• Poetry
    • Famous Poets
      • Allama Iqbal
      • Ahmed Faraz
      • Amjad Islam Amjad
      • Wasi Shah
      • Parveen Shakir
      • More Poets
    • Poetry Categories
      • Love Poetry
      • Sad Poetry
      • Friendship Poetry
      • Islamic Poetry
      • Punjabi Poetry
      • More Categories
    • Poetry SMS
    • Poetry Images
    • Tags
    • Poetry Videos
    • Featured Poets
    • Post your Poetry
  • News
  • Business
  • Mobile
  • Articles
  • Islam
  • Names
  • Health
  • Shop
  • More
    • Women
    • Autos
    • ENews
    • Recipes
    • Poetries
    • Results
    • Videos
    • Directory
    • Photos
    • Business & Finance
    • Education News
Add Poetry
  • Home
  • Love Poetry
  • Sad Poetry
  • Famous Poets
  • Poetry Images
  • Poetry Videos
  • News
  • Articles
  • More on Poetry
  • Home
  • Urdu Poetry
  • Most Recent Poetries
Add Poetry
Latest Poetry Most Viewed Best Rated
ویران دل تیرے جانے کے بعد دل ویران سا ہیں
تو لوٹ آئے اسی آس پر یہ دل حیران سا ہے
ہر کسی سے پوچھتا ہوں تیرا پتہ
بچھڑ کے تجھ سے، ہر لمحہ پریشان سا ہے
Ali
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad
اشک نا بہا چلو ہم تم کو اپنی جان مان لیتے ہیں
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
Muhammad qasim saleem
ساتھ چل کے دیکھ بے غرض کسی پہ کوئی احساں کر کے دیکھ
میرے سفر کو اپنا ہی سفر کر کے دیکھ
راہِ امید پہ چلنے کا لطف آئے گا عمر بھر
تُو ایک بار بس یہی ارادہ کر کے دیکھ
Muhammad qasim saleem
وہ گھر کہ جس میں تو تھا، تیرا آستاں لگے وہ گھر کہ جس میں تو تھا، تیرا آستاں لگے
اب وہ در و دیوار بھی مجھ کو کہاں لگے
آباد تھا جو تُجھ سے وہ سب اب گراں لگے
تُو کیا گیا کہ سارے ہی موسم خزاں لگے
Rafay Ali
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
 
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی
تصویر سے نکل اس کی تصویر میں جو راز نظر آتے ہیں
بدلے بدلے سے سرکار نظر آتے ہیں
وہ نکلے تصویر سے تو پوچھوں میں غم اس کا
جانے کیوں دنیا سے بےزار نظر آتے ہیں
Muhammad qasim saleem
کوئی اپنے وعدے سے مُکر گیا ہے کوئی اپنے وعدے سے مُکر گیا ہے
کِسی کا دِل ریزہ ریزہ بِکھر گیا ہے
UA
جان ہے کہ جائے جا رہی ہے یونہی تمھیں ہو پرواہ تمھاری محبت میں اپنی ہستی مٹا رہا ہے کوئی
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی
 
