ایشین گیمز 2026 کے کرکٹ مقابلوں میں پاکستان اور انڈیا دونوں اپنے اپنے کوارٹر فائنل میچز بارش کے باعث منسوخ ہونے کے بعد سیمی فائنل میں پہنچ گئے ہیں۔

ایشین گیمز 2026 کے کرکٹ مقابلوں میں پاکستان اور انڈیا دونوں اپنے اپنے کوارٹر فائنل میچز بارش کے باعث منسوخ ہونے کے بعد سیمی فائنلز میں پہنچ گئے ہیں۔
جاپان کے شہر نِشّن میں واقع کوروجی سپورٹس پارک میں کوارٹر فائنل میں پاکستان کا مقابلہ ہانگ کانگ سے ہونا تھا، تاہم مسلسل بارش کے باعث ٹاس بھی نہ ہو سکا اور میچ منسوخ کر دیا گیا۔
اسی طرح دوپہر کو انڈیا اور افغانستان کے درمیان ہونے والا کوارٹر فائنل بھی خراب موسم اور گیلی آؤٹ فیلڈ کے باعث ٹاس سے قبل ہی منسوخ کر دیا گیا۔
چونکہ آئی سی سی ٹی20 رینکنگ میں دونوں ٹیمیں اپنے حریفوں سے بلند درجہ رکھتی تھیں، اس لیے انہیں اگلے مرحلے میں جگہ دے دی گئی:
انڈیا آئی سی سی ٹی20 رینکنگ میں پہلے نمبر پر، جبکہ پاکستان چھٹے نمبر پر ہے۔
اس بنیاد پر انڈیا اور پاکستان بغیر میدان میں اترے ہی سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر گئے، جبکہ افغانستان اور ہانگ کانگ ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے۔

فائنل میں پاکستان اور انڈیا کا متوقع ٹاکرا
انڈیا اب سری لنکا اور نیپال کے درمیان تیسرے کوارٹر فائنل کے فاتح سے سیمی فائنل میں مقابلہ کرے گا۔ دوسری جانب صاحبزادہ فرحان کی کپتانی میں پاکستان کا سامنا بنگلہ دیش اور ملائیشیا کے درمیان ہونے والے کوارٹر فائنل کے فاتح سے ہوگا۔
اگر پاکستان اور انڈیا دونوں اپنے اپنے میچز جیت جاتے ہیں تو دونوں روایتی حریف گولڈ میڈل کے حصول کے لیے فائنل میں آمنے سامنے آئیں گے۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اپنی ٹیم کو ’دنیا کی تیسری یا چوتھی بہترین ٹیم‘ قرار دے چکے ہیں۔
انھوں نے ایشن گیمز 2026 کی شروعات میں انڈین ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وائٹ بال میں مثالی کارکردگی دکھا رہی ہے اور ’ہمیں ان کے برابر پہنچنے کا چیلنج درپیش ہے۔ ہم بھرپور انداز میں تیاری کر رہے ہیں اور اگر مقابلہ ہوا تو ہم ان پر دباؤ ڈالیں گے، جیسے ہم نے ایشیا کپ فائنل میں کیا تھا۔‘

اس ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم کی کپتانی صاحبزادہ فرحان کو سونپی گئی ہے۔ اس بارے میں مائیک ہیسن کا کہنا تھا کہ صاحبزادہ فرحان کے پاس تجربہ حاصل کرنے کا اچھا موقع ہے مگر آیا وہ 2028 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھی پاکستان کی کپتانی کریں گے، اس کا فیصلہ سلیکشن کمیٹی کو کرنا ہوگا۔
ایشین گیمز کرکٹ: 10 ٹیمیں ’پاکستان جیسی‘ پچ پر مدمقابل
جاپان کے شہر ناگویا میں ایشین گیمز کرکٹ کے چوتھے ایڈیشن میں مردوں کا ٹورنامنٹ 24 ستمبر کو شروع ہوا تھا اور فائنل 3 اکتوبر کو کھیلا جائے گا۔
انڈیا ان مقابلوں کا دفاعی چیمپیئن ہے، جس نے 2022 میں کانسی کے تمغے جیتے تھے۔
اولمپکس کے بعد دنیا کے دوسرے بڑے کھیلوں کے مقابلے ایشین گیمز کو ہر چار سال بعد منعقد کیا جاتا ہے، جس میں 45 ممالک کے کھلاڑی 40 سے زیادہ کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں۔
یہ گذشتہ پانچ ایڈیشنز میں چوتھی مرتبہ ہو گا کہ کرکٹ ایشین گیمز کا حصہ ہو گی۔ کرکٹ کو پہلی بار 2010 میں ایشین گیمز میں شامل کیا گیا تھا۔
پاکستان خواتین کے مقابلوں میں دو بار (2010 اور 2014) گولڈ میڈل جیت چکا ہے جبکہ بنگلہ دیش (2010)، سری لنکا (2014) اور انڈیا (2022) مردوں کے مقابلوں میں ایک ایک بار چیمپیئن رہے ہیں۔

اب 29 ستمبر کو سری لنکا کا مقابلہ اور نیپال جبکہ بنگلہ دیش کا مقابلہ ملائیشیا سے ہوگا۔
سیمی فائنلز یکم اکتوبر کو منعقد ہوں گے جبکہ کانسی اور سونے کے تمغوں کے فائنل دو روز بعد کھیلے جائیں گے۔
آئی سی سی کے مطابق جس گراؤنڈ میں یہ میچز کھیلے جا رہے ہیں، اس کی خصوصیات پاکستانی پچز سے ملتی جلتی ہیں جہاں گیند میں باؤنس اور ٹرن ہوتا ہے۔
میدان میں عارضی سٹینڈز بھی نصب کیے گئے ہیں جو 2000 شائقین کی گنجائش رکھتے ہیں۔