• Poetry
    • Famous Poets
      • Allama Iqbal
      • Ahmed Faraz
      • Amjad Islam Amjad
      • Wasi Shah
      • Parveen Shakir
      • More Poets
    • Poetry Categories
      • Love Poetry
      • Sad Poetry
      • Friendship Poetry
      • Islamic Poetry
      • Punjabi Poetry
      • More Categories
    • Poetry SMS
    • Poetry Images
    • Tags
    • Poetry Videos
    • Featured Poets
    • Post your Poetry
  • News
  • Business
  • Mobile
  • Articles
  • Islam
  • Names
  • Health
  • Shop
  • More
    • Women
    • Autos
    • ENews
    • Recipes
    • Poetries
    • Results
    • Videos
    • Directory
    • Photos
    • Business & Finance
    • Education News
Add Poetry
  • Home
  • Love Poetry
  • Sad Poetry
  • Famous Poets
  • Poetry Images
  • Poetry Videos
  • News
  • Articles
  • More on Poetry
  • Home
  • Urdu Poetry
  • Most Recent Poetries
Add Poetry
Latest Poetry Most Viewed Best Rated
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
 
Qamar Aasi
میں نے سنا میں نے سنا بھول گئے چلو کوئی بات نہیں
مبارک دو گا رقیب کو تمہیں جس سے الفت ہو گئی
 
Zohaib sarwar
میری تم سے ہے اک التجا میری ہے تم سے اک التجا
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
 
Zohaib sarwar
اسکی یادوں کو سنبھال کر جیا جائے اب اور کتنا اسکے بغیر
آ کر میری زندگی میں آہ سی چھوڑ گئیں
مر بھی جاؤں کیا اس کے بغیر اب
مٹ جاؤ گا اسکی یادوں کو سنبھال کر
Zohaib sarwar
چلے جانا ملے جو اک مدت بعد جاناں
جانا ہے تو پہلے ہی چلے جانا
 
Zohaib sarwar
ملے جو ہو اب کی بار ملے جو ہو اب کی بار
ملو گے کب اگلی بار
دن بھر جو یاد کیا تمہیں
قسم سے قسم سے کتنی بار
نا جانے کس گناہ کی سزا ملی مجھے
جو آئے ہی نہیں میرے گھر بار
تمہیں یاد کر کر کے روتی ہو
ہاۓ میرے آنکھوں کے گرد بار
تم سے محبت جو کر بیٹھی زیب
کی بھی تھی جیون میں پہلی بار
Zohaib sarwar
ملنے کو بہت ملے گے تمہیں ملنے کو بہت ملے گے تمہیں
ملتے جو ہو تم معززین سے
ہم نے ایقان لیا ہے زیب
پیسہ کم قامت کو بڑا بنا دیتا ہے
Zohaib sarwar
یہ میری صداؤں کا کیا جو اب بھی مجھ سے دور ہو یہ میری صداؤں کیا جو اب بھی مجھ سے دور ہو
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
Zohaib sarwar
تم سے ایک بات پوچھنی تھی تم سے مل کر ایک بات پوچھنی تھی
میں آئنے سے پوچھ پوچھ کر تھک گیا ہو
Zohaib sarwar
یک طرفہ محبت بھی ایسے ہی ہے یک طرفہ محبت بھی ایسے ہی ہے
کے کلمہ تو نبی کا پڑھتے ہیں پر دیدار کب کرانا ہے یہ محمد کو ہی پتہ ہے
Zohaib sarwar
بچپن میں ملی جب اسے دیکھا تھا بچپن میں ملی جب اسے دیکھا تھا
جوان جو ہوئی اسے کسی اور کی بانہوں میں دیکھا تھا
محبت یکتا اسی لیے کام ہے فضول
اس لیے اظہار محبت جلدی کر دینا تھا
مجھے جس سے محبت ہوئی اس سے ہی شادی ہوگئی زیب
ورنہ میں نے بھی بیمار عشق بن جانا تھا
Zohaib sarwar
یہ عشق کچھ جوانی تو آنے دیتا یہ عشق کچھ جوانی تو آنے دیتا،
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔
 
