ہم اس خواہش کے لیے پیسے جمع کرتے تھے لیکن پیسے پورے نہیں ہوتے تھے ۔۔ ان مشہور شخصیات کی آخری خواہش اور الفاظ کیا تھے جنھوں نے سب کو مایوس کردیا؟

image

طارق عزیز

طارق عزیز کی آخری خواہش تھی کہ ۔۔۔۔ طارق عزیز کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ، وہ انتہائی قابل، محب وطن، ہر دلعزیز شاعر، صحافی، سیاستدان، اداکار، صداکار، کمپئیر اور خوبصورت دل کے مالک تھے ، ان کی دہلیز سے کوئی ضرورت مند خالی ہاتھ واپس نہیں جا تا تھا، ان کے بس میں جو ہوتا تھا وہ کرتے تھے۔ طارق عزیز کی دوسری برسی کے موقع پر ان کی بیوہ نے ان کی یادیں تازہ کرتے ہوئے کہا کہ طارق عزیز کبھی بھی کسی کی مدد کرتے ہوئے ہچکچاتے نہیں تھے جو بھی ان سے مدد چاہتا تھا وہ اس کی بھرپور مدد کرتے تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے آج تک نہیں پتہ کہ انہوں نے اپنی ماں یا بہن کو کیا دیا، ہمیشہ وہ اس طرح انہیں دیتے تھے کہ کسی کو پتہ نہیں چلتا تھا کہ کیا دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ آج بھی ان کی قبر پر اتنے لوگ آتے ہیں کہ قبرستان کے نگران کہتے ہیں کہ طارق عزیز کے آنے سے ہمارا قبرستان سج گیا اس میں رونق ہو گئی ہے ۔ لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ طارق عزیز کی یہ دلی خواہش تھی کہ ایک لائبریری بنائیں ، ہم پیسے جمع کرتے تھے لیکن پیسے پورے نہیں ہوتے تھے۔ اب ان کی 4000 سے زائد کتب ہم نے ایک لائبریری کو عطیہ کردیں تاکہ ان سے اسٹوڈنٹس فائدہ اٹھا سکیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میری اتنی لمبی زندگی ان کے ساتھ گزری۔ اس میں اتار چڑھاؤ بھی آئے ہماری بہت خوبصورت زندگی گزری۔ لوگ کہتے ہیں کہ اتنی جلدی دو سال گزر گئے، لیکن کوئی ہم سے پوچھے کہ ہمارا وقت کیسے گزرتا ہے۔ ان میں بناوٹ نہیں تھی ۔ انہوں نے اپنی جمع پونجی خود جس کو جو دینا تھا دے دیا، انہوں نے اپنی جنت خود کمالی۔ اپنے پروگرام میں سوالات کے معاملے میں کوئی بے ایمانی کبھی نہیں کرتے تھے۔ اس معاملے میں بہت کھرے تھے۔

عمر شریف

عمر شریف ہمارے ملک کا ایسا نام جو 2 اکتوبر 2021 کو جرمنی میں انتقال کر گئے وہ دل کے آپریشن کے لئے امریکہ جاتے ہوئے راستے میں انتقال کر گئے۔ عمر شریف ایک لیجنڈ تھے ، کامیڈی کی دنیا کے بےتاج بادشاہ تھے، پوری دنیا میں ان کے چاہنے والے موجود تھے ۔ پوری دنیا میں اپنی پرفارمنس سے انہوں نے کروڑوں دلوں پر راج کیا۔ عمر شریف کامیڈی کنگ کے علاوہ، فلم ڈائریکٹر، ایکٹر، پروڈیوسر، رائٹر بھی تھے۔ عمر شریف کی موت سے کامیڈی کی دنیا کا ایک روشن باب ختم ہوا۔ عمر شریف دل کے عارضے میں مبتلا تھے۔ کچھ عرصہ پہلے اپنی بیٹی کی اچانک موت کے بعد سے وہ بالکل ٹوٹ گئے تھے ان کے اندر سے جینے کی خواہش ختم ہو گئی تھی۔ ان کی آخری خواہش تھی کہ ان کو عبداللہ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں دفن کیا جائے ۔ چنانچہ ان کو مزر کے احاطے میں ہی سپردِ خاک کیا گیا ہے۔

