اسلام کی تربیت ۔۔۔۔۔۔۔ معاشرے کا ربط

(قاضی عمران احمد, کراچی)
انسانی شخصیت میں تعلیم و تربیت کسی بھی لحاظ سے ہو نکھار پیدا کرتی ہے، اس کی شخصیت کو منفرد بناتی ہے۔ اگر دنیا کی معلوم تاریخ کا جائزہ لیا جائے اور قیام ارض سے دیکھا جائے تو حضرت آدم علیہ السلام سے خاتم النبین علیہ الصلوٰة والسلام تک اللہ رب العزت نے جو ذمے داری ودیعت فرمائی وہ بنیادی طور پر کردار سازی، شخصیت کی تعمیر اور تعلیم و تربیت ہی کی تھی۔ دنیا کا سب سے بہترین اور مکمل دین صرف اسلام ہی ہے جس کی سب سے بڑی خصوصیت اخلاقیات کی تعمیر کے ذریعے فرد کی تربیت کرتے ہوئے اسے معاشرے کا بہترین فرد بنانا ہے۔ اسلام اپنے پیروکاروں کی تربیت بہت وسیع انداز میں کرتے ہوئے ”انسانیت“ کا سبق دیتا ہے۔ اسلام طاقت کو ثانوی حیثیت دیتا اور کردار سازی و اخلاقیات کو اول و مقدم رکھتا ہے۔

انسانی شخصیت میں تعلیم و تربیت کسی بھی لحاظ سے ہو نکھار پیدا کرتی ہے، اس کی شخصیت کو منفرد بناتی ہے۔ اگر دنیا کی معلوم تاریخ کا جائزہ لیا جائے اور قیام ارض سے دیکھا جائے تو حضرت آدم علیہ السلام سے خاتم النبین علیہ الصلوٰة والسلام تک اللہ رب العزت نے جو ذمے داری ودیعت فرمائی وہ بنیادی طور پر کردار سازی، شخصیت کی تعمیر اور تعلیم و تربیت ہی کی تھی۔ دنیا کا سب سے بہترین اور مکمل دین صرف اسلام ہی ہے جس کی سب سے بڑی خصوصیت اخلاقیات کی تعمیر کے ذریعے فرد کی تربیت کرتے ہوئے اسے معاشرے کا بہترین فرد بنانا ہے۔ اسلام اپنے پیروکاروں کی تربیت بہت وسیع انداز میں کرتے ہوئے ”انسانیت“ کا سبق دیتا ہے۔ اسلام طاقت کو ثانوی حیثیت دیتا اور کردار سازی و اخلاقیات کو اول و مقدم رکھتا ہے۔

اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کیا جائے تو وہ فرد کی تربیت کا آغاز ماں کی گود سے کرتا ہے۔ اسلام چوں کہ سلامتی کا دین ہے اور اسی کی ہی یہ تعلیم ہے کہ سلام (السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ) کو پھیلاؤ کہ معاشرے کے افراد میں باہمی محبت پیدا کرتا ہے، فرد کو فرد سے جوڑتا ہے، متحد کرتا ہے، ایک دوسرے کے دکھ درد کا ساتھی بناتا ہے۔ یہ تربیت ہے معاشرے میں باہم یگانگت و رواداری پیدا کرنے کی۔ اسی طرح ہم اگر نماز اور زکوٰة کی جانب دیکھیں تو بنیادی طور پر ان کا مقصد عبادت ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نماز جب بندہ قائم کرتا ہے تو اس کا تعلق براہ راست اللہ رب کریم سے جڑتا ہے اور زکوٰة کی ادائیگی فرد کا تعلق فرد سے جوڑتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ نماز کی اجتماعی ادائیگی کا سختی سے حکم اس مصلحت کو ظاہر کرتا ہے کہ اس کے ذریعے ایک طرف مسلمانوں کی قوت کا اظہار ہے تو دوسری جانب یہ بھی فرد کو فرد سے جوڑتی ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ جب کوئی فرد مسجد میں پابندی کے ساتھ نماز کی ادائیگی کے لیے آتا ہے اور ساتھ ہی سلام کی سنت کو بھی اپناتا ہے تو ایسے میں اگر وہ چند نمازوں یا چند دن کسی بھی وجہ سے مسجد میں جا نہیں پاتا تو وہ لوگ جو اسے اس کے نام سے بھی نہیں جانتے، اس کے گھر یا ٹھکانے سے بھی واقف نہیں ہیں، اپنے اس مسجد کے ساتھی کی غیر حاضری پر فکر مند ہو جاتے ہیں کہ نہ جانے ایسی کیا بات ہو گئی کہ وہ نمازوں میں حاضر نہیں ہو پا رہا۔ جب کہ اس فرد سے صرف سلام ہی کا تو رشتہ ہے یا وہ اور یہ ایک ہی مسجد میں، ایک ہی امام کی اقتدا میں نماز ہی تو پڑھتے ہیں لیکن کسی ایک غیر حاضری دوسروں کو بے چین کر دیتی ہے اور وہ اس کی غیر حاضری کی وجہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ تربیت ہے ایک دوسرے کو باہم جوڑنے کے لیے۔

