کلبھوشن کی سزا پر ’نظرِثانی‘ کس فورم پر ممکن ہے؟

عالمی عدالتِ انصاف نے پاکستان سے مبینہ انڈین جاسوس کی سزائے موت پر نظرِثانی کو کہا ہے تاہم ماہرینِ قانون نظرِ ثانی کی ہدایت کی تشریح کے معاملے پر اختلاف رائے کا شکار ہیں۔

ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں عالمی عدالت انصاف نے پاکستان میں پکڑے جانے والے مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے جہاں اسے سنائی جانے والی سزائے موت کی معطلی اور بریت کی انڈین اپیل رد کر دی ہے وہیں پاکستان سے بھی کہا ہے کہ وہ کلبھوشن کی سزائے موت پر نظر ثانی کرے اور انھیں قونصلر رسائی دے۔

بدھ کو ہیگ میں جاری ہونے والے فیصلے میں عالمی عدالت نے انڈیا کی جانب سے دائر کی گئی اپیل پر پاکستان کی جانب سے لگائے گئے اعتراضات مسترد کر دیے اور کہا کہ پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی کی سہولت نہ دے کر ویانا کنونشن کی شق 36 کی خلاف ورزی کی ہے۔

کلبھوشن جادھو کو پاکستانی حکام نے مارچ 2016 میں ایک عرصے سے بدامنی اور شورش کا شکار صوبے بلوچستان کے سرحدی علاقے سے گرفتار کیا تھا اور انھیں فوجی عدالت نے مقدمہ چلانے کے بعد سزائے موت سنائی تھی۔

مزید پڑھیے

کلبھوشن جادھو کیس: 'پاکستان سزائے موت پر نظر ثانی کرے'

’انڈیا نے عالمی عدالتِ انصاف جا کر سخت غلطی کی ہے‘

’حماقت کا یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے‘

عالمی عدالت کے فیصلے کو دونوں ممالک میں اپنی اپنی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مودی حکومت کی سابق وزیرِ خارجہ شسما سوراج اور پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس فیصلے کو اپنی جیت قرار دیا ہے۔

فیصلے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا کہ عالمی عدالت کا فیصلہ پاکستان کی فتح ہے۔

انھوں نے کہا کہ’عالمی عدالت انصاف نے پاکستان کی فوجی عدالت کا فیصلہ منسوخ نہیں کیا اور کلبھوشن جادھو سے پاکستانی قوانین کے مطابق سلوک کیا جائے گا۔'

شاہ محمود قریشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'کلبھوشن کے پاس صفائی اور بےگناہی پیش کرنے کا حق موجود ہے۔‘

دوسری جانب سشما سواراج نے فیصلہ سامنے آنے کے بعد ٹوئٹر پر اپنے ردعمل میں اس کی تائید کی اور کہا کہ وہ اس فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہیں اور یہ انڈیا کے لیے ایک 'زبردست جیت' ہے۔

نظرِثانی کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

عالمی عدالتِ انصاف نے اپنے فیصلے میں جہاں کلبھوشن جادھو کی بریت کی درخواست رد کی وہیں پاکستان سے اس کی سزا پر نظرِثانی کو بھی کہا ہے۔

پاکستان میں ماہرین قانون عالمی عدالت انصاف کی جانب سے سزا پر موثر نظرِ ثانی کی ہدایت کی تشریح کے معاملے پر اختلاف رائے کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔

سینیئر وکیل اور سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان نے اس بارے میں صحافی عباد الحق سے بات کرتے ہوئے کہا نظرِثانی کا عمل وہی عدالت انجام دے سکتی ہے جس نے پہلی بار سزا سنائی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کئی ممالک میں سزائے موت نہیں دی جاتی اس لیے اس سزا کو سخت سمجھتے ہوئے اس پر نظرِثانی کے لیے کہا گیا ہے۔‘

ان کے بقول ’سویلین عدالت کی جگہ وہی عدالت نظرثانی کرے گی جس نے سزا سنائی۔‘ خیال رہے کہ کلبھوشن جادھو کو یہ سزا فوجی عدالت نے سنائی تھی۔

حامد خان کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت انصاف نے فوجی عدالت کو مجاز عدالت یا فورم تسیلم کیا ہے اور اس کے دائر سماعت کوئی اعتراض نہیں اٹھایا تاہم ان کے مطابق اگر اس معاملے پر پاکستان کی اعلٰی عدلیہ سے رجوع کیا جاتا ہے تو پھر صورتحال تبدیل ہو سکتی ہے۔

عالمی قوانین کے ماہر وکیل اور قانون دان احمر بلال صوفی کا کہا ہے کہ موثر نظرثانی سے مراد ایسا فورم ہوسکتا ہے جس میں عالمی ماہرین قانون کو بھی شامل کیا جا سکتا ہو یا پھر ملک کے ماہرین قانونِ سزا کا جائزہ لیں۔