ملکہ ترنم نورجہاں

ملکہ ترنم نورجہاں کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ، وہ موسیقی کے حوالے سے ایک اسکول کا درجہ رکھتی ہیں، نئے آنے والے ان کے انداز کو کتنا ہی کاپی کرنا چاہیں ان کے درجے تک نہیں پہنچ سکتے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ان کے بارے میں ان کی بیٹی حنا کا کہنا ہے کہ "ماں کو دنیا سے گئے 21 برس ہو گئے ہیں۔ کبھی لگتا ہے کہ وہ کہیں نہیں گئیں ہمارے ساتھ ہیں، لیکن کبھی لگتا ہے انھیں ہم سے بچھڑے ایک زمانہ ہو گیا۔ میرے لیے اُن کی ویڈیو دیکھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ یونہی ماں کا گایا کوئی گیت جب کانوں میں پڑتا ہے تو میں اسے سُن نہیں سکتی۔ لوگ نور جہاں کا گیت سن کر محظوظ ہو رہے ہوتے ہیں لیکن ہمارے لیے ماں کا گیت سننا بہت کٹھن کام ہے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں اپنی ماں کو بانھوں میں بھر کر پیار کروں بالکل ویسے ہی جس طرح سے وہ اپنی بانہوں میں ہمیں بھر لیا کرتی تھیں۔

شازیہ بتاتی ہیں کہ "ماں اپنی زندگی کے آخری ساڑھے چارسال شدید بیماررہیں۔ ا عرصہ کے دوران انھیں امریکہ اور برطانیہ کے جدید ہسپتالوں میں داخل کرایا گیا۔ انھیں یقین تھا کہ وہ دوبارہ تندرست ہو جائیں گی اور پھر سے گائیں گی۔ انھوں نے مرنے سے چند ماہ قبل لاہور سے اپنے درزی ظفر کو بلایا اور لگ بھگ 60 نئے جوڑے سلوائے کہ وہ تندرست ہو کر پھر سے ایک نئی زندگی کا آغاز کریں" انہوں نے مزید کہا کہ "ماں واقعی نورجہاں تھی، اپنوں اور ساری دنیا کے لیے وہ نور ثابت ہوئیں"۔۔۔

نائلہ جعفری

اداکارہ نائلہ جعفری پاکستان کی بہت ورسٹائل اداکارہ تھیں 17 جولائی 2021 کو ان کا کینسر کے مرض میں انتقال ہوا۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے امداد کی پیشکش بھی ٹھکرا دی تھی۔ اداکارہ کا ماننا تھا کہ ان کی زندگی ان تمام لوگوں کے سامنے غیر اہم ہے جنہوں نے پاکستان میں تشدد اور دہشت گردی کے باعث اپنی جان گنوادی۔ اداکارہ نائلہ جعفری جو کینسر سے جنگ لڑ رہی تھیں وہ ہفتے کے دن 17 جولائی 2021 کو ہم سے جدا ہوئی تھیں۔ 1990 کی مقبول ٹی وی اداکارہ، ماڈل و فیشن ڈیزائنر نائلہ جعفری 2016 سے بیمار تھیں اور ابتدائی طور پر ان میں اوورین کینسر کی تشخیص ہوئی تھی اور پھر ان میں معدے کے کینسر کی بھی تشخیص ہوئی تھی۔

اپنے علاج اور مدد کے حوالے سے نائلہ جعفری نے ایک دفعہ کہا تھا کہ "میری صحت مداحوں کی دعائوں کے باعث بہتر ہورہی ہے، لوگ دور دور سے مجھے خون دینے ہسپتال آئے، مجھے لوگوں سے اتنا پیار ملا کہ اگر اب میں مر بھی جاؤں تو مجھے کوئی شکایت نہیں"


WATCH LIVE NEWS

مزید خبریں
آرٹ اور انٹرٹینمنٹ
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.