’اشارہ کس کے لیے تھا‘: سری لنکا کے خلاف سینچری پر سلمان آغا کا جشن اور مہمان ٹیم کو 306 رنز کا ہدف

سلمان علی آغا نے انگلینڈ کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں کپتانی کی تھی، دوسرے سے اُنھیں ڈراپ کر دیا گیا تھا جبکہ تیسرے ٹیسٹ میچ سے قبل اُنھیں واپس بھجوا دیا گیا تھا۔ لہذا سری لنکا کے خلاف میچ اس متنازع واقعے کے بعد اُن کا پہلا میچ تھا۔
Salman Ali Agha
Getty Images
سلمان علی آغا راولپنڈی میں جارحانہ سنچری کرنے کے بعد منفرد انداز میں جشن منا رہے ہیں

سلمان علی آغا کی جارحانہ سینچری کی بدولت پاکستان نے سہ فریقی سیریز کے پہلے میچ میں سری لنکا کو جیت کے لیے 306 رنز کا ہدف دے دیا ہے۔

راولپنڈی میں جاری میچ میں سری لنکن کپتان کوشال مینڈس نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا تھا۔

پاکستان کو پہلا نقصان اُس وقت اُٹھانا پڑا جب 23 کے مجموعی سکور پر آؤٹ آف فارم صائم ایوب صرف سات رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

پاکستان کی دوسری وکٹ 32 رنز پر گری جب فخر زمان بھی 16 رنز بنا کر اپنی وکٹ کھو بیٹھے۔

تیسری وکٹ کی شراکت پر سابق کپتان بابر اعظم اور اپنا ون ڈے ڈیبو کرنے والے وکٹ کیپر بلے باز سعد بیگ نے محتاط انداز میں پاکستان کی اننگز کو آگے بڑھایا۔

پاکستان کا سکور جب 106 ہوا تو بابر اعظم 45 رنز بنا کر ملنگا کی گیند پر رتنائیکے کو کیچ تھما بیٹھے۔ اُنھوں نے 57 گیندوں پر محیط اپنی اننگز میں چھ چوکے لگائے۔ اننگز کا 22 واں اوور جاری تھا کہ 118 کے مجموعی سکور پر سعد بیگ بھی ہمت ہار گئے اور 39 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

راولپنڈی کی بیٹنگ کے لیے سازگار وکٹ پر چار وکٹیں گنوانے کے بعد ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ پاکستان کی اننگز جلدی سمٹ جائے گی، لیکن کریز پر آنے والے سلمان علی آغا کے عزائم کچھ اور ہی تھے۔

سلمان علی آغا نے نہ صرف رنز بنانے کی رفتار کو تیز کیا بلکہ حسن نواز کے ساتھ مل کر پاکستان کی ڈگمگاتی بیٹنگ لائن کو سہارا دیا اور ٹوٹل 215 رنز پر پہنچا دیا، جہاں حسن نواز کی وکٹ گر گئی۔ اُنھوں نے 37 رنز بنائے۔

حسن نواز کے بعد سلمان علی آغا کا ساتھ دینے آل راؤنڈر عرفات منہاس آئے، جو 15 گیندوں پر 18 رنزبنا کر آؤٹ ہوئے۔

Pakistan Salman Ali Agha
Getty Images

سلمان علی آغا 90 گیندوں پر 107 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، ان کی اننگز میں ایک چھکا اور 10 چوکے شامل تھے۔ سنچری کے بعد سلمان علی آغا نے ڈریسنگ روم کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی آنکھوں کی جانب اشارہ کیا۔

سری لنکا کی جانب سے ایشان ملنگا 10 اوورز میں 46 رنز دے کر چار جبکہ اسیتھا فرنینڈو10 اوورز میں 59 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کر کے نمایاں رہے۔

سلمان علی آغا کا شاندار کم بیک

خیال رہے کہ پاکستان کے سابق ٹیسٹ کپتان سلمان علی آغا اُن سات کھلاڑیوں میں شامل تھے، جنھیں اگست میں لارڈز ٹیسٹ میں شکست کے بعد پاکستان واپس بھجوا دیا گیا تھا۔

سلمان علی آغا نے انگلینڈ کے خلاف سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں کپتانی کی تھی، دوسرے سے اُنھیں ڈراپ کر دیا گیا تھا جبکہ تیسرے ٹیسٹ میچ سے قبل اُنھیں واپس بھجوا دیا گیا تھا۔ لہذا سری لنکا کے خلاف میچ اس متنازع واقعے کے بعد اُن کا پہلا میچ تھا۔

یہ ون ڈے میچز میں سلمان علی آغا کی چوتھی سنچری تھی۔

سوشل میڈیا پر جہاں سلمان علی آغا کی سینچری کا چرچا ہے تو وہیں اچھے آغاز کے باوجود بابر اعظم کے جلد آؤٹ ہونے پر بھی تنقید ہو رہی ہے۔

اُسامہ نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ سلمان آغا کو سیریز کے دوران ڈراپ کر دیا گیا، ٹی 20 کپتانی سے ہٹایا گیا۔ ٹی 20 ٹیم سے باہر ہوئے۔ لیکن کوئی شکایت نہیں کی۔

اُن کا کہنا تھا کہ سلمان علی آغا جس انداز سےہر ناکامی یا مشکل مرحلے کے بعد دوبارہ سنبھلے ہیں، وہ بھرپور داد کے مستحق ہیں۔

ایک انڈین صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’ون ڈے کرکٹ میں سلمان آغا، شریاس آئیر اور کے ایل راہول سے بہتر ہیں۔ اگر وہ باقاعدگی سے انڈین وکٹوں پر کھیلے ہوتے، تو اب تک 15 ون ڈے سنچریاں بنا چکے ہوتے۔‘

ولید نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’بابر اعظم کو سلمان علی آغا سے سیکھنا چاہیے کہ جدید کرکٹ میں، محض ذاتی اعداد و شمار بڑھانےکے بجائے، اننگز کی رفتار کو کیسے تیز کیا جائے۔‘

عروج جاوید نامی صارف نے لکھا کہ جب بھی ہم بابر اعظم سے توقع کرنے لگتے ہیں، وہ اپنی وکٹ گنوا دیتے ہیں۔

عاطف نامی صارف نے لکھا کہ سلمان علی آغا اپنی سینچری کا جشن مناتے ہوئے اپنی آنکھوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ’سوچتا ہوں، یہ اشارہ کس کے لیے تھا؟‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US