غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi
میری تم سے ہے اک التجا میری ہے تم سے اک التجا
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
Zohaib sarwar
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
Zohaib sarwar
یہ میری صداؤں کا کیا جو اب بھی مجھ سے دور ہو یہ میری صداؤں کیا جو اب بھی مجھ سے دور ہو
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو Zohaib sarwar
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو Zohaib sarwar
یہ عشق کچھ جوانی تو آنے دیتا یہ عشق کچھ جوانی تو آنے دیتا،
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔
Waqas khalid shamas
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔
Waqas khalid shamas
تم یاد آتے ہو جب چراغوں کو بجھاتا ہوں تم یاد آتے ہو
خود سے تنہائی میں ملتا ہوں تم یاد آتے ہو
رات خاموش ہو اور چاند اتر آئے تو پھر
کھڑکیاں جب بھی کھولتا ہوں تم یاد آتے ہو
کوئی خوشبو جو ترے لمس کا دھوکا دے دے
سانس لیتا ہوں تو بے ساختہ تم یاد آتے ہو
لوگ کہتے ہیں کہ وقت زخم مٹا دیتا ہے
وقت گزرتا ہے تو بہت زیادہ تم یاد آتے ہو
ایک تصویر چھپا رکھی ہے دل میں اب تک
اس کو اشکوں سے جو پڑھتا ہوں تم یاد آتے ہو
کتنی کوشش کی ترے بعد سنبھلنے کی مگر
جب بھی ہنستا ہوں تو اندر سے تم یاد آتے ہو
کوئی پوچھے کہ محبت کا صلہ کیا پایا
نام لیتا نہیں، چپ رہتا ہوں تم یاد آتے ہو
مسعود کی آنکھوں میں کہاں نیند رہی
رات ڈھلتی ہے تو بے حد تم یاد آتے ہو Mohammed Masood
خود سے تنہائی میں ملتا ہوں تم یاد آتے ہو
رات خاموش ہو اور چاند اتر آئے تو پھر
کھڑکیاں جب بھی کھولتا ہوں تم یاد آتے ہو
کوئی خوشبو جو ترے لمس کا دھوکا دے دے
سانس لیتا ہوں تو بے ساختہ تم یاد آتے ہو
لوگ کہتے ہیں کہ وقت زخم مٹا دیتا ہے
وقت گزرتا ہے تو بہت زیادہ تم یاد آتے ہو
ایک تصویر چھپا رکھی ہے دل میں اب تک
اس کو اشکوں سے جو پڑھتا ہوں تم یاد آتے ہو
کتنی کوشش کی ترے بعد سنبھلنے کی مگر
جب بھی ہنستا ہوں تو اندر سے تم یاد آتے ہو
کوئی پوچھے کہ محبت کا صلہ کیا پایا
نام لیتا نہیں، چپ رہتا ہوں تم یاد آتے ہو
مسعود کی آنکھوں میں کہاں نیند رہی
رات ڈھلتی ہے تو بے حد تم یاد آتے ہو Mohammed Masood
تیری خوشبو کے موسم چاندنی رات تھی، تُو بھی قریب آیا تھا
دل نے پہلی ہی نظر میں تجھے اپنایا تھا
تیری آنکھوں میں عجب سا کوئی جادو دیکھا
میں نے ہر خواب کو پلکوں پہ سجایا تھا
تیری باتوں کی مہک آج بھی سانسوں میں ہے
جیسے گلشن میں کوئی پھول کھلایا تھا
تیرے لمس کی حرارت ابھی باقی ہے مجھ میں
جیسے برفوں کو کسی نے بھی پگھلایا تھا
تو جو ہنستا ہے تو لگتا ہے بہار آتی ہے
تو جو روٹھے تو زمانہ بھی خفا پایا تھا
رات تنہائی میں جب تیرا خیال آتا ہے
میں نے خود کو تیری بانہوں میں سمایا تھا
عشق میں ڈوب کے جینا ہی مزہ دیتا ہے
یہ سبق تُو نے ہی مسعودؔ کو سکھایا تھا Mohammed Masood
دل نے پہلی ہی نظر میں تجھے اپنایا تھا
تیری آنکھوں میں عجب سا کوئی جادو دیکھا
