فیصل آباد: پارکنگ سے گاڑی چوری ہونے کی واردات جس کا اختتام کاروباری شخصیت کے قتل پر ہوا

ریحان اشرف، ان کے بھائی اور کزنز جیسے ہی مرکزی دروازے سے پارکنگ ایریا میں داخل ہوئے تو وہاں موجود ایک نجی پارکنگ کمپنی کے ویلیٹ اہلکار نے انھیں سلام کیا اور معمول کے مطابق گاڑی کی چابی طلب کی۔ اس کے بعد گاڑی غائب ہوگئی اور اس کے مالک خود چوروں کے تعاقب میں نکل گئے۔

سنیچر کی رات تقریباً نو بجے کا وقت تھا جب فیصل آباد کی کاروباری شخصیت ریحان اشرف اپنے بھائی اور کزنز کے ہمراہ ڈنر کے لیے چناب کلب پہنچے تھے۔

شہر کے وسط میں باغ جناح کے قریب واقع یہ کلباہم سماجی و ثقافتی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ اس ادارے کی بنیاد سنہ 1904 میں لائل پور کے پہلے ڈپٹی کمشنر ہینری کیوز نے رکھی تھی تاکہ یہاں تعینات برطانوی افسران تفریح اور سماجی میل جول کے لیے ایک جگہ استعمال کر سکیں۔

جمسا ایلفی اینڈ گلو کمپنی کے مالک ریحان اشرف، ان کے بھائی اور کزنز جیسے ہی مرکزی دروازے سے پارکنگ ایریا میں داخل ہوئے، تو وہاں موجود ایک نجی پارکنگ کمپنی کے اہلکار نے انھیں سلام کیا اور معمول کے مطابق گاڑی کی چابی طلب کی۔

چناب کلب میں آنے والے ارکان کے لیے یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔

ریحان اشرف بھی کلب کے رکن تھے اور اکثر یہاں آتے رہتے تھے۔ انھوں نے گاڑی کی چابی پارکنگ اہلکار کے حوالے کی اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ڈائننگ ہال کی جانب روانہ ہو گئے۔

چند ہی لمحے گزرے تھے کہ انھیں گاڑی میں نصب ٹریکر سے گاڑی کے آن اور پھر آف ہونے کا الرٹ موصول ہوا۔ یہ صورتحال ان کے لیے تشویش کا باعث تھی کیونکہ ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ اس سے یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ گاڑی پارکنگ ایریا سے نکالی گئی ہے۔

وہ فوری طور پر ڈائننگ ہال سے باہر نکلے اور پارکنگ ایریا کی طرف دوڑے، جہاں پہنچ کر انھیں معلوم ہوا کہ نہ تو گاڑی موجود تھی اور نہ ہی وہ پارکنگ اہلکار جس نے چابی وصول کی تھی۔

کچھ دیر کی افراتفری کے بعد انھوں نے ٹریکر کمپنی اور پولیس ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کیا۔ ٹریکر کمپنی نے گاڑی کی لائیو لوکیشن فراہم کی، جس کے بعد وہ دوسری گاڑی میں اس لوکیشن کا تعاقب کرتے ہوئے وہاں پہنچ گئے جہاں مبینہ طور پر ان کی گاڑی موجود تھی۔

تاہم اپنی گاڑی تک پہنچنے کی یہ کوشش ریحان اشرف کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔

ایف آئی آر میں کیا کہا گیا ہے؟

تھانہ صدر فیصل آباد میں درج مقدمے کے مدعی محمد حسن اشرف ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق واقعہ 17 اکتوبر کی رات تقریباً نو بجے پیش آیا۔

ایف آئی آر میں درج بیان کے مطابق محمد حسن اشرف اپنے بھائی محمد ریحان اشرف اور ساتھیوں محمد اکرام اور محمد امجد کے ہمراہ اپنے دفتر سے ریحان اشرف کی گاڑی میں چناب کلب آئے تھے، جہاں گاڑی پارکنگ والے اہلکاروں کے سپرد کر کے وہ کلب کے اندر چلے گئے۔

ایف آئی آر کے مطابق، ’ہم ابھی کلب کے اندر پہنچے ہی تھے کہ گاڑی میں لگے ٹریکر سے گاڑی کے آن اور آف ہونے کے پیغامات آنا شروع ہو گئے۔ ہم فوراً پارکنگ ایریا میں پہنچے تو گاڑی بھی غائب تھی اور وہ نامعلوم پارکنگ اہلکار بھی موجود نہیں تھا۔ جس کے حوالے ہم نے گاڑی اور چابی کی تھی۔‘

مدعی کے مطابق انھوں نے فوری طور پر ٹریکر کمپنی اور پولیس کو اطلاع دی جبکہ ٹریکر کمپنی مسلسل گاڑی کی لوکیشن واٹس ایپ پر فراہم کرتی رہی۔

