متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی 32 سالہ مہرہ النہیان کو لندن میں ایک کم عمر بچے کی حفاظت میں غفلت برتنے پر عدالت نے سزا سنا دی۔ خاتون پر الزام تھا کہ وہ مبینہ طور پر منشیات کے اثر میں بے ہوش تھیں، جبکہ ان کے ساتھ موجود بچہ مصروف سڑک کے قریب اکیلا کھیل رہا تھا۔
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 13 جون کو مغربی لندن میں پیش آیا، جہاں راہگیروں نے ایک خاتون اور ان کے قریب موجود شخص کو بے ہوشی کی حالت میں دیکھا۔ اسی دوران ایک کم عمر بچہ ننگے پاؤں اسکوٹر کے ساتھ کھیل رہا تھا اور گاڑیوں کی آمدورفت کے باعث اس کی حفاظت کو خطرہ لاحق تھا۔
موقع پر موجود شہریوں نے بچے کو محفوظ جگہ پر پہنچایا اور پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس اہلکاروں نے خاتون سے بات کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے وہاں موجود لوگوں کی تشویش پر حیرت کا اظہار کیا۔
پولیس کو خاتون کے بیگ سے منشیات کے استعمال سے متعلق کچھ اشیا ملیں، تاہم کوئی غیر قانونی منشیات برآمد نہیں ہوئیں۔
لندن کی ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے مؤقف اختیار کیا کہ خاتون مبینہ طور پر کوکین کے اثر میں تھیں اور بچے کی مناسب نگرانی نہیں کر رہی تھیں، جس سے اس کی جان کو خطرہ لاحق ہوا۔
دوسری جانب ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ واقعے کے روز مہرہ النہیان نے منشیات استعمال نہیں کی تھیں۔ دفاع کے مطابق وہ اب بحالی کے ایک مرکز میں علاج کروا رہی ہیں۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ مہرہ النہیان شادی کے ذریعے ابوظہبی کے حکمران خاندان کا حصہ بنی تھیں اور انہیں اس رشتے کی بنیاد پر ماہانہ 8 ہزار پاؤنڈ ملتے ہیں۔
سماعت کے دوران جج نے کہا کہ ایک کم عمر بچے کو مصروف سڑک کے قریب بغیر نگرانی چھوڑنا انتہائی خطرناک تھا، کیونہ وہ کسی گاڑی کی زد میں آ سکتا تھا یا کوئی اجنبی اسے اپنے ساتھ لے جا سکتا تھا۔
مہرہ النہیان نے 13 اکتوبر کو بچے کی دیکھ بھال میں غفلت برتنے کا الزام قبول کر لیا، جس کے بعد عدالت نے انہیں دو سالہ کمیونٹی آرڈر کی سزا سنائی، جس میں بحالی سے متعلق شرائط بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ انہیں 6 ہزار 114 پاؤنڈ ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔
عدالتی کارروائی میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بچے کی حفاظت اور مناسب نگرانی ہر صورت ضروری ہے، چاہے اس کی دیکھ بھال کرنے والے شخص کا تعلق کسی بھی بااثر یا دولت مند خاندان سے ہو۔