عورتوں کے حقوق کے حوالے سے کوئی عورت اگر بات کرے تو اسے عورت مارچ کا حامی سمجھا جاتا ہے۔ کوئی عورت ظلم کے خلاف بات کرے تو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر یہ بول رہی ہے تو یقیناً یہی غلط ہے، اس کے علاوہ کوئی غلط نہیں ہے۔ مرد حضرات عورتوں کے حقوق کے بارے میں بات کرتے ہوئے کتراتے ہیں جس کی شاید ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ خود اپنے طور سے عورتوں کے حقوق میں ڈنڈی مارتے آئے ہیں اور ہمیشہ سے ہی عورتوں کو کم ظرف اور حقیر سمجھتے آئے ہیں۔
حال ہی میں عرب ممالک میں ایک کے بعد ایک 3 خواتین کا قتل کیا گیا جس پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ اسی ظلم پر آواز اٹھاتے ہوئے اداکارہ ارمینا خان نے ٹوئٹر پر پوسٹ کیا کہ:
''
جب آپ خواتین کو معاشرے میں دوسرے درجے کا شہری بننے دیتے ہیں تو ایسا ہی ہوتا ہے ایسے میں مرد خواتین کو وہ ہستی سمجھ لیتے ہیں جنہیں وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنے پاس رکھ سکتے ہیں اور جب چاہے اپنی زندگی سے نکال کر پھینک دیتے ہیں۔
ایسا سلوک خواتین کے ساتھ اب نہیں چلے گا۔
''
اس ٹوئیٹ کے جواب میں ایک صارف نے لکھا کہ:
''
اسی لیے اسلام نے خواتین کو حقیقی طور پر سب سے زیادہ آزادی اور احترام دیا ہے۔
''
جس کے جواب میں اداکارہ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ:''
اسلام تو حقوق دیتا ہے لیکن مسلمان مرد ان حقوق کی خواتین کو منتقلی کی اجازت نہیں دیتے، جس کی وجہ سے خواتین اب بھی اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔
اس حوالے سے ثبوت کے طور پر آپ کو صنفی بنیاد پر ہونے والے تشدد کے تمام واقعات کو دیکھنا ہوگا۔
''