Bina
وہ تو کمال کرتے ہیں وہ تو کمال کرتے ہیں
مجھ سے حساب کرتے ہیں
میں پوچھتا ہوں دو باتیں
وہ آدھی کا جواب دیتے ہیں
اپنی شہرت پامال کرتے ہیں
جانے کیوں وبال کرتے ہیں
فرصت کے چند لمحوں میں
وہ مجھ سے کلام کرتے ہی
ان کا احسان یہی ہے مجھ پر
وہ توصبح و شام کرتے ہیں
Muhammad qasim saleem
دھیان ہمارا اتا پتہ سب پتہ تو ہے تمھیں
تمھارا اتا پتہ کچھ نہیں پتہ ہمیں
بات سن لی ہے ہم نے غور سے تمھاری
عمل کرسکیں نہ کرسکیں وعدہ نہیں
آپ کا ہی دھیان نہیں ہے ہماری طرف
بینا ہم کہہ رہے ہیں کہہے جا رہے ہیں
Bina
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے روٹھ جانے کی ہی بات کیوں کرتے ہو
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
Bina
خابوں میں بات میری خامشی کا راز یہی معلوم ہوا
کہ میں خابوں میں بات کرتا ہوں
میرے احساس پہ لگی قدگن ہے
میں دیواروں سے بات کرتا ہوں
پھول سناتے ہیں مجھ کو درد اپنے
میں تو درختوں سے بات کرتا ہوں
رات چمکتے ہوے چاند سے پوچھ
میں ستیاروں سے بات کرتا ہوں
Muhammad qasim saleem
من میں تمھیں بسا کے من میں تمھیں بسا کے
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے
Bina
گھر کا رستہ دکھتا ہے اندھیرا جتنا بھی ہو کوئی معمہ نہیں
سبکو اپنے گھر کا رستہ دکھتا رہتا ہے
Zohaib sarwar
آں کر میری زندگی میں آہ سی چھوڑ گئیں جیا جائے اب اور کتنا اسکے بغیر
آں کر میری زندگی میں آہ سی چھوڑ گئیں
مر بھی جاؤں کیا اس کے بغیر اب
مٹ جاؤ گا، اسکی یادوں کو مٹا کر
Zohaib sarwar
صبح صبح اسکا چہرا دیکھا آج دن کا گزرنا یقیناً خوشگوار ممکن ہے جو چہرا اسکا آج سحر دیکھا Zohaib sarwar
ایک خوبصورت غزل تم نے مجھے چھوڑا، ہم مرے تو نہیں
ہم نے دنیا والوں کو چھوڑا، دنیا تو نہیں
آ بیٹھے ہیں خلوت میں کہیں دور
مزاج میرا بدلا ہے، زمانہ تو نہیں
بدلے ہیں میں نے اپنے معاملاتِ زندگی
اس میں مرا کوئی کمال تو نہیں
سلسلے توڑ آیا محبت کے کہیں سارے
مجھ کو بھاتا اب اُس کے چہرے کا جمال بھی نہیں
میں جنگل میں خیمہ زن ہوئے بیٹھا ہوں، زیب
وہ ملتا تو لالٹین کی ضرورت بھی نہیں
اسے مری رنجشوں سے اگر فرق پڑتا
برملا نہ کہتی کہ اب مجھ کو تری ضرورت تو نہیں
چھوڑ آیا ہوں اپنے پیچھے پیار کرنے والی خدائی بھی
اے خدا! اب مجھے اس خدائی کی بھی ضرورت تو نہیں
 
Zohaib sarwar
دوستی کیلئے ایک نظم وہ مرا بچپن کا رفیق ہے اور بھلا بھی
جیسے مری تقدیر کا ساتھی بھی
میں تنہائی میں بیٹھا لیکن ترے آنے کہ بعد
تصور میں مرے پاس مجمع بھی، اور تو بھی
کڑے وقت میں تو پہنچا بجلی کی طرح
تاریکی میں اگر تو ساتھ ہے، تو نہیں ضرورت اجالے کی بھی
سمجھتا ہوں حق ادا کیا میں نے دوستی کا
زیادہ نہیں تم سے، لیکن نہیں کی کمی میں نے بھی
مکتب اور کہیں جانا ہوتا میں نے اگر
سواری کے بعد ضروری ہے تو بھی
دوست کی طرح نہیں، تو بھائی جیسا ہے تو
خالق نے بھائی نہیں دیا، تو ہے مرا بھائی بھی
زیب، ہم نے بھی کئی لوگوں سے دوستی کی
نہیں دیکھی مثال ایسی دوستی کی بھی
 
Zohaib sarwar
Mirza Ghalib Poetry in Hindi Allama Iqbal Poetry One Line Poetry Heart Touching Poetry Deep Poetry in Urdu Poetry For Teachers in Urdu Shayari in Hindi Urdu Poetry Love Shayari in Hindi Love Poetry Bhai Behan Shayari Hindi Sad Poetry Urdu Poetry Surah Yaseen Surah Mulk Gold Rate in Pakistan USD to PKR

© 2026 Hamariweb.com

About us |  Contact us |  Advertising |  Privacy Policy