دنیا کی تقریباً 85 سے 90 فیصد آبادی دائیں ہاتھ سے کام کرنے کی عادی ہے جبکہ صرف 10 سے 15 فیصد افراد بائیں ہاتھ کا استعمال کرتے ہیں، اور دنیا میں کوئی ایسی انسانی آبادی موجود نہیں جہاں بائیں ہاتھ سے کام کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہو۔
ماہرین کے مطابق کسی فرد کے دائیں یا بائیں ہاتھ کی عادت پر ماحول اور معاشرتی روایات کا بھی اثر پڑتا ہے، مثلاً بعض ثقافتوں میں بائیں ہاتھ کو ناپاک تصور کیا جاتا ہے اور بچوں کو دائیں ہاتھ سے کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، تاہم ایسے معاشروں میں بھی جہاں کوئی سماجی تعصب موجود نہیں، بائیں ہاتھ والے اقلیت میں ہی رہتے ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کی بنیاد حیاتیاتی عوامل میں بھی موجود ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس کا رجحان پیدائش سے پہلے ہی شروع ہوجاتا ہے اور الٹراساؤنڈ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ حمل کے دسویں ہفتے تک زیادہ تر بچے دایاں بازو زیادہ حرکت دیتے ہیں جبکہ پندرہویں ہفتے سے دایاں انگوٹھا چوسنا شروع کر دیتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ رجحان دماغ کی ابتدائی نشوونما کے دوران جینیاتی طور پر تشکیل پاتا ہے اور تقریباً 40 جینز براہ راست کسی ایک ہاتھ کا تعین کرنے کے بجائے دماغ کی ساخت اور نشوونما پر اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں عموماً دایاں ہاتھ غالب رہتا ہے۔