل میں ایک اجلاس میں مصروف تھے۔ اس وقت یہ پیشرفت سامنے آئی کہ گول کیپر گیون بازونو احتجاجاً میچ سے دستبردار ہو گئے ہیں اور چند دیگر کھلاڑیوں نے بھی میدان میں اترنے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تقریباً 13:00 بجے کھلاڑی اجلاس کے کمرے سے نکلنا شروع ہوئے، جس کے بعد تصدیق کی گئی کہ پریس کانفرنس واقعی ہوگی اور 14:30 بجے ناگیردئی سٹیڈیم میں منعقد کی جائے گی، جس کے بعد تربیت ہوگی۔
تاہم بعد ازاں کوریل نے اعلان کیا کہ کھلاڑیوں کی رائے شماری میں کھیلنے کا فیصلہ ’واضح اکثریت‘ سے منظور ہوا ہے۔
کوریل نے کہا کہ ’آج صبح ایک کھلاڑی نے اس میچ کے حوالے سے اپنی بے اطمینانی ظاہر کی اور دستبردار ہونے کے ارادے سے آگاہ کیا۔
’اس نئی صورتحال نے باقی سکواڈ کو غور و فکر کے لیے وقت دیا اور اس کے بعد مزید چار گھنٹے تک بات چیت جاری رہی۔‘
’بہت سے مؤقف پیش کیے گئے اور ایسوسی ایشن ہر شخص کے اپنے نقطۂ نظر کے حق کا مکمل احترام کرتی ہے۔‘
سنیچر کی رات بعد میں بازونو نے سوشل میڈیا پر اپنی وضاحت جاری کی اور کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ ’آسانی سے نہیں کیا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’میں مضبوط ایمان رکھنے والا شخص ہوں اور اپنی پوری کوشش کرتا ہوں کہ کردار اور اصولوں کا حامل انسان بنوں، اس لیے مجھے محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل کے خلاف آنے والے میچوں میں شرکت کرنا غلط ہوگا۔
’میرا فیصلہ خالصتاً اس ذاتی یقین پر مبنی ہے کہ معصوم لوگوں کا قتل غلط ہے۔
’یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ میرا مؤقف اسرائیلی عوام یا یہودی برادری کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں ہونے والے مظالم کے خلاف ہے۔
’زندگی میں بہت کم مواقع آتے ہیں جب آپ کسی بڑے مقصد کے لیے کھڑے ہو سکیں اور مجھے مضبوط یقین ہے کہ یہ ان میں سے ایک ہے۔‘
کوریل نے تصدیق کی کہ ایک کھلاڑی احتجاجاً اسرائیل کے خلاف میچ کے باعث آئرلینڈ کے سکواڈ سے نکل گیا ہے’یہ ایسی صورتحال ہے جس میں آپ جیت نہیں سکتے‘
آئرلینڈ کے سابق مینیجر برائن کیر اور سابق بین الاقوامی کھلاڑی جیمز میک کلین ان افراد میں شامل ہیں جنھوں نے ان مقابلوں کے بائیکاٹ کے مطالبات کی حمایت کی ہے۔
فلسطینی مسلح گروپ حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا، جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 251 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے غزہ میں وسیع فوجی کارروائی شروع کی، جس کے دوران حماس کے زیر انتظام وزارتِ صحت کے مطابق 73,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ ان اعداد و شمار کو قابلِ اعتماد سمجھتی ہے۔
ہالگریمسن نے کہا کہ کوئی بھی ’اس دباؤ‘کو نہیں سمجھ سکتا جس سے کھلاڑی گزر رہے ہیں۔
سنیچر کے روز طویل اجلاس ’ایک کھلاڑی کی جانب سے میچ کھیلنے کے بارے میں رائے تبدیل کرنے کی وجہ سے ہوا۔‘
انھوں نے تصدیق کی کہ ’باقی تمام کھلاڑی آج ٹریننگ کر رہے ہیں۔‘
’اس بائیکاٹ کے بعد کھیلنے کے حق میں توازن تبدیل ہو گیا اور ظاہر ہے کہ اس پر مسلسل بات چیت جاری تھی۔ لیکن ہم ایک نتیجے پر پہنچ گئے ہیں اور میچ ہوگا۔
ہالگریمسن نے مزید کہا کہ ’کوئی بھی مطمئن نہیں ہے۔ لیکن ہمیں ایسا حل تلاش کرنا ہے جو ذاتی طور پر بھی اور آئرش فٹبال کے لیے بھی نقصان کو کم سے کم کرے۔
’ہم جو بھی اقدام کریں گے، سب اس سے متفق نہیں ہوں گے۔ اس لیے ہمیں اپنے گروپ، آئرلینڈ بطور قوم اور آئرلینڈ میں فٹبال کی ایسوسی ایشن کے لیے نقصان کو محدود کرنے والا حل تلاش کرنا ہوگا۔
’ہمیں معلوم نہیں کہ اگر ہم میچ نہ کھیلیں تو اس کے کیا نتائج ہوں گے، لیکن بہت سے کھلاڑی ایک مشترکہ احساس رکھتے ہیں، اس لیے دو ہی راستے ہیں اور دونوں مشکل ہیں۔ یہ ایسی صورتحال ہے جس میں آپ جیت نہیں سکتے۔‘
آئرش حکومت کے ایک ترجمان نے اصرار کیا کہ ان مقابلوں کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ مکمل طور پر ایف اے آئی اور یوئیفا کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔
فٹبال جیت گیا ہے: اسرائیل فٹبال ایسوسی ایشن
اسرائیل فٹبال ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر آف کمیونیکیشنز نے تصدیق کی کہ وہ آسٹریا کے خلاف میچ میں سید ابو فرچی کو دکھائے گئے ریڈ کارڈ کے خلاف اپیل کریں گےاسرائیل فٹبال ایسوسی ایشن کے ترجمان شلومی بارزل نے آئرلینڈ کی ٹیم کے کھیلنے کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’فٹبال جیت گیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’فٹبال اور سیاست کے درمیان علیحدگی برقرار رہنی چاہیے، کوئی اور طریقہ انتشار پیدا کرے گا۔‘ انھوں نے تصدیق کی کہ اسرائیلی کھلاڑی میچ سے پہلے مصافحہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
’آئرش فٹبال ایسوسی ایشن اور قومی ٹیم کے کھلاڑیوں نے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے درست فیصلہ کیا، چاہے اس میں مناسب وقت سے کچھ زیادہ دیر لگی۔‘
دریں اثنا اسرائیل فٹبال ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر آف کمیونیکیشنز نے تصدیق کی کہ وہ آسٹریا کے خلاف میچ میں سید ابو فرچی کو دکھائے گئے ریڈ کارڈ کے خلاف اپیل کریں گے۔
بارزل کے مطابق ابو فرچی نے گول کے جشن میں بندوق چلانے کی نقل نہیں کی تھی بلکہ ’سنوکر کے کھلاڑی کی نقل کی تھی، جیسا کہ لیجنڈری کین ڈوہرٹی کرتے ہیں۔‘