ان کے علاوہ اسلام سب سے زیادہ زور اخلاقیات پر دیتا ہے۔ نرم خوئی، لہجوں میں ادب و احترام، چھوٹے بڑے کے لحاظ کی تعلیم دیتا ہے۔ ایک فرد دنیاوی اعتبار سے بہت زیادہ تعلیم یافتہ ہے لیکن اس کی اخلاقی حالت انتہائی پستی کا شکار ہے تو وہ کسی طور معاشرے میں کسی کا بھی پسندیدہ نہیں بن سکتا۔ اس کے برعکس اگر کوئی فرد بہ ظاہر دنیاوی تعلیم سے بہرہ ور نہیں ہے اور معاشرے کے مروجہ اصول و ضوابط کے مطابق ”جاہل“ اور ”ناخواندہ“ ہے لیکن وہ بہترین اخلاقیات کا پابند ہے اور اچھے کردار کا حامل ہے تو ایسا فرد اپنی ”نا خواندگی“ کے باوجود معاشرے کے پسندیدہ فرد کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔

اسی نہج پر اگر ابتدا ہی سے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جائے اور انہیں اخلاقیات کے اسباق بچپن ہی سے پڑھائے جائیں، ان کے افعال، کردار اور شخصیت کی جانب مکمل توجہ دی جائے، اسلامی تعلیمات بچپن ہی سے ان کے ذہنوں میں راسخ کی جائیں، انہیں بڑوں کا ادب و احترام سکھایا جائے، ان کے انداز گفتگو کو نظر میں رکھا جائے، ان کے رویوں کا جائزہ لیا جاتا رہے کہ وہ چھوٹوں بڑوں کے ساتھ کس لہجے، انداز میں گفتگو کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ان کا رویہ کیسا ہے؟ ان کی اخلاقی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ہم اپنے کردار، طرز گفتگو اور رویوں میں تبدیلی لائیں کیوں کہ بچے غیر محسوس انداز میں وہی رویہ اپناتے ہیں جو دیکھتے ہیں۔ جب ہم ان چھوٹی چھوٹی چھوٹی باتوں کی جانب توجہ دیں گے تو یقیناً ہم مستقبل میں معاشرے کو بہترین افراد کار فراہم کر سکیں گے۔ اگر اپنے بچوں کا معاشرے کا بہترین فرد بنانا ہے تو ان کی آج بلکہ ابھی سے تربیت کا آغاز کیجیے بلکہ ساتھ اپنی اصلاح اور تربیت کا بھی انتظام کیجیے تاکہ آپ خود بھی معاشرے کے پسندیدہ فرد بن سکیں۔ یہی اسلام کی تعلیمات ہیں اور اسی سے معاشرے میں بہترین ربط قائم ہو سکتا ہے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: قاضی عمران احمد

Read More Articles by قاضی عمران احمد: 3 Articles with 971 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Jan, 2018 Views: 468

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