غزہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والی 8 سالہ فلسطینی بچی فاطمہ البیوک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی۔ فاطمہ کی موت نے ایک بار پھر غزہ کے معصوم بچوں کو درپیش المناک حالات کی جانب توجہ مبذول کرا دی ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فاطمہ چند روز قبل وسطی غزہ کے شہر دیر البلاح میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے شدید زخمی ہوئی تھی۔ اسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم طبی امداد کے باوجود اس کی جان نہ بچائی جاسکی۔ بچی کی تدفین اس کے قریبی رشتہ داروں نے کی۔
فاطمہ کی زندگی پہلے ہی ایک دردناک سانحے سے گزر چکی تھی۔ سال 2023 میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے دوران اس کا خاندان جاں بحق ہوگیا تھا۔ اس وقت فاطمہ تباہ شدہ عمارت کے ملبے تلے دب گئی تھی، جہاں سے امدادی کارکنوں نے اسے دو روز بعد زندہ نکالا تھا۔
خاندان سے محروم ہونے والی ننھی فاطمہ کو اس کی دادی کے حوالے کیا گیا، جن کی سرپرستی میں وہ زندگی گزار رہی تھی۔ تین سال قبل ایک تباہ کن حملے میں زندہ بچ جانے والی فاطمہ اس بار فائرنگ سے لگنے والے زخموں کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی۔
غزہ میں جاری جنگ نے ہزاروں خاندانوں کو اپنے پیاروں سے محروم کردیا ہے۔ خاص طور پر بچے مسلسل خوف، بے گھری، خوراک کی قلت اور علاج کی ناکافی سہولتوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