ترکی کے 21 سالہ نوجوان اور 80 سالہ اطالوی خاتون کی غیر معمولی محبت کی کہانی نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ دونوں کی عمروں میں 59 سال کا فرق ہے، لیکن نوجوان کا کہنا ہے کہ اس کے فیصلے کی بنیاد صرف محبت ہے۔ تاہم اس رشتے سے متعلق سامنے آنے والے بعض دعوؤں نے لوگوں کے ذہنوں میں کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔
ترکی کے تاریخی شہر ماردین سے تعلق رکھنے والے مہمت کی ملاقات ایک معمر اطالوی خاتون سے ہوئی جس کے بعد دونوں ایک دوسرے کے قریب آگئے۔ نوجوان نے عمر کے نمایاں فرق کو اہمیت نہ دیتے ہوئے خاتون کے ساتھ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔
اس تعلق کا دلچسپ منظر اس وقت سامنے آیا جب مہمت نے خاتون کو سفید عروسی لباس میں ملبوس کیا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر انہیں شادی کی پیشکش کی۔ اس موقع کی ویڈیو انٹرنیٹ پر پھیلی تو لوگوں کی توجہ فوراً اس منفرد جوڑے کی جانب مبذول ہوگئی۔
مہمت کے مطابق ان کے تعلق میں دولت یا کسی ذاتی فائدے کی کوئی اہمیت نہیں۔ وہ اپنی ہونے والی اہلیہ کو ترکی کے شہر ماردین لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں مقامی رسم و رواج کے مطابق شادی کی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔
تاہم اس معاملے نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ گردش کرنے لگا کہ مہمت کو شادی کے بعد اٹلی کی شہریت مل گئی ہے۔ اس خبر نے بعض صارفین کو یہ سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا کہ کہیں اس فیصلے کا مقصد یورپ میں مستقل رہائش حاصل کرنا تو نہیں؟
کئی افراد نے نوجوان کی نیت پر شک ظاہر کیا، جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ محض عمر کے فرق یا شہریت سے متعلق افواہوں کی بنیاد پر کسی کے ذاتی تعلق کو غلط قرار دینا مناسب نہیں۔ البتہ مہمت کو اطالوی شہریت ملنے کے دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