پاکستان کے لیجنڈری کامیڈین عمر شریف کو مداحوں سے بچھڑے آج پانچ برس مکمل ہوگئے۔ اپنی حاضر جوابی، منفرد انداز اور بے مثال مزاح سے کئی نسلوں کو ہنسانے والے فنکار 2 اکتوبر 2021 کو جرمنی میں انتقال کر گئے تھے۔
عمر شریف صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ سرحد پار بھی اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوئے۔ اسٹیج پر ان کی برجستگی اور مکالموں کی ادائیگی نے انہیں ایک الگ مقام دیا جبکہ ان کے ریکارڈ شدہ اسٹیج ڈراموں نے گھر گھر ان کی مقبولیت پہنچائی۔ بکرا قسطوں پہ اور بڈھا گھر پہ ہے جیسے ڈرامے ان کے یادگار کاموں میں شمار ہوتے ہیں۔
لیکن بہت سے مداح شاید یہ نہیں جانتے کہ عمر شریف ان کا پیدائشی نام نہیں تھا۔ ان کا اصل نام محمد عمر تھا۔ مصری اداکار عمر شریف کی فلم Lawrence of Arabia میں اداکاری نے انہیں اس قدر متاثر کیا کہ انہوں نے اپنے نام کے ساتھ "شریف" کا اضافہ کرلیا اور یہی نام آگے چل کر ان کی شناخت بن گیا۔
عمر شریف نے کم عمری میں ہی زندگی کی مشکلات کا سامنا کیا۔ ان کے والد اس وقت انتقال کر گئے تھے جب وہ صرف چار برس کے تھے۔ نوجوانی میں تھیٹر سے لگاؤ بڑھا اور پھر انہیں اسٹیج پر اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع ملا۔ یہی سفر آگے چل کر انہیں برصغیر کے نمایاں کامیڈینز میں لے آیا۔
زندگی کے آخری عرصے میں عمر شریف کی صحت شدید متاثر ہوئی۔ ستمبر 2021 میں انہیں علاج کے لیے ایئر ایمبولینس کے ذریعے امریکا لے جایا جا رہا تھا، تاہم سفر کے دوران طبیعت بگڑنے پر جرمنی کے شہر نیورمبرگ کے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں 2 اکتوبر کو وہ انتقال کر گئے۔
ان کا جسدِ خاکی بعد میں کراچی لایا گیا اور انہیں عبداللہ شاہ غازی کے مزار سے ملحقہ قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی آخری رسومات میں فنکاروں، سیاسی و سماجی شخصیات سمیت مداحوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔
عمر شریف کو دنیا سے گئے پانچ برس گزر چکے ہیں، مگر ان کے برجستہ جملے، اسٹیج ڈرامے اور لوگوں کے چہروں پر بکھیرے گئے قہقہے آج بھی ان کے فن کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