تاہم سابق وزیر قانون بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ پاکستانی عدالتیں اس معاملے پر موثر نظرثانی کرسکتی ہیں اور عالمی عدالت انصاف نے پاکستانی عدالتوں پر اعتماد کیا ہے اور پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا ہے۔

بیرسٹر علی ظفر اور احمر بلال صوفی اس نکتہ پر متفق نظر آئے کہ پاکستان کو ایک ذمہ دار ملک ہونے کے ناتے عالمی قوانین کی پابندی کرنی چاہیے۔

AFP

احمر بلال صوفی نے نامہ نگار فرحت جاوید سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ذمہ دار ملک کو عالمی عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرنا چاہیےاور ان فیصلوں پر عملدرآمد کرنا چاہیے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں جہاں کچھ ممالک نے عالمی عدالت کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کیا اور ایسے میں سکیورٹی کونسل اس ملک کی جانب سے فیصلہ تسلیم نہ کرنے کی وجوہات پر غور کرتی ہے۔

کلبھوشن جادھو کون ہیں؟

پاکستان کے خفیہ اداروں نے مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کو تین مارچ سنہ 2016 کو بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے گرفتار کیا تھا۔

پاکستانی فوج نے ان کا ایک ویڈیو بیان میڈیا کے سامنے پیش کیا تھا جس میں انھوں نے اعتراف کیا تھا کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں اور انڈیا کے خفیہ ادارے را کے لیے کام کر رہے تھے۔

ویڈیو کے آغاز میں ہی کلبھوشن جادھو نے بتایا تھا کہ انھوں نے 1991 میں انڈین بحریہ میں شمولیت اختیار کی۔

چھ منٹ کے دورانیے پر مشتمل ویڈیو میں کلبھوشن جادھو نے بتایا کہ انھوں نے سنہ 2013 میں را کے لیے کام شروع کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کراچی اور بلوچستان میں را کی جانب سے بہت سی کارروائیاں کرتے آئے ہیں اور وہاں کے حالات کو خراب کرتے رہے۔

انھوں نے بتایا کہ تین مارچ سنہ 2016 کو پاکستانی حکام نے انھیں اس وقت گرفتار کیا جب وہ ایران سے پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے اور ان کا مقصد پاکستان میں داخل ہو کر بی ایس این (بلوچ سب نیشنلسٹس) کے اہلکاروں سے ملاقات کرنی تھی جو آنے والے دنوں میں بلوچستان میں کوئی کارروائی کرنا چاہتے تھے۔

کلبھوشن جادھو کیس، کب کیا ہوا؟

3 مارچ 2016 : انڈین شہری کلبھوشن جادھو کو پاکستان ایران سرحدی علاقے سے گرفتار کیا گیا۔

24 مارچ 2016: پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا کہ کلبھوشن انڈین بحریہ کے افسر اور بھارتی انٹیلی جنس ادارے را کے ایجنٹ ہیں اور انہیں پاکستان اور ایران کے سرحدی علاقے سراوان سے گرفتار کیا گیا۔

26 مارچ 2016 : حکومت پاکستان نے انڈین سفیر کو طلب کر کے بھارتی جاسوس کے غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخلے اور کراچی اور بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے پر باضابطہ احتجاج کیا۔

29 مارچ 2016: کلبھوشن جادھو کے مبینہ اعترافی بیان کی ویڈیو جاری کی گئی۔

اپریل کے مہینے میں کلبھوشن کے خلاف بلوچستان کی حکومت نے دہشت گردی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کروا دی۔

10 اپریل 2017 : کلبھوشن جادھو کو فوجی عدالت نے ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنا دی۔

10 مئی 2017 : انڈیا نے کلبھوشن جادھو کی پھانسی کی سزا پر عمل رکوانے کے لیے عالمی عدالت انصاف میں درخواست دائر کر دی۔

15 مئی 2017 : عالمی عدالت میں بھارتی درخواست کی سماعت ہوئی۔ دونوں جانب کا مؤقف سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

18 مئی 2017: عالمی عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو ہدایت دی کہ مقدمے کا حتمی فیصلہ آنے تک کلبھوشن جادھو کو پھانسی نہ دی جائے۔

21 فروری 2019: عالمی عدالت انصاف میں فریقین کی جانب سے چار دن تک دلائل پیش کیے گئے جن کی تکمیل کے بعد عدالت نے اپنے فیصلے پر غوروخوص شروع کیا۔

17 جولائی 2019: عالمی عدالتِ انصاف نے کلبھوشن کے معاملے پر اپنا فیصلہ سنا دیا جس کے مطابق پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی کی سہولت نہ دے کر ویانا کنونشن کی شق 36 کی خلاف ورزی کی ہے تاہم دوسری جانب فیصلے میں کلبھوشن کی سزائے موت کی معطلی اور بریت کی انڈین اپیل رد کر دی گئی۔ عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان مبینہ جاسوس کی سزائے موت پر نظر ثانی کرے اور کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی دے۔


 

WATCH LIVE NEWS

Samaa News TV PTV News Live Express News Live 92 NEWS HD LIVE Pakistan TV Channels

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.