آبنائے ہرمز سے سامنے آنے والی ایک ویڈیو نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کرلی ہے، جس میں سمندر کے پانی پر آئی فونز کے ڈبے اور مہنگے پرفیومز کی پیکنگ بکھری ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ سامان کسی نے جان بوجھ کر پانی میں نہیں پھینکا بلکہ اطلاعات کے مطابق ایک مال بردار جہاز کو پیش آنے والے حادثے کے بعد سمندر میں جا گرا۔
وائرل مناظر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پانی پر بڑی تعداد میں موبائل فونز کے پیکٹ اور خوشبوؤں کے ڈبے تیر رہے ہیں، جبکہ قریبی کشتیوں میں موجود کچھ افراد انہیں جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ سامان سنگاپور کے پرچم بردار بحری جہاز *جی ایف ایس پرائیڈ* پر موجود تھا، جو دبئی سے اپنا سفر شروع کرنے کے بعد آبنائے ہرمز میں حادثے کا شکار ہوگیا۔
اطلاعات کے مطابق جہاز پر تقریباً 2500 کنٹینرز لادے گئے تھے، جن میں الیکٹرانک مصنوعات، قیمتی پرفیومز اور دیگر تجارتی اشیا شامل تھیں۔ جہاز میں آگ لگنے اور اس کے ڈوبنے کے بعد سامان کا کچھ حصہ پانی میں بہہ گیا۔
تاہم جہاز کو پیش آنے والے واقعے کی وجہ سے متعلق مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ جہاز غیر مجاز بحری راستے سے گزرتے ہوئے بارودی سرنگ سے ٹکرایا، جبکہ سمندری حکام کے مطابق اسے کسی نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا۔ ان متضاد بیانات کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔
اس واقعے میں اطمینان بخش بات یہ ہے کہ سنگاپور کی میری ٹائم اینڈ پورٹ اتھارٹی کے مطابق جہاز پر موجود تمام 21 افراد کو بحفاظت بچا لیا گیا اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
سوشل میڈیا پر پھیلنے والی اس ویڈیو نے لوگوں کو حیران ضرور کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ سمندری راستوں سے ہونے والی تجارت، قیمتی سامان کی حفاظت اور بحری سفر کو درپیش خطرات پر بھی توجہ مبذول کرائی ہے۔