ٹائیگر شروف پر حملے میں دو خواتین سمیت آٹھ ملزمان گرفتار: ’میری بیٹی بے قصور ہے‘

ممبئی پولیس نے بدھ کے روز ایک مقامی عدالت کو بتایا کہ بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ کے رکن انیل پانڈت کے کہنے پر فائرنگ کی گئی تھی۔

ممبئی پولیس نے بدھ کے روز ایک مقامی عدالت کو بتایا کہ بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف پر مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ کے رکن انیل پانڈت کے کہنے پر فائرنگ کی گئی تھی۔

ممبئی پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر تین ملزمان کی گرفتاری اور پھر پانچ مزید افراد کی گرفتاری کے بعد تفتیش کا دائرہ اسلحہ فراہم کرنے والے ایک نیٹ ورک اور دیگر پہلوؤں کا پتا لگانے کے لیے وسیع کر دیا گیا ہے۔

اب تک گرفتار کیے گئے آٹھ افراد میں سے تین اہم ملزمان پر مبینہ طور پر ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ اِن تین ملزمان کو بدھ کی صبح راجستھان کے شہر کوٹا سے ممبئی لایا گیا اور انھیں 31 اکتوبر تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔

تفتیش کاروں نے عدالت کو بتایا کہ یہ حملہ مبینہ طور پر لارنس بشنوئی گینگ کے رکن انیل پانڈت کی ہدایات پر کیا گیا تھا اور مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔

خبر رساں ادارے اے این آئی کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر آٹھ ملزمان میں سے دو خواتین ہیں۔ پولیس کو شبہ ہے کہ وہ فائرنگ میں استعمال ہونے والے اسلحہ کی فراہمی کے نیٹ ورک میں ملوث تھیں۔

ایک ملزمہ کی والدہ نے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی بیٹی بے قصور ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’وہ ہریانہ میں رہتی تھی۔ وہ ایک کمپنی میں کام کر رہی تھی۔ ممکن ہے کسی نے اسے مجبور کیا ہو، بہکایا ہو۔ میری بیٹی یہ راستہ اختیار نہیں کر سکتی۔

’وہ میری اکلوتی بیٹی ہے۔ اس کی شادی ہو چکی ہے۔ وہ پہلے ہمارے ساتھ رہتی تھی۔ لیکن اس وقت ہریانہ میں الگ رہ رہی ہے۔ براہِ کرم اسے رہا کر دیں، وہ بے قصور ہے۔‘

Tiger Sheroff
Getty Images
ٹائیگر شروف اس حملے میں محفوظ رہے تھے

خیال رہے کہ ٹائیگر شروف پر حملے کے بعد انھیں ممبئی پولیس کی پروٹیکشن برانچ نے اضافی سکیورٹی فراہم کی ہے۔

اس سے قبل ممبئی کرائم برانچ کے ڈی سی پی راج تلک روشن نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ ابتدائی تین ملزمان کی عمریں 18 سے 22 سال کے درمیان ہیں، جن میں سے دو کا تعلق ہریانہ کے ضلع سونی پت سے ہے جبکہ ایک ملزم بہار کا رہائشی ہے۔ اُن کے مطابق دو ملزمان نے بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے، جبکہ ایک نے نویں جماعت تک تعلیم حاصل کی۔

ڈی سی پی راج تلک کے مطابق ملزمان کے مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ کی جا رہی ہے۔

ٹائیگر شروف پر اس وقت حملہ کیا گیا تھا جب وہ ایک تقریب میں شرکت کے بعد واپس روانہ ہو رہے تھے۔ اس حملے میں ٹائیگر محفوظ رہے تھے تاہم اُن کے ڈرائیور اور گاڑی میں موجود ایک اور شخص زخمی ہوئے تھے۔

مشتبہ ملزمان کی گرفتاری کا آپریشن

18 اکتوبر (اتوار) کی شام لگ بھگ سات بجے بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی پر فائرنگ کے واقعے کی اطلاع ملنے کے کچھ ہی دیر بعد ممبئی پولیس کی جانب سے تشکیل دی گئی 15 ٹیمیں تحقیقات میں مصروف تھیں جبکہ فرانزک ماہرین بھی جائے وقوعہ پر پہنچ چکے تھے۔

ممبئی پولیس کے مطابق جس علاقے میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، وہاں نصب تمام سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا تھا اور ملزمان کا سراغ لگانے کے لیے کوششیں جاری تھیں۔

اور پھر اگلے ہی روز یعنی 19 اکتوبر کو حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ 17 سے 22 سال کی عمر کے تین ملزمان کو کوٹا (راجستھان) کے ایک ٹرین سٹیشن سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’پریس ٹرسٹ آف انڈیا‘ نے پولیس حکام کے حوالے سے بتایا کہ ٹائیگر شروف پر حملے کے فوری بعد تینوں ملزمان ٹیکسی میں سوار ہو کر سورت پہنچ گئے تھے۔

