معروف پاکستانی ٹی وی میزبان اقرار الحسن کے بیٹے پہلاج حسن نے ایک منفرد سماجی تجربہ کیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ اس تجربے کا مقصد یہ جاننا تھا کہ سڑکوں پر گولڈن مین بن کر کھڑے ہونے والے افراد کے ساتھ عام لوگ کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔
بچپن سے ٹیلی ویژن پر نظر آنے والے پہلاج حسن اب بڑے ہوچکے ہیں اور سوشل میڈیا کے لیے اپنا مواد بھی تیار کرتے ہیں۔ اس مرتبہ انہوں نے اپنے پورے جسم اور لباس کو سنہری رنگ میں رنگ کر گولڈن مین کا روپ دھارا اور تقریباً ایک گھنٹے تک سڑکوں پر لوگوں کے درمیان موجود رہے۔
اس دوران پہلاج کو مختلف قسم کے رویوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض راہگیروں نے انہیں مکمل طور پر نظرانداز کیا کچھ نے مذاق اڑایا جبکہ ایک شخص نے انہیں 200 روپے بھی دیے۔
پہلاج اس سرگرمی کے ذریعے ان لوگوں کی مشکلات اور عوامی رویوں کو سمجھنا چاہتے تھے جو روزانہ سڑکوں اور چوراہوں پر اس انداز میں کھڑے ہوکر پیسے کماتے ہیں۔
تاہم ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی رائے تقسیم ہوگئی۔ کچھ لوگوں نے اس تجربے کے مقصد پر سوال اٹھائے جبکہ بعض نے پہلاج اور ان کے والد اقرار الحسن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
ایک صارف نے گولڈن مین بننے والے افراد کو بھکاری قرار دیتے ہوئے انہیں غیر ضروری توجہ دینے پر اعتراض کیا۔ دوسرے نے پہلاج پر طنز کرتے ہوئے ان کا موازنہ اپنے والد سے کیا جبکہ ایک اور صارف نے انہیں بھی اقرار الحسن کی طرح اداکار قرار دیا۔
پہلاج حسن کا یہ تجربہ سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا ہے جہاں لوگ سڑکوں پر اس انداز میں روزگار کمانے والے افراد اور ان کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں مختلف آرا کا اظہار کررہے ہیں۔