چوں تیغ لا بدست آری بیا تنہا چی غم داری

(Muhammad Nadeem, Peshawar)

اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو دنیا میں بھیجتے ہی انفرادی اور اجتماعی زندگی گزارنے کے لیے آئین و دستور کا پابند بنایا ہے پہلے پہل تو یہ دساتیر مختلف صحائف کی شکل میں ہواکرتے تھے جزوی تبدیلی، ترمیم، تنسیخ و تشریح کے بعد یہ دساتیر تورات، زبور اور انجیل کی شکل اختیار کر گئے اور آخر میں تمام تر دساتیر کی خوبیوں کو یکجا کر کے آج سے تقریباً ساڈھے چودہ سو برس پہلے ایک کامل اور مکمل کتاب جو قرآن کریم کی شکل میں محفوظ ہے سے مسلمانوں کو نوازا گیا جو بیک وقت ہدایت کا سرچشمہ بھی ہے اور محکم دستور اور قانونی حیثیت رکھنے والی کتاب بھی۔ جو انسان کو انسانیت کا درس بھی دیتی ہے اور اعلیٰ علیین تک پہنچانے کا راستہ بھی بتلاتی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ اور اُس کے بندوں کے درمیان بندگی کا تعلق مضبوط بنیادوں پر استوار بھی کرتی ہے اور بندوں کو اپنے درمیان اتحاد و اتفاق سے رہنے اور ایثار کی تعلیم بھی دیتی ہے۔ جو انفرادی طور پر انسان کو تہذیب الاخلاق بھی سکھاتی ہے اور اجتماعی طور پر معاشرتی زندگی کو خوبصورت بھی بناتی ہے۔ جو کسی بھی ملک میں رہنے والے باسیوں کو اپنے فرائض بھی یاد دلاتی ہے اور اعلیٰ حکام اور مقتدر طبقہ کو اُن کی ذمہ داریاں پوری کرنے کا احساس بھی دیتی ہے۔ ایک ایسی کتاب جسے خود کی زندگی کے لئے لائحہ عمل اور ملک و قوم کے لئے آئین و دستور کے طور پر تسلیم کرنا ہی دانائی ہے۔

انسانوں کی فلاح و بہبود کے مقصد اور اس میں ممکنہ حد تک کامیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے خالق کائنات اور انسانوں کے بنائے ہوئے دساتیر اور قوانین میں اتنا ہی فرق ہے جتنا خالق اور مخلوق کے علم اور اس کی نوعیت میں فرق ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم زمینوں، آسمانوں،پہاڑوں سمندروں بلکہ کُل کائنات کے بر و بحر پر محیط ہے ’’وسع کرسیہ فی السموت و الارض‘‘ جبکہ انسان کا علم انتہائی محدود اور عقل کی بنیاد پر ہے’’وما اوتیتم من العلم الا قلیل‘‘ اور ’’ ولا یحیطون بشئی من علمہ‘‘ جبکہ انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے بنائے جانے والے دساتیر اور قوانین میں بنیادی کردار ’’علم ‘‘ ہی کا ہے کیونکہ محکم دستور اور کامل قانون صرف اُس صورت میں بنایا جا سکتا ہے جبکہ مستقبل کے تمام تر خطرات و خدشات، فوائد و نقصانات، حالات و اقعات سے مکمل طور پر آگہی ہو جس کے لیے ما یکون کا علم ہونا ضروری ہے۔ انسان چونکہ مستقبل کے ادراک سے مکمل طور پر نا بینا ہے اس لیے اس حقیقت کو تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ انسانوں کے لئے انسان کا بنایا ہوا نہیں بلکہ خالق کائنات کا بنایا ہوا قانون و دستور ہی موزوں اور کامیابی کا ضامن ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات انسانوں کے مستقبل کے حوالے سے کئے گئے اندازے اور تخمینے رجما بالغیب ثابت ہو جاتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کے کلام کی ہر ایک شق ایک ایک کر کے سچ ثابت ہوتی جارہی ہیں۔