یاد رہے کہ سورت ممبئی سے تقریباً 275 کلومیٹر دور واقع ہے۔ سورت پہنچنے کے بعد ملزمان رات کو تقریباً ڈیڑھ بجے جے پور جانے والی ٹرین میں سوار ہوئے۔

کوٹا ریلوے پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق سامنے آنے والی نئی فوٹیج سے پتا چلا کہ ملزمان گجرات کے شہر سورت کے ریلوے سٹیشن پر موجود تھے اور جلد بازی میں 'پونے-جے پور ایکسپریس ٹرین' میں سوار ہوئے۔

ویسٹ ریلوے کے وڈودرا ڈویژن کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ابھیئے سونی کے مطابق مشتبہ ملزمان کی تلاش کے آپریشن میں گجرات ریلوے پولیس (جی آر پی) اور ریلوے پروٹیکشن فورس (آر پی ایف) نے ممبئی پولیس کے ساتھ رابطہ اور تعاون کیا۔

کوٹا ڈویژنل ریلوے منیجر (ڈی آر ایم) نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر ملزمان کی گرفتاری کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ مشتبہ افراد کو ایک مشترکہ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔

اُن کی جانب سے ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ 'ممبئی کے علاقے ’جوہو‘ میں اداکار ٹائیگر شروف کی گاڑی کو مبینہ طور پر نشانہ بنا کر فائرنگ کیے جانے کے حوالے سے موصول ہونے والی اطلاع کی بنیاد پر ایک نابالغ سمیت تین مشتبہ افراد کو ٹرین نمبر 12939 ’پونے-جے پور ایکسپریس‘ سے اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ کوٹا سٹیشن پر پہنچے۔ ممبئی پولیس اور متعلقہ تحقیقاتی اداروں کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔ واقعے میں مشتبہ افراد کے مبینہ کردار کی تحقیقات جاری ہیں۔'

اس موقع پر جاری کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اہلکاروں نے تینوں ملزمان کے چہروں پر کپڑا ڈال رکھا ہے اور انھیں سٹیشن سے باہر نکالا جا رہا ہے۔

مقامی پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او رام سروپ مینا نے صحافیوں کو بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے نہ تو اسلحہ برآمد ہوا اور نہ ہی کوئی رقم ملی ہے۔

منگل کے روز انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ 'مہاراشٹرا پولیس کے اہلکار کوٹا سٹیشن پر پہلے ہی موجود تھے۔ انھوں نے ملزمان سے ابتدائی تفتیش کی، جس کے بعد انھیں مہاراشٹرا پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔'

Tiger Sheroff
Getty Images
حکام کے مطابق مشتبہ افراد میں سے ایک کی جانب سے ٹیکسی ڈرائیور کی گئی کال سے ملزمان کا سراغ ملا (علامتی تصویر)

فون کال جس سے ملزمان کا سراغ ملا

بی بی سی ہندی نے مقامی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ملزمان کارروائی کے فوراً بعد ممبئی سے بذریعہ سڑک سورت پہنچے تھے جہاں ایک ٹیکسی ڈرائیور کو مشتبہ افراد میں سے ایک کی جانب سے کال کی گئی اور اسی فون کال نے ممبئی پولیس کو مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے میں اہم مدد فراہم کی۔

رپورٹ کے مطابق پولیس کی نگرانی سے بچنے کے لیے ملزمان نے اپنے موبائل فون بند کر رکھے تھے اور وہ مسلسل اپنی لوکیشن اور سفر کے ذرائع تبدیل کر رہے تھے، تاہم اتوار کی شب ایک ملزم نے ٹیکسی ڈرائیور کو فون کر کے ملاقات کی جگہ بتائی۔

انڈین ایکسپریس نے اس واقعے کی تحقیقات میں شامل ایک پولیس افسر کے حوالے سے بتایا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ملزمان کی شناخت پہلے ہی کر لی گئی تھی جبکہ بعدازاں تکنیکی ذرائع سے اُن کے موبائل فونز کا بھی سراغ لگایا گیا۔

ٹیکسی ڈرائیور کو فون کیے جانے کے بعد پولیس نے اُس کا موبائل نمبر حاصل کر لیا، حالانکہ ملزم نے بعد میں اپنا فون بند رکھا ہوا تھا۔

رپورٹ کے مطابق ٹیکسی ڈرائیور نے پولیس کو اُس مقام تک پہنچایا جہاں اُس نے ملزمان کو اُتارا تھا جس کے بعد پولیس نے قریبی علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا، جس سے معلوم ہوا کہ بس کا انتظار کرنے کے بعد ملزمان سورت سے ’پونے-جے پور ایکسپریس‘ ٹرین میں سوار ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق پلیٹ فارم پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج سے یہ بھی پتا چل گیا کہ وہ ٹرین کے کس ڈبے میں سوار ہوئے تھے۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ٹرین کا اگلا سٹاپ کوٹا تھا، لہٰذا کوٹا پولیس کو آگاہ کر دیا گیا، جہاں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US