شہزادی ڈیانا کا مشہور سیاہ لباس میگھن مارکل کو دینے کی خواہش، شہزادہ ہیری سے متعلق بڑا دعویٰ

image

برطانوی شہزادہ ہیری اپنی مرحوم والدہ شہزادی ڈیانا کے مشہور زمانہ سیاہ لباس کو نیلامی سے پہلے حاصل کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کی والدہ کی یادگار شاہی خاندان سے جڑی رہے اور کسی نامعلوم خریدار کے پاس نہ چلی جائے۔

غیر ملکی ویب سائٹ ریڈار آن لائن کی رپورٹ کے مطابق شہزادی ڈیانا کا تاریخی لباس، جسے دنیا بھر میں ’ریوینج ڈریس‘ کے نام سے پہچانا جاتا ہے، رواں سال دسمبر میں معروف نیلام گھر سوتھبیز کے ذریعے فروخت کیے جانے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شہزادہ ہیری اس لباس کو اپنی اہلیہ میگھن مارکل کے پاس دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے خیال میں میگھن نہ صرف اس کی تاریخی اہمیت سمجھتی ہیں بلکہ وہ اسے اپنی ساس کی یادگار کے طور پر بہتر انداز میں محفوظ بھی رکھ سکتی ہیں۔

ذرائع سے منسوب اطلاعات کے مطابق ہیری اس لباس کو محض ایک قیمتی ملبوس نہیں بلکہ اپنی والدہ کی ہمت، خود اعتمادی اور مشکل حالات میں اپنی شناخت برقرار رکھنے کی علامت سمجھتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شہزادہ ہیری اپنی والدہ اور اہلیہ کی زندگی میں بعض مماثلتیں دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک دونوں خواتین کو شاہی خاندان سے وابستگی کے دوران مختلف مشکلات اور عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، لیکن انہوں نے اپنی الگ شناخت قائم رکھنے کی کوشش کی۔

شہزادی ڈیانا کا یہ سیاہ آف شولڈر لباس معروف فیشن ڈیزائنر کرسٹینا اسٹامبولین نے تیار کیا تھا، جسے انہوں نے جون 1994 میں لندن کی سرپینٹائن گیلری میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران پہنا تھا۔

اس لباس کی شہرت کی ایک خاص وجہ اس دن پیش آنے والے حالات تھے۔ اسی روز اس وقت کے شہزادہ چارلس کی جانب سے ازدواجی بے وفائی کا اعتراف ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں سامنے آیا تھا۔

اس واقعے کے بعد شہزادی ڈیانا کی پُراعتماد انداز میں تقریب میں شرکت اور ان کے لباس کو عالمی میڈیا میں غیر معمولی توجہ ملی، جس کے باعث اسے ’ریوینج ڈریس‘ یعنی انتقامی لباس کا نام دیا گیا۔

یاد رہے کہ شہزادی ڈیانا 31 اگست 1997 کو پیرس میں ایک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں 36 برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔ اس وقت شہزادہ ہیری کی عمر صرف 12 سال تھی۔

تاہم شہزادہ ہیری کی جانب سے لباس خریدنے یا میگھن مارکل کو دینے کی خواہش سے متعلق تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے اور یہ تفصیلات میڈیا رپورٹس میں کیے گئے دعوؤں پر مبنی ہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US