"میں نے تقریباً 20 سال پہلے جیفری ایپسٹین کو اپنے کلب سے نکال دیا تھا، کیونکہ مجھے وہ ایک عجیب اور ناقابلِ بھروسہ شخص لگتا تھا۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ اسے نکال کر میں نے بہت اچھا فیصلہ کیا تھا۔"
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدنام زمانہ سرمایہ کار جیفری ایپسٹین کے ساتھ اپنے ماضی کے تعلقات پر ایک بار پھر خاموشی توڑتے ہوئے ایسا دعویٰ کیا ہے جس نے امریکہ میں جاری بحث کو نئی توجہ دے دی ہے۔
ٹرمپ ریاست اوہائیو کے شہر چِلی کوتھی میں ریپبلکن سینیٹر جون ہسٹڈ کی انتخابی مہم کے سلسلے میں ایک جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ اسی دوران مجمعے میں موجود ایک شخص نے ایپسٹین کا نام لے کر نعرے لگائے، جس پر امریکی صدر نے خود اس معاملے پر بات کرنا شروع کر دی۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ وہ دو دہائیاں پہلے ہی ایپسٹین کے رویے سے مطمئن نہیں تھے، اسی لیے انہوں نے اسے اپنے کلب سے باہر نکال دیا تھا۔ ان کے مطابق یہ ان کا درست فیصلہ تھا، جس پر انہیں آج بھی اطمینان ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایپسٹین سے متعلق معاملے میں انہیں مکمل طور پر بری قرار دیا جا چکا ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس قانونی کارروائی یا فیصلے کا حوالہ دے رہے تھے۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا کہ ایپسٹین کے تعلقات ڈیموکریٹک پارٹی کے لوگوں سے زیادہ تھے۔
جلسے کے دوران ٹرمپ نے اپنے خلاف احتجاج کرنے والوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں کمزور اور بیمار ذہنیت کے حامل افراد قرار دیا۔
واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین ایک امریکی سرمایہ کار تھا، جس پر کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال اور اسمگلنگ کے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ اگست 2019 میں وہ نیویارک کی ایک وفاقی جیل میں مردہ پایا گیا، جہاں وہ مقدمے کی سماعت کا منتظر تھا۔ حکام نے اس کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا۔
ٹرمپ اور ایپسٹین کی ماضی کی جان پہچان طویل عرصے سے امریکی میڈیا اور عوامی بحث کا موضوع رہی ہے۔ اگرچہ دونوں کے سماجی روابط کے بارے میں معلومات سامنے آ چکی ہیں، تاہم ٹرمپ پر ایپسٹین کے جنسی جرائم میں شریک ہونے کا کوئی باضابطہ فوجداری الزام عائد نہیں کیا گیا۔