اسی دستور کے بارے میں معلم انسانیت، تاجدار مدینہﷺ ایک موقع پر فرماگئے کہ: ’’و فی القرآن نبا ما قبلکم و خبر ما بعدکم و حکم ما بینکم‘‘" قرآن کریم میں تم سے پہلے لوگوں کی خبریں، تمہارے بعد کے واقعات (پیش گوئیاں) اور تمہارے درمیانی حالات کے لئے احکام موجود ہیں۔ انہی حالات اور پیشن گوئیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’ أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لا يُفْتَنُونَ‘‘مسلمان یہ نہ سمجھے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کر لینے کے بعد آزمائشوں کا سلسلہ ختم ہو ہی جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرنے کے ساتھ آزمائشوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ اقبالؒ اس حقیقت کو یوں بیان فرماتے ہیں:
چو می گویم مسلمانم بلرزم
کہ دانم مشکلاتِ لا الہ را
عطا رامپوری اس کا ترجمہ یوں کر گئے ہیں: ’’کانپنے لگتا ہو ﮞ کہتے ہوئے مسلم خود كو‘‘ ’’كہ تقاضے مجھے ایمان کے معلوم ہیں سب‘‘
کسی شاعر نے یوں بھی فرمایا ہے: ’’یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے‘‘ ’’لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا‘‘
مسلمانوں اور دو قومی نظریہ کے حاملین پر آزمائشیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثبات اور مخلصین اور منافقین کی تمیز کے لئے ہوتی ہیں جن کا تذکرہ خالق کائنات کچھ یوں کرتے ہیں ’’ لَتُبْلَوُنَّ فِي أَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا ۚ وَإِن تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ‘‘
’’تم اپنے مالوں اور جانوں میں آزمائے جاؤ گے، اور البتہ پہلی کتاب والوں اور مشرکوں سے تم بہت بدگوئی سنو گے، اور اگر تم نے صبر کیا اور پرہیزگاری کی تو یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے‘‘ اور کبھی ارشاد ہوتا ہے۔’’ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمٌ آخَرُونَ ‘‘ ’’دوسرے لوگ اس کی مدد کرتے ہیں‘‘آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پاکستان کے بارے میں یہ کہنا کہ ’’ہم پاکستان کے لیے اپنی امداد روک دیں گے،پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں موجود ہیں نیز پاکستان دہشت گردوں کی مدد کر رہا ہے، پاکستان سٹیٹ آف ٹیرر ہے لہذا ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے‘‘ وغیرہ وغیرہ ۔ پاکستان نہ تو دہشت گردوں کی مدد کر رہا ہے نہ یہاں پر دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود ہیں نہ تو پاکستان سٹیٹ آف ٹیرر ہے اور نہ پاکستان کو کسی کی خیرات کی ضرورت ہے اب تک جتنا دیا جا چکا ہے ’’ڈو مور‘‘ کے مطالبے پر خرچ کر دیا جا چکا ہے۔ ہمارا قصور صرف اتنا ہی ہے کہ ہم ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کے سائے تلے پناہ گزین ہیں اور پاکستان کو اسی لیے صفحۂ ہستی سے مٹانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے کہ اس کے وجود کا مقصد بھی یہی ہے’’وما نقموا منھم الا ان یومنوا باللہ العزیز الحمید۔وما تنقموا منا الا ان امنا باللہ‘‘یہ کوششیں ان کے آباء بارہا کر چکے ہیں یہ اعلیٰ دماغ والے اگر اپنی تاریخ سے سبق سیکھ لیں تو ان کے حق میں بہتر ہی ہو گا۔

پاکستان پر لگائے گئے تمام الزامات مذکورہ بالا آیتوں میں موجود پیغام کی عکاسی کرتے ہےجس کے لیے ہمارے ’’مولا‘‘ نے ساڈھے چودہ سے برس پہلے ہمیں متنبہ کر دیا تھا لہذا گھبرانے اور حوصلہ پست کرنے کی چنداں ضرورت نہیں: حضرت سلطان باہوؒ فرماتے ہیں:
یقیں دانم دریں عالم کہ لا معبود الا ہو
ولا موجود فی الکونین و لا مقصود الا ہو
چوں تیغ لا بدست آری بیا تنہا چہ غم داری
مجو از غیر حق یاری کہ لا فتاح الا ہو
ترجمہ: میں یقین رکھتا ہوں کہ اس جہاں میں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور دونوں جہانوں میں نہ کوئی مقصود ہے اور نہ کوئی ہر جگہ موجود۔

جب ’’لا‘‘ کی تلوار تیرے ہاتھ میں ہے تو اکیلا دشمن سے ٹکرا جا تجھے کیا غم ہے؟ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے یار اور دوستی مت مانگ کیوں کہ مشکل کشا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Nadeem

Read More Articles by Muhammad Nadeem: 12 Articles with 5744 views »
Muhammad Nadeem S/O Sultan Hussain.
Research Scholar
University Of Peshawar
.. View More
31 Dec, 2017 Views: 919

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