bbc-new

بے نظیر بھٹو کے مجسمے پر تنقید: ’کسی عورت کا مجسمہ تو نظر آ رہا ہے مگر بے نظیر بھٹو کہاں پر ہیں؟

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک پارک میں نصب سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے غیر معیاری مجسمے کو سوشل میڈیا پر کڑی تنقیدکے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بے نظیر
BBC

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک پارک میں نصب سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے غیر معیاری مجسمے کو سوشل میڈیا پر کڑی تنقیدکے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

یہ مجسمہ سابق وزیر اعظم کے نام سے منسوب بے نظیر بھٹو فیملی پارک میں نصب تھا۔

دو روز قبل سماجی رابطوں کی میڈیا پر مجسمے کی تصویر آنے پر صارفین نے اس پر اعتراضات اٹھائے تھے کہ جو مجسمہ نصب کیا گیا تھا وہ کسی طرح بھی بے نظیر بھٹو سے مماثلت نہیں رکھتا۔

بدھ کے روز پیپلز پارٹی کے رہنما کنٹونمنٹ بورڈ انتظامیہ کے ہمراہ پارک آئے اور انھوں نے مجسمے کو پارک سے ہٹا دیا۔

پیپلز پارٹی بلوچستان کے سیکریٹری اطلاعات سربلند خان جوگیزئی نے اس موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دوبارہ رنگ دینے کے بعد مجسمے کی حالت خراب ہوگئی تھی۔

ان کا کہنا تھا بے نظیر بھٹو شہید کی شایان شان نیا مجسمہ جلد پارک میں نصب کیا جائے گا۔

مجسمہ کہاں نصب کیا گیا تھا؟

بے نظیر بھٹو کا مجسمہ اسمگلی روڈ پر کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقے میں واقع بے نظیر فیملی پارک میں نصب کیا گیا تھا۔

اس پارک کو پیپلزپارٹی کے سابق دور حکومت میں بنایا گیا تھا جس کے سامنے شہر کا پوش علاقہ جناح ٹاﺅن واقع ہے۔

اگرچہ تعمیر کے چند سال بعد تک اس پارک کا شمار شہر کے خوبصورت پارکوں میں ہوتا تھا لیکن اس وقت اس کی حالت دگرگوں ہے۔

کوئٹہ میں تفریح کے لیے زیادہ پارک نہ ہونے کی وجہ سے فیمیلیز کی بڑی تعداد اس پارک کا رخ کرتی تھیں۔

اس مجسمے پر جو تختی نصب تھی اس کے مطابق اسے پیپلز پارٹی بلوچستان کے سابق وزیر برائے کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی محمد اسماعیل گجر کی جانب سے نصب کرایا گیا۔

نے نظیر
BBC

’مجسمہ کسی طرح بھی بے نظیر بھٹو سے مماثلت نہیں رکھتا‘

پارک کے مرکزی داخلے سے کچھ فاصلے پر بے نظیر بھٹو مرحوم کا مجسمہ نصب کیا گیا تھا۔

مجسمہ راولپنڈی میں بم دھماکے میں ان کے مارے جانے سے قبل سٹیج پر اس لمحے کی مناسبت سے تھا جب وہ ہاتھ اٹھا کر جلسے کے شرکا کو سلام پیش کررہی تھیں۔

ناقدین کے مطابق یہ مجسمہ کسی طرح بھی بے نظیر بھٹو سے مماثلت اور مشابہت نہیں رکھتا تھا بلکہ اس سے ان کی تضحیک کا پہلو نکل رہا تھا بلکہ قریب سے دیکھنے پر اس سے خوف محسوس ہوتا تھا۔‘

دو روز قبل اس مجسمے کی ایک تصویر سوشل میڈیل پر شیئر کی گئی تھی جس پر کوئٹہ کی انتظامیہ، حکومت اور پیپلز پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

بے نظیر
BBC

مجسمے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر صارفین نے کیا کہا؟ 

وقار حفیظ نامی ایک صارف نے طنزیہ انداز میں کہا کہ’ آپ پیپلز پارٹی کے شاندار ترقیاتی پراجیکٹس سے حسد کرتے ہیں اتنا زبردست مجسمہ تو مائیکل اینجلو بھی نہ بنا پاتا‘۔

امان اللہ صاحبزادہ نے پیپلز پارٹی کوئٹہ شہر کے صدر انوارالدین کاکڑ کے ٹویٹ کو ریٹویٹ کیا جس میں انھوں کہا تھا کہ ’شہید بے نظیر بھٹو فیملی پارک میں دختر مشرق شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا غیر معیاری اور توہین آمیز مجسمہ نصب کرنے پر اظہار افسوس۔ جس سے مجھ سمیت تمام پارٹی جیالوں اور عوام کی دل آزاری ہوئی ہے‘۔ 

عامر خٹک نامی صارف نے اس رائے کا اظہار کیا کہ ’علامہ اقبال کا مجسمہ تو پارک کے مالیوں نے مل کے تراشا تھا، دیکھتے ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے مجسمے کو تراشنے کی ذمہ داری کون لیتا ہے‘۔

اورنگ نامی صارف نے یہ سوال اٹھایا کہ جس نے بھی لگایا ہے غلط لگایا ہے مگر اس میں کسی عورت کا مجسمہ تو نظر آ رہا ہے مگر بے نظیر بھٹو کہاں پر ہیں؟

بے نظیر
BBC

شدید تنقید کے بعد مجسمے کو ہٹا دیا گیا

بدھ کی سہہ پہر کو پیپلز پارٹی کے رہنما اور کنٹونمنٹ انتظامیہ کے اہلکاروں کے ہمراہ آئے اور انھوں نے مجسمے کو وہاں سے ہٹا دیا۔

پیپلز پارٹی بلوچستان جے سیکریٹری اطلاعات سربلندخان جوگیزئی نے اس موقعے پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مجسمے کو کچھ عرصے قبل کلر کیا گیا تھا جس کے باعث اس کی اصلی حالت تبدیل ہوگیا۔

انھوں نے بتایا کہ جب مجسمے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت بالخصوص فریال تالپور نے ہمیں مجسمے کو ہٹانے کے لیے فوری طور پر پارک پہنچ جانے کی ہدایت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم کنٹونمنٹ بورڈ کی انتظامیہ کے پاس گئے اور ان سے مجسمے کو ہٹانے کے لیے بات کی اور ان کے ساتھ مل کر مجسمے کو ہٹا دیا۔

انھوں نے بتایا کہ اس مجسمے کو 2012 کو بنایا گیا تھا لیکن کچھ عرصہ قبل اس کو دوبارہ کلر کیا گیا جس کے باعث اس کی اصلی حالت خراب ہوگئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو شہید سے لوگوں کی محبت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے مجسمے میں تبدیلی محسوس کی تو اس پر ناراضگی کا اظہار کیا جس پر وہ عوام کے شکر گزار ہیں۔

’جب تک پارٹی کے کارکن ہوں گے اس وقت تک محترمہ بے نظیر بھٹو کا نام عزت و احترام سے لیا جائے گا‘۔

سربلند خان جوگیزئی نے کہا بہت جلد محترمہ بے نظیر بھٹو کی شایان شان مجسمہ بناکر اسے یہاں لاکر نصب کیا جائے گا۔


News Source   News Source Text

BBC
مزید خبریں
سائنس اور ٹیکنالوجی
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.