کیا عورتوں کو جہاد کے اجر سے محروم کیا گیا ہے ؟

(Maqubool Ahmad, Saudi Arab)

اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ عورتوں پر جہاد فرض نہیں ہے کیونکہ اﷲ تعالی نے ان کی فطرت میں کمزوری اور بناوٹ وساخت میں مردوں سے الگ رکھا ہے ۔ اﷲ نے دین میں سب کی رعایت کی ہے اور ایک حکمت کے تحت سب کے لئے مناسب احکامات وتعلیمات دئے ہیں ۔ بسا اوقات ہمیں اﷲ کی حکمت کا اندازہ نہیں ہوتا مگر حکمت وبصیرت سے اﷲ کا کوئی فیصلہ خالی نہیں ہے ۔ عورتوں پر جہاد فرض نہ ہونے میں بھی اﷲ کی بے شمار حکمتیں ہیں جنہیں سب سے بہتر ان کا خالق ومالک اور حکمت ودانائی والا ہی جانتا ہے ۔ یہ بھی ایک بڑی حقیقت ہے کہ جہاد فی سبیل اﷲ کا بڑا اجر وثواب ہے جو بظاہر ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف مردوں کے لئے ہے مگر ایسی بات نہیں ہے ، جہاد تو مردوں پر فرض ہے مگر اس جیسا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ثواب مردوں کے ساتھ عورتوں کے لئے بھی رکھا گیا ہے ۔ اس بات پر نبی ﷺ کا یہ فرمان واضح طور پر دلالت کرتا ہے جو ابوداؤد وغیرہ میں ہے ۔ الشَّہَادَۃُ سَبْعٌ سِوَی الْقَتْلِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ۔
ترجمہ: اﷲ کی راہ میں قتل کے علاوہ بھی شہادت کے سات اسباب ہیں ۔
یہ بات نبی ﷺ نے ان عورتوں سے کہی جنہوں نے شہادت کو صرف اﷲ کی راہ میں قتل ہوجانا سمجھا تھا اور ایک صحابی جن کا سامان جہاد تیار تھا مگر وہ جہاد میں جانے سے پہلے وفات پاگئے ان پر یہ عورتیں رو رہی تھیں ۔ گویا جسمانی جہاد کے علاوہ شہادت کے جو مقامات واجر ہیں ان میں عورتیں بھی شامل ہیں بجز اس کے جو مردوں کے ساتھ ہے ۔ اگر عورتوں کو اسلام نے شہادت کے اجر سے محروم کیا ہوتا تو کوئی خاتون شہیدہ نہیں کہلاتی مگر ہم کتب حدیث میں بے شمار خواتین کو شہیدہ پاتے ہیں جو اس بات کو مزید تقویت پہنچاتی ہے کہ عورتوں کے لئے شہادت کا درجہ موجود ہے ۔
اس مضمون میں اس حقیقت پر روشنی ڈالی جائے گی کہ اﷲ تعالی نے عورتوں کے ساتھ بھی انصاف کیا ہے اورا ن کے لئے بھی جہاد کا ثواب دوسرے کئی اعمال میں رکھا ہے جنہیں مندرجہ ذیل سطور میں بیان کیا جائے گا۔
(۱)درجہ شہادت کی دعا : گوکہ عورتوں کے لئے جسمانی جہاد نہیں ہے مگر شہادت کا مقام پانے کے لئے مردوں کی طرح عورتیں بھی اس کے لئے دعا کر سکتی ہیں ۔ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے :
مَنْ سَأَلَ اﷲَ الشَّہَادَۃَ بِصِدْقٍ، بَلَّغَہُ اﷲُ مَنَازِلَ الشُّہَدَاء ِ، وَإِنْ مَاتَ عَلَی فِرَاشِہِ(صحیح مسلم:1908)
ترجمہ: جو شخص سچے دل سے اﷲ کی شہادت مانگے، اﷲ اسے شہداء کے مراتب تک پہنچا دیتا ہے، چاہے وہ اپنے بستر ہی پر کیوں نہ فوت ہو۔
(۲)جہاد کے علاوہ سات چیزوں میں شہادت : جہاد میں قتل کئے جانے کو شہادت تو کہتے ہی ہیں اس کے علاوہ سات اسباب ہیں جن سے آدمی کو شہادت کا درجہ ملتا ہے ۔ ان ساتوں میں عورت بھی شامل ہے بلکہ ساتواں سبب بطور خاص عورت سے متعلق ہے کہ جو کوئی عورت حالت حمل میں یا بچہ ہوتے وقت یا حالت نفاس میں وفات پاجائے وہ شہادت کا مقام پاتی ہے ۔ نبی ? کا فرمان ہے :
الشَّہادۃُ سبعٌ سوی القتلِ فی سبیلِ اللَّہِ المطعونُ شہیدٌ والغرِقُ شہیدٌ وصاحبُ ذاتِ الجنبِ شہیدٌ والمبطونُ شہیدٌ وصاحبُ الحریقِ شہیدٌ والَّذی یموتُ تحتَ الہدمِ شہیدٌ والمرأۃُ تموتُ بِجُمعٍ شہیدۃٌ(صحیح أبی داود:3111)
ترجمہ: اﷲ کی راہ میں قتل ہونے والوں کے عِلاوