28 سال کی عمر میں میں نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس کی کامیابی کی کوئی ضمانت نہیں تھی۔ میں نے اپنا مستحکم سیلون کا کام چھوڑ کر اداکاری کا انتخاب کیا۔ دوستوں، خاندان اور مجھ سے محبت کرنے والے تقریباً سبھی لوگوں نے مجھے روکنے کی کوشش کی لیکن میری بہن ساشا میرے ساتھ کھڑی رہی۔ میں نے جانے پہچانے اور محفوظ راستے کے بجائے غیر یقینی راستہ چنا۔
پاکستانی اداکارہ زویا ناصر نے اپنے کیریئر کے ایک اہم موڑ سے پردہ اٹھاتے ہوئے بتایا ہے کہ شوبز میں قدم رکھنا ان کے لیے محض پیشہ تبدیل کرنا نہیں بلکہ ایک بڑا خطرہ مول لینے کے مترادف تھا۔
اداکارہ نے بتایا کہ 28 سال کی عمر تک وہ بیوٹی اور سیلون کے شعبے میں ایک مستحکم مقام بنا چکی تھیں لیکن اندر سے وہ کچھ مختلف کرنا چاہتی تھیں۔ اسی خواہش نے انہیں ایک ایسے شعبے کی طرف جانے پر آمادہ کیا جہاں مستقبل کے بارے میں کچھ بھی یقینی نہیں تھا۔
زویا کے مطابق جب انہوں نے اداکاری کی فیلڈ اپنانے کا فیصلہ کیا تو قریبی لوگوں کا ردعمل زیادہ حوصلہ افزا نہیں تھا۔ دوستوں اور اہلِ خانہ کو خدشہ تھا کہ ایک کامیاب کام چھوڑ کر نامعلوم راستہ اختیار کرنا ان کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم اس وقت ان کی بہن ساشا نے ان کے فیصلے کی حمایت کی۔
اداکارہ نے اپنی گفتگو میں محفوظ فیصلوں کے تصور پر بھی بات کی۔ ان کے مطابق ہم اکثر اپنے پیاروں کو اسی راستے پر چلنے کا مشورہ دیتے ہیں جسے ہم پہلے سے جانتے ہوں کیونکہ نامعلوم مستقبل ہمیں خوفزدہ کرتا ہے مگر ہر شخص کے لیے روایتی اور محفوظ راستہ ہی درست منزل نہیں ہوتا۔
زویا ناصر نے بالآخر اپنے قائم شدہ کیریئر کے بجائے اداکاری کو موقع دینے کا فیصلہ کیا اور یہی رسک ان کی زندگی کا نیا باب بن گیا۔