Waqas khalid shamas
تم یاد آتے ہو جب چراغوں کو بجھاتا ہوں تم یاد آتے ہو
خود سے تنہائی میں ملتا ہوں تم یاد آتے ہو
رات خاموش ہو اور چاند اتر آئے تو پھر
کھڑکیاں جب بھی کھولتا ہوں تم یاد آتے ہو
کوئی خوشبو جو ترے لمس کا دھوکا دے دے
سانس لیتا ہوں تو بے ساختہ تم یاد آتے ہو
لوگ کہتے ہیں کہ وقت زخم مٹا دیتا ہے
وقت گزرتا ہے تو بہت زیادہ تم یاد آتے ہو
ایک تصویر چھپا رکھی ہے دل میں اب تک
اس کو اشکوں سے جو پڑھتا ہوں تم یاد آتے ہو
کتنی کوشش کی ترے بعد سنبھلنے کی مگر
جب بھی ہنستا ہوں تو اندر سے تم یاد آتے ہو
کوئی پوچھے کہ محبت کا صلہ کیا پایا
نام لیتا نہیں، چپ رہتا ہوں تم یاد آتے ہو
مسعود کی آنکھوں میں کہاں نیند رہی
رات ڈھلتی ہے تو بے حد تم یاد آتے ہو
Mohammed Masood
تیری خوشبو کے موسم چاندنی رات تھی، تُو بھی قریب آیا تھا
دل نے پہلی ہی نظر میں تجھے اپنایا تھا
تیری آنکھوں میں عجب سا کوئی جادو دیکھا
میں نے ہر خواب کو پلکوں پہ سجایا تھا
تیری باتوں کی مہک آج بھی سانسوں میں ہے
جیسے گلشن میں کوئی پھول کھلایا تھا
تیرے لمس کی حرارت ابھی باقی ہے مجھ میں
جیسے برفوں کو کسی نے بھی پگھلایا تھا
تو جو ہنستا ہے تو لگتا ہے بہار آتی ہے
تو جو روٹھے تو زمانہ بھی خفا پایا تھا
رات تنہائی میں جب تیرا خیال آتا ہے
میں نے خود کو تیری بانہوں میں سمایا تھا
عشق میں ڈوب کے جینا ہی مزہ دیتا ہے
یہ سبق تُو نے ہی مسعودؔ کو سکھایا تھا
Mohammed Masood
ماضی کی لہریں خود کا کھویا ہوا خود،
اکثر یادوں میں ستاتا ہے۔
لوگ تو چلے جاتے ہیں،
ہمیں خاموشی میں دفن کر جاتے ہیں۔
اکثر جانے پہچانے چہرے،
اجنبی بن جاتے ہیں۔
اور جب یہی خوبصورت لمحے ماضی میں بدل جاتے ہیں،
.تو اچھے وقت میں بھی رُلا دیتے ہیں
Marwa Aman Khan
جب کوئی ایک نظر میں بَس جائے ہے جب کوئی ایک نظر میں بَس جائے ہے
تَب کوئی اور کہیں کیسے نظر آئے ہے
UA
جب سے ایک شخص پر ٹھہر گئی ہیں یہ نِگاہیں جب سے ایک شخص پر ٹھہر گئی ہیں یہ نِگاہیں
تب سے کہاں کِسی اور پر گئی ہیں یہ نِگاہیں
UA
محمد مسعود نوٹنگھم برطانیہ تیری قربت کا نشہ کچھ ایسا چڑھ گیا ہے
تجھے دیکھا نہیں اور دل بگڑ گیا ہے
تیرے لہجے میں محبت کی مٹھاس ایسی ہے
سن کر تیرا نام، لب خود ہی سنور گیا ہے
تو جو چلتی ہے تو ہوا بھی رک جاتی ہے
تو جو ہنستی ہے تو موسم بھی نکھر گیا ہے
ہم نے دنیا سے کنارہ کر لیا ہے اب تو
تیرا ہو کر جینے کا ہنر آ گیا ہے
مسعودؔ اسے بتاؤ، اس کے بنا جیا نہیں جاتا
اس کی ایک جھلک سے سارا جہاں سنور گیا ہے
Mohammed Masood
محبت جوانی کا ننھا پرندہ ہیں محبت جوانی کا ننھا پرندہ ہیں زیب
ہوتا ہیں جب جوان تو آدمی صاحبِ عیال ہو جاتاہے
Zohaib sarwar
طاری دیکھنا اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا
ہو تمہاری آنکھ سے چشمہ نہ جاری، دیکھنا
تم نے اپنی آنکھ کی تاثیر ہلکے میں تو، لی
دھیرے دھیرے ہو گا کوئی کیف طاری دیکھنا
خوف ایسا آپ نے پیدا کیا تھا ذہن میں
بیچ رستے سے پلٹ آئی بچاری دیکھ نا
راہ کی پیچیدگی بیزار کر دے گی تمہیں
مشورہ ہو گا کہ بہتر سی سواری دیکھنا
دیکھنا تم، سینکڑوں میں ایک دو رہ جائیں گے
آزما کر دوستوں کو باری باری دیکھنا
اجرتی قاتل کسی کا دوست ہوتا ہی نہیں
لے رکھی ہو گی تمہاری بھی سپاری، دیکھنا
کچھ نہیں پونجی ہماری صرف عزّت ہی تو ہے
زندگی ہم نے شرافت میں گزاری۔ دیکھنا
کل تلک تو راج کرتی تھی بڑی ہی شان سے
آج گر ناکام ہے قسمت کی ماری دیکھ ۔ نا
رخ پہ بارش، پھول پر شبنم کے قطرے جس طرح
اس پہ حسرتؔ زلف نے صورت نکھاری، دیکھنا
Rasheed Hasrat
Mirza Ghalib Poetry in Hindi Allama Iqbal Poetry One Line Poetry Heart Touching Poetry Deep Poetry in Urdu Poetry For Teachers in Urdu Shayari in Hindi Urdu Poetry Love Shayari in Hindi Love Poetry Bhai Behan Shayari Hindi Sad Poetry Urdu Poetry Surah Yaseen Surah Mulk Gold Rate in Pakistan USD to PKR

© 2026 Hamariweb.com

About us |  Contact us |  Advertising |  Privacy Policy