والدین اپنے بیٹوں کو ’انکار کو قبول‘ کرنا سکھائیں، دیا مرزا

image

میں چاہتی ہوں کہ میرا بیٹا یہ سمجھے کہ کسی کا ’نہیں‘ کہنا بے عزتی نہیں۔ رضامندی صرف خاموشی یا انکار نہ کرنے کا نام نہیں، بلکہ ایسی ’ہاں‘ ہے جو خوشی اور اطمینان سے کہی جائے۔ کوئی بھی شخص آپ کو اپنی توجہ، محبت یا قربت دینے کا پابند نہیں۔

بالی ووڈ اداکارہ دیا مرزا نے بیٹوں کی تربیت کے حوالے سے والدین کو ایک اہم پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کے لیے محفوظ معاشرہ صرف قوانین سے نہیں بلکہ گھروں میں ہونے والی تربیت سے بھی تشکیل پاتا ہے۔

بھارت میں خواتین کے خلاف حالیہ مبینہ جنسی جرائم کے بعد تحفظ اور رضامندی سے متعلق بحث ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ اسی تناظر میں دیا مرزا نے سوشل میڈیا پر اپنی سوچ بیان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے بیٹے کو بچپن ہی سے احترام، ہمدردی، مہربانی اور دوسروں کی ذاتی حدود کا خیال رکھنے کی تربیت دے رہی ہیں۔

اداکارہ کے مطابق بچوں، بالخصوص لڑکوں، کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ سامنے والا اگر کسی بات سے بے آرام محسوس کرے تو اس کے رویے اور اشاروں کو بھی سنجیدگی سے لیا جائے۔ صرف واضح انکار ہی اہم نہیں بلکہ دوسرے شخص کی کیفیت اور حدود کو سمجھنا بھی احترام کا بنیادی حصہ ہے۔

دیا مرزا کا کہنا تھا کہ بیٹوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ کسی کا انکار ان کی انا پر حملہ نہیں اور نہ ہی اسے بحث، اصرار یا دباؤ کے ذریعے تبدیل کروانے کی کوشش ہونی چاہیے۔ محبت، توجہ یا قربت کسی سے زبردستی حاصل کیے جانے والے حقوق نہیں ہیں۔

انہوں نے والدین کو مخاطب کرتے ہوئے اس سوچ کو گھر سے شروع کرنے پر زور دیا۔ ان کے مطابق اگر نئی نسل کے لڑکوں میں رضامندی، احترام اور احساسِ ذمہ داری پیدا کیا جائے تو مستقبل میں لڑکیوں اور خواتین کے لیے زیادہ محفوظ اور مساوی معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔

دیا مرزا اور ان کے شوہر ویبھو ریکھی نے مئی 2021 میں اپنے بیٹے اویان آزاد ریکھی کا استقبال کیا تھا۔ اداکارہ وقتاً فوقتاً والدین کی ذمہ داری، بچوں کی تربیت اور سماجی رویوں سے متعلق اپنے خیالات بھی شیئر کرتی رہتی ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US