خیبر پختونخوا میں معدنیات کے ٹھیکوں پر بحث اور ’ایف ڈبلیو او‘ کا ذکر: شمالی وزیرستان میں ’محمد خیل‘ کاپر منصوبہ کیا ہے؟

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے معدنی وسائل اور انھیں نکالنے کے لیے دیے جانے والے ہزاروں ٹھیکے گذشتہ کئی دنوں سے بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں معدنیات کے ٹھیکوں پر تنازع کیوں ہے اور ’محمد خان‘ کاپر منصوبہ کیا ہے؟

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبے کے معدنی وسائل اور انھیں نکالنے کے لیے دیے جانے والے ہزاروں ٹھیکے گذشتہ کئی دنوں سے بحث کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے دور میں معدنیات کے ہزاروں لائسنسز کے اجرا کی تحقیقات کی جائیں گی۔

ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ’صوبے کے بعض سیاستدانوں کی جانب سے ایمرجنسی کو معدنیات سے جوڑنے کا افسوسناک پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔‘

یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب 16 اکتوبر کو ملتان میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے الزام لگایا تھا کہ معدنی وسائل سے مالا مال سابقہ قبائلی اضلاع میں گورنر راج نہیں بلکہ ایمرجنسی لگائی گئی ہے اور ’قوم کو دھوکہ دیا گیا ہے۔‘

یاد رہے کہ 11 اکتوبر کو وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی حکومت اور صوبائی اسمبلی کو غیر فعال کر دیا تھا۔ تاہم حکومت کے بقول ’تقریباً حالت جنگ‘ میں رہنے والے 12 اضلاع کے لیے ایک خصوصی سیکریٹریٹ قائم کیا تھا۔

تاہم مولانا فضل الرحمان نے اپنی تقریر کے دوران کہا کہ 2018 میں سابقہ قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد ’پہاڑوں کے نیچے معدنی ذخائر صوبے کی ملکیت بن گئے۔ انضمام کے بعد تمام وسائل اور ذخائر پر صوبے کے عوام کا حق ثابت ہو گیا۔ آج کیا وجہ ہے کہ پورے صوبے میں گورنر راج نہیں لگایا جا رہا۔‘

انھوں نے اس حکومتی موقف کو بھی رد کیا تھا کہ ایمرجنسی لگانے کی وجہ شدت پسندی کے بڑھتے واقعات ہیں۔

مولانا کے اس بیان سے وفاقی وزرا اور خود گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اختلاف کیا ہے۔ پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا نے اس کے جواب میں کہا تھا کہ ’مولانا فضل الرحمان بتائیں لکی مروت، ٹانک اور بنوں میں کون سے پہاڑ اور معدنی وسائل موجود ہیں۔‘

دریں اثنا پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزیر معدنیات عارف احمدزئی کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں تانبے کی بڑے پیمانے پر کان کنی کا لائسنس پاکستانی فوج میں ملٹری انجینئیرنگ کے ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے پاس ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس منصوبے سے صوبے کے عوام کو مکمل رائلٹی منتقل نہیں کی جا رہی جس کی شکایت وہ کئی بار کر چکے ہیں۔

تاہم وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس دعوے کو رد کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے دور میں خیبر پختونخوا میں معدنیات کے لائسنسز تیزی سے بڑھے جبکہ ’عسکری اداروں کا اس شعبے میں براہِ راست حصہ سرے سے تھا ہی نہیں۔‘

بی بی سی نے اس معاملے پر مزید وضاحت کے لیے ایف ڈبلیو او کو سوالات بذریعہ ای میل بھیجے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں معدنیات کے ٹھیکوں پر تنازع کیوں؟

جیولاجیکل سروے آف پاکستان اور صوبے کے محکمہ معدنیات کے مطابق خیبر پختونخوا اور سابقہ فاٹا معدنی وسائل سے مالا مال خطہ ہیں جہاں دھاتی اور غیر دھاتی معدنیات کے نمایاں ذخائر پائے جاتے ہیں۔ ان میں کرومائٹ، تانبا، سونا، کوئلہ، سنگ مرمر، چونا پتھر، جپسم اور ٹالک شامل ہیں، جبکہ یہ خطہ قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں کے ذخائر کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔

وفاق نے صوبے میں بیک وقت گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی وجہ شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے واقعات کو قرار دیا ہے تاہم بعض حلقے یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا اس کا تعلق صوبے کے معدنی وسائل ہیں۔

اگرچہ گورنر اور وفاقی وزرا کی جانب سے اس کی تردید کی جا چکی ہے تاہم صوبے کے بعض سیاستدان اور غیر فعال صوبائی اسمبلی کے ارکان کے تحفظات برقرار ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان نے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ ’سات ہزار ارب روپے کے معدنی وسائل‘ والے 12 اضلاع میں ایمرجنسی لگا کر ’کام شروع کر دیا گیا۔‘ تاہم ان کی جانب سے ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ آیا کوئی نیا منصوبہ حال ہی میں شروع کیا گیا یا نہیں۔

انھی کی جماعت سے تعلق رکھنے والے نثار باز خان صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مائنز اینڈ منرلز کے رکن تھے۔ ایکس پر بیان میں وہ کہتے ہیں کہ اس وقت صرف ایک لارج سکیل لائسنس فعال ہے جو کہ کاپر کی کان کنی کا جوائنٹ وینچر ہے اور اس میں ایف ڈبلیو او بھی شریک ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ قوانین کے مطابق اس سے پانچ فیصد رائلٹی صوبے کے عوام کا حق ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پانچ فیصد رائلٹی کے حساب سے تقریباً 34.5 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کے مطابق محکمہ معدنیات کو صرف 16.9 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ دوسری طرف صوبے کے 4000 سے زیادہ چھوٹے لیز ہولڈرز کی مجموعی سالانہ آمدن تقریباً 14 ارب روپے ہے۔ انھوں نے اس معاملے میں شفاف آڈٹ اور احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔

نثار باز خان مزید کہتے ہیں کہ ان چھوٹے لیز ہولڈرز میں ’مختلف سیاسی جماعتوں کے افراد، ریٹائرڈ فوجی افسران اور پاکستان بھر کے شہری شامل ہیں۔ اور یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے۔‘

دوسری طرف وزیر دفاع خواجہ آصف نے خیبر پختونخوا میں معدنیات کے لائسنسز کے سرکاری اعداد و شمار شیئر کیے ہیں۔ ان کے مطابق قیامِ پاکستان سے 2010 تک خیبر پختونخوا میں معدنیات کے صرف 482 لائسنسز جاری ہوئے تھے۔

مگر ان کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومتوں کے دور میں یہ تعداد تیزی سے بڑھی۔ ’2020 تک لائسنسز کی تعداد 1,762، فروری 2024 تک 3,962 اور موجودہ وقت میں مجموعی طور پر 4,917 مائننگ لائسنسز جاری کیے جا چکے ہیں۔ ان میں 4,133 آباد اضلاع جبکہ 784 ضم شدہ اضلاع میں ہیں۔‘

انھوں نے ایف ڈبلیو او کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسے ’صرف ایک لائسنس ملا، جو 2015 میں شمالی وزیرستان کے بویا علاقے میں جاری کیا گیا تھا، جہاں ایف ڈبلیو او تعمیراتی اور بحالی کے کاموں میں مصروف رہا۔‘

’اس وقت 500 سے زائد نئی درخواستیں زیرِ غور ہیں، جن میں سے کوئی بھی کسی عسکری ادارے کی جانب سے دائر نہیں کی گئی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’عسکری اداروں کا اس شعبے میں براہِ راست کردار نہ ہونے کے برابر رہا۔‘

سابق صوبائی وزیر معدنیات عارف احمدزئی نے کیا بتایا؟

یہ تنازع کئی روز تک زیرِ بحث رہنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزیر معدنیات عارف احمدزئی نے اپنی کارکردگی کا دفاع کیا ہے جبکہ رائلٹی کی مکمل ادائیگی نہ ہونے پر بھی اظہار خیال کیا ہے۔

ایک ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے دور میں لائسنسز کی تعداد بڑھنے سے معاشی سرگرمی بڑھی جبکہ پہلے معدنیات سے صوبے کو 70 کروڑ روپے کی آمدنی پیدا ہوتی تھی جو کہ اب 14 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔

عارف احمدزئی نے مزید کہا کہ لیز دینے، شکایات کے ازالے اور دیگر معاملات پر شفاف طریقہ کار اپنایا گیا تھا۔

انھوں نے وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں بڑے سکیل کے چار لائسنسز تقسیم کیے گئے تھے جن میں سے صرف ایف ڈبلیو او کا لائسنس فعال ہے۔

سابق صوبائی وزیر معدنیات نے کہا کہ ’جب بھی میں محکمے والوں کو کہتا تھا کہ آپ کیوں ہمیں رائلٹی نہیں دیتے؟ آپ جو خود اندازہ لگاتے ہیں کہ اتنی پروڈکشن کی ہے، آپ اسی کے مطابق رائلٹی دے دیں۔ تو وہ (محکمہ معدنیات) سر جھکاتے تھے اور کہتے تھے کہ ’ہم کیا کریں، ہم انھیں بتا بھی دیں تو وہ ہمیں (رائلٹی) نہیں دیتے۔‘

انھوں نے گورنر فیصل کریم کنڈی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’معدنیات کا پہلا حق علاقے کے لوگوں کا ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ باہر کے لوگوں کو بلائیں اور کہیں کہ یہاں سے معدنیات نکال کر لے جائیں۔‘

محمد خیل کاپر منصوبہ کیا ہے؟

شمالی وزیرستان کے محمد خیل علاقے میں تقریباً 30 مربع کلومیٹر پر پھیلا تانبے کا منصوبہ ڈیگن ایکسپلوریشن ورکس (ڈی ای ڈبلیو) کے پاس ہے جو ایف ڈبلیو او کی ذیلی کمپنی ہے۔ اسے ایم ایل 30 کاپر مائننگ پروجیکٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

ایف ڈبلیو او کی ویب سائٹ کے مطابق یہ پاکستان میں تانبے کی کان کنی کا دوسرا سب سے بڑا منصوبہ ہے جو 2019 سے فعال ہے۔ منصوبے میں ایک اوپن پٹ مائن (کھلی کان) اور یومیہ 1,500 ٹن کاپر کا بینیفیشی ایشن پلانٹ شامل ہے۔

صوبائی اسمبلی کے ایک اجلاس کی دستاویز کے مطابق اس منصوبے کے لیے 15 جولائی 2016 کو 20 سالہ مائننگ لیز دی گئی جبکہ 5 اپریل 2017 کو اُس وقت کی فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی (موجودہ منرلز ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ) کے ساتھ جوائنٹ وینچر معاہدہ کیا گیا۔ دستاویز میں منافع کی تقسیم کا تناسب ڈی ای ڈبلیو کے لیے 50 فیصد، منرلز ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے لیے 10 فیصد، سی ایس آر فنڈ کے لیے 22 فیصد اور قومی کمیشن کے لیے 18 فیصد درج ہے۔

اسی دستاویز کے مطابق 2016 سے 2024 تک منصوبے سے 952,878 میٹرک ٹن معدنی پیداوار حاصل ہوئی جبکہ رائلٹی، کرایوں اور جوائنٹ وینچر کی مد میں 189.803 ملین روپے وصول کیے گئے۔ تاہم دستاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سرکاری واجبات کی بروقت ادائیگی کے لیے متعدد نوٹس جاری کیے گئے تھے، جن کی مزید تفصیلات دستاویز میں شامل نہیں۔

بی بی سی نے اس حوالے سے ایف ڈبلیو او کو سوالات بذریعہ ای میل بھیجے ہیں۔

ایف ڈبلیو او کی ذیلی کمپنی منرل ایکسپلوریشن ڈیویلپمنٹ آپریشنز (ایم ای ڈی او) کی ویب سائٹ کے مطابق 2023 میں اس منصوبے کی سٹریٹیجک اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے مخصوص ایکسپورٹ پراسیسنگ زون قرار دیا گیا تھا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US