میں نے ہر خواب کو پلکوں پہ سجایا تھا
تیری باتوں کی مہک آج بھی سانسوں میں ہے
جیسے گلشن میں کوئی پھول کھلایا تھا
تیرے لمس کی حرارت ابھی باقی ہے مجھ میں
جیسے برفوں کو کسی نے بھی پگھلایا تھا
تو جو ہنستا ہے تو لگتا ہے بہار آتی ہے
تو جو روٹھے تو زمانہ بھی خفا پایا تھا
رات تنہائی میں جب تیرا خیال آتا ہے
میں نے خود کو تیری بانہوں میں سمایا تھا
عشق میں ڈوب کے جینا ہی مزہ دیتا ہے
یہ سبق تُو نے ہی مسعودؔ کو سکھایا تھا Mohammed Masood
محمد مسعود نوٹنگھم برطانیہ تیری قربت کا نشہ کچھ ایسا چڑھ گیا ہے
تجھے دیکھا نہیں اور دل بگڑ گیا ہے
تیرے لہجے میں محبت کی مٹھاس ایسی ہے
سن کر تیرا نام، لب خود ہی سنور گیا ہے
تو جو چلتی ہے تو ہوا بھی رک جاتی ہے
تو جو ہنستی ہے تو موسم بھی نکھر گیا ہے
ہم نے دنیا سے کنارہ کر لیا ہے اب تو
تیرا ہو کر جینے کا ہنر آ گیا ہے
مسعودؔ اسے بتاؤ، اس کے بنا جیا نہیں جاتا
اس کی ایک جھلک سے سارا جہاں سنور گیا ہے Mohammed Masood
تجھے دیکھا نہیں اور دل بگڑ گیا ہے
تیرے لہجے میں محبت کی مٹھاس ایسی ہے
سن کر تیرا نام، لب خود ہی سنور گیا ہے
تو جو چلتی ہے تو ہوا بھی رک جاتی ہے
تو جو ہنستی ہے تو موسم بھی نکھر گیا ہے
ہم نے دنیا سے کنارہ کر لیا ہے اب تو
تیرا ہو کر جینے کا ہنر آ گیا ہے
مسعودؔ اسے بتاؤ، اس کے بنا جیا نہیں جاتا
اس کی ایک جھلک سے سارا جہاں سنور گیا ہے Mohammed Masood
طاری دیکھنا اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا
ہو تمہاری آنکھ سے چشمہ نہ جاری، دیکھنا
تم نے اپنی آنکھ کی تاثیر ہلکے میں تو، لی
دھیرے دھیرے ہو گا کوئی کیف طاری دیکھنا
خوف ایسا آپ نے پیدا کیا تھا ذہن میں
بیچ رستے سے پلٹ آئی بچاری دیکھ نا
راہ کی پیچیدگی بیزار کر دے گی تمہیں
مشورہ ہو گا کہ بہتر سی سواری دیکھنا
دیکھنا تم، سینکڑوں میں ایک دو رہ جائیں گے
آزما کر دوستوں کو باری باری دیکھنا
اجرتی قاتل کسی کا دوست ہوتا ہی نہیں
لے رکھی ہو گی تمہاری بھی سپاری، دیکھنا
کچھ نہیں پونجی ہماری صرف عزّت ہی تو ہے
زندگی ہم نے شرافت میں گزاری۔ دیکھنا
کل تلک تو راج کرتی تھی بڑی ہی شان سے
آج گر ناکام ہے قسمت کی ماری دیکھ ۔ نا
رخ پہ بارش، پھول پر شبنم کے قطرے جس طرح
اس پہ حسرتؔ زلف نے صورت نکھاری، دیکھنا Rasheed Hasrat
ہو تمہاری آنکھ سے چشمہ نہ جاری، دیکھنا
تم نے اپنی آنکھ کی تاثیر ہلکے میں تو، لی
دھیرے دھیرے ہو گا کوئی کیف طاری دیکھنا
خوف ایسا آپ نے پیدا کیا تھا ذہن میں
بیچ رستے سے پلٹ آئی بچاری دیکھ نا
راہ کی پیچیدگی بیزار کر دے گی تمہیں
مشورہ ہو گا کہ بہتر سی سواری دیکھنا
دیکھنا تم، سینکڑوں میں ایک دو رہ جائیں گے
آزما کر دوستوں کو باری باری دیکھنا
اجرتی قاتل کسی کا دوست ہوتا ہی نہیں
لے رکھی ہو گی تمہاری بھی سپاری، دیکھنا
کچھ نہیں پونجی ہماری صرف عزّت ہی تو ہے
زندگی ہم نے شرافت میں گزاری۔ دیکھنا
کل تلک تو راج کرتی تھی بڑی ہی شان سے
آج گر ناکام ہے قسمت کی ماری دیکھ ۔ نا
رخ پہ بارش، پھول پر شبنم کے قطرے جس طرح
اس پہ حسرتؔ زلف نے صورت نکھاری، دیکھنا Rasheed Hasrat