آذربائیجان میں ایک خاتون ٹیچر کی ملازمت چھوڑنے کی خبر سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر رہی ہے جنہوں نے حجاب کے معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے بجائے 21 سال پرانی ملازمت کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق خاتون گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے ایک اسکول میں تدریسی فرائض انجام دے رہی تھیں۔ اس دوران انہوں نے کئی طالبات کی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کیا اور ان کے ساتھ ایک مضبوط تعلق قائم کیا، تاہم حجاب سے متعلق پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد انہوں نے ملازمت جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔
اس واقعے کا سب سے جذباتی لمحہ اس وقت سامنے آیا جب خاتون استاد آخری مرتبہ اپنی طالبات سے ملنے اسکول پہنچیں۔ اپنی پسندیدہ ٹیچر کی رخصتی کا سن کر بچیاں افسردہ ہوگئیں اور کئی طالبات انہیں گلے لگا کر روتی دکھائی دیں۔
سامنے آنے والے مناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون اپنی طالبات کو تسلی دے رہی ہیں جبکہ بچیاں ان سے جدا ہونے پر غمگین ہیں۔ برسوں سے قائم استاد اور شاگرد کے تعلق کی جھلک اس الوداعی ملاقات میں واضح طور پر نظر آئی۔
خاتون ٹیچر کے فیصلے نے سوشل میڈیا پر مذہبی لباس، ذاتی انتخاب اور ملازمت کے حوالے سے ایک نئی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔
21 برس تک تدریس سے وابستہ رہنے والی اس خاتون کی رخصتی نے یہ بھی ظاہر کیا کہ ایک استاد کا کردار صرف کلاس روم تک محدود نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے شاگردوں کی زندگیوں میں ایسی جگہ بنا لیتا ہے جسے برسوں بعد بھی بھلانا آسان نہیں ہوتا۔