ایف آئی آر کے مطابق لوکیشن کا تعاقب کرتے ہوئے وہ جڑانوالہ روڈ پر بجلی گھر کے قریب پہنچے، جہاں یو بی ایل بینک کے سامنے ٹریفک کی سست رفتار کے باعث گاڑی کھڑی دکھائی دی۔

مدعی کے مطابق ’ریحان اشرف گاڑی کی طرف لپکے جبکہ ہم ان سے چند قدم پیچھے تھے۔ اسی دوران دو نامعلوم افراد گاڑی سے نکلے۔ ریحان اشرف نے بلند آواز میں کہا، ’میری گاڑی لے کر کہاں بھاگ رہے ہو؟‘

ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اسی اثنا میں ایک ملزم نے پستول سے فائر کیا جو ریحان اشرف کی گردن کے دائیں جانب لگا۔

’ریحان اشرف خون میں لت پت ہو کر زمین پر گر گئے جبکہ ملزمان اسلحہ لہراتے ہوئے فرار ہو گئے۔ ہم انھیں زخمی حالت میں ہسپتال لے جا رہے تھے مگر وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے۔‘

’تفتیش آخری مرحلے میں ہے‘

فیصل آباد پولیس کے ترجمان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ کار چوری اور فائرنگ کے نتیجے میں شہری کے قتل کے واقعے کا سٹی پولیس آفیسر فیصل آباد تنویر حسین نے نوٹس لیتے ہوئے ایس پی اقبال ٹاؤن سے رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور تحقیقات جاری ہیں۔

ایس پی اقبال ٹاؤن سعید احمد نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ تفتیش اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

ان کے مطابق ’پولیس ٹیمیں مختلف پہلوؤں پر کام کر رہی ہیں اور کیس کے تمام اہم نکات تقریباً واضح ہو چکے ہیں۔ امید ہے کہ بہت جلد اس کیس کا ڈراپ سین ہو جائے گا۔‘

تفتیشی ٹیم کے رکن اور تھانہ صدر کے ایس ایچ او محمد علی کے مطابق پارکنگ کمپنی کی رجسٹریشن اور متعلقہ اداروں سے حاصل کردہ اجازت ناموں کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’پارکنگ کے لیے دی گئی گاڑی کا غائب ہونا اور بعد میں گاڑی کے مالک کے قتل کا واقعہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔ اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ متعلقہ کمپنی کس قانونی اور انتظامی اختیار کے تحت کام کر رہی تھی۔‘

واقعے کے بعد پارکنگ کمپنیوں پر بھی سوالات

قانونی ماہر شاہد اسلام کمبوہ ایڈووکیٹ کے مطابق اس واقعے میں صرف یہ سوال اہم نہیں کہ گاڑی کون لے کر گیا بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ آیا نجی پارکنگ سروس کے نظام میں موجود کسی خامی یا غفلت نے اس سانحے میں کردار ادا کیا یا نہیں۔

ان کے مطابق ’تحقیقاتی اداروں کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پارکنگ کمپنیوں کے ملازمین کی بھرتی، تصدیق اور نگرانی کا طریقۂ کار کیا ہے۔ کیا ملازمین کے ماضی کا ریکارڈ چیک کیا جاتا ہے؟ کیا ان سے پولیس کریکٹر سرٹیفکیٹ طلب کیا جاتا ہے؟‘

شاہد اسلام کمبوہ کا کہنا ہے کہ بعض اوقات کسی ادارے میں مجرمانہ پس منظر رکھنے والا فرد ملازمت حاصل کر لیتا ہے جس کے بعد اس کے اقدامات پوری کمپنی کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے سکیورٹی کمپنیوں میں سخت جانچ پڑتال کا عمل اپنایا جاتا ہے۔

دوسری جانب پارکنگ کے شعبے سے وابستہ نعمان یوسف کہتے ہیں کہ پاکستان میں ویلیٹ پارکنگ کمپنیاں شادی ہالوں، ہوٹلوں، ہسپتالوں، کارپوریٹ تقریبات اور شاپنگ مالز میں گاڑیوں کی محفوظ اور منظم پارکنگ کی خدمات فراہم کرتی ہیں۔

ان کے مطابق ان کمپنیوں کا کام صرف گاڑیاں پارک کرنا نہیں بلکہ ٹریفک کے بہاؤ کو منظم رکھنا اور مہمانوں کو سہولت فراہم کرنا بھی ہوتا ہے۔

نعمان یوسف کہتے ہیں، ’اپنی نوعیت کے اس غیر معمولی واقعے نے پارکنگ کمپنیوں کے کام کرنے کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اب امکان ہے کہ کمپنیاں ملازمین کی جانچ پڑتال اور بھرتی کے عمل کو مزید سخت بنائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US