"ہم سب کو ایک دن اس دنیا سے چلے جانا ہے۔ مجھے بھی نہیں معلوم کہ میں کل تک زندہ رہوں گا یا نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم نے اپنی زندگی میں کیا کیا؟ کیا ہم وہ سب کچھ کر پائے جو کرنا چاہتے تھے؟ اگر ہماری زندگی صرف اپنے گھر والوں تک محدود رہی تو پھر اس کا مقصد کیا ہوا؟ ہمیں دنیا سے جانے سے پہلے کوئی نہ کوئی اچھا کام ضرور کرنا چاہیے۔"
بالی ووڈ کے معروف اداکار نانا پاٹیکر کے انتقال کی خبروں کے بعد ان کی زندگی کے آخری دنوں میں کی گئی ایک گفتگو خاص توجہ حاصل کررہی ہے۔ 75 سالہ اداکار نے مبینہ طور پر اپنی وفات سے صرف چار روز قبل ایک عوامی تقریب میں زندگی کی حقیقت اور دوسروں کے لیے کچھ کرنے کی اہمیت پر بات کی تھی۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نانا پاٹیکر نے 4 اکتوبر کو گوا کے علاقے ڈونا پاؤلا میں سمراٹ کلب انٹرنیشنل کی تقریب میں شرکت کی تھی۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے مرحوم دوست اور گوا کے سابق وزیراعلیٰ منوہر پاریکر کو یاد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انسان کی زندگی عارضی ہے، اس لیے اسے اپنے وقت کو صرف ذاتی کامیابیوں تک محدود نہیں رکھنا چاہیے۔
ان کی اس گفتگو کو اب ایک مختلف نظر سے دیکھا جارہا ہے، کیونکہ چند روز بعد ہی ان کے انتقال کی خبر سامنے آگئی۔ رپورٹس کے مطابق 8 اکتوبر کی صبح اداکار گوا میں اپنی رہائش گاہ پر بے ہوشی کی حالت میں پائے گئے۔ انہیں فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا، جہاں طبی عملے نے ان کی جان بچانے کی کوشش کی، تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے۔ بعض رپورٹس میں موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی گئی ہے، جبکہ ان کے بیٹے ملہار نے اسے قدرتی موت قرار دیا۔
نانا پاٹیکر کی زندگی صرف فلمی کامیابیوں تک محدود نہیں تھی بلکہ انہوں نے کئی ذاتی مشکلات کا بھی سامنا کیا۔ ان کی اہلیہ نیل کانتی کے ساتھ ازدواجی زندگی میں فاصلے ضرور آئے، لیکن دونوں نے کبھی باضابطہ طلاق نہیں لی۔ اداکار ماضی میں اپنی اہلیہ کی قربانیوں اور تعاون کا کھل کر اعتراف کرچکے تھے۔
نانا پاٹیکر کے مطابق ان کی ملاقات نیل کانتی سے تھیٹر کے ایک ڈرامے کے دوران ہوئی تھی۔ اس وقت وہ اداکاری کے شعبے میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کررہے تھے اور ایک شو کے صرف 50 روپے ملتے تھے، جبکہ نیل کانتی بینک میں ملازمت کرکے تقریباً ڈھائی ہزار روپے ماہانہ کماتی تھیں۔ انہوں نے اپنے شوہر کو یقین دلایا تھا کہ وہ مالی ذمہ داریاں سنبھال لیں گی، اس لیے نانا کو اپنے اداکاری کے شوق کو ترک کرنے کی ضرورت نہیں۔
اداکار نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ اگر ان کی اہلیہ اس مشکل دور میں ساتھ نہ دیتیں تو شاید وہ اداکاری کو مستقل پیشہ نہ بنا پاتے۔ بعد میں دونوں الگ رہنے لگے، تاہم ان کے درمیان خاندانی تعلق برقرار رہا۔
نانا پاٹیکر کی زندگی کا سب سے تکلیف دہ واقعہ ان کے بڑے بیٹے دروسا کی کم عمری میں موت تھی۔ ان کا بیٹا پیدائشی طور پر بعض جسمانی مسائل کا شکار تھا اور صرف ڈھائی سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوگیا۔ اداکار نے بعد میں بتایا تھا کہ اس صدمے نے انہیں اندر سے بدل کر رکھ دیا۔
بیٹے کی موت کے بعد وہ شدید ذہنی دباؤ سے گزرے اور سگریٹ نوشی کی عادت میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا۔ ان کے مطابق ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ روزانہ تقریباً 60 سگریٹ پینے لگے تھے۔ بعد میں انہوں نے اس عادت کو اپنی زندگی کی بڑی غلطیوں میں شمار کیا۔
یکم جنوری 1951 کو پیدا ہونے والے نانا پاٹیکر نے 1978 میں فلم ’گامن‘ سے اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ انہوں نے ’پرندہ‘، ’کرانتی ویر‘، ’اگنی ساکشی‘، ’خاموشی: دی میوزیکل‘، ’اب تک چھپن‘ اور ’ویلکم‘ جیسی فلموں میں مختلف نوعیت کے کردار ادا کرکے اپنی الگ پہچان بنائی۔ انہیں تین نیشنل فلم ایوارڈز ملے، جبکہ 2013 میں بھارتی حکومت نے انہیں پدم شری اعزاز سے نوازا۔
اپنی آخری عوامی گفتگو میں نانا پاٹیکر نے نوجوانوں کو دوسروں کے لیے فائدہ مند کام کرنے کا جو پیغام دیا تھا، وہ ان کی زندگی کے ذاتی تجربات سے بھی جڑا دکھائی دیتا ہے۔ کامیابی، خاندانی مشکلات اور بیٹے کی جدائی جیسے مراحل سے گزرنے والے اداکار کے یہ الفاظ اب ان کے مداحوں کے لیے خصوصی اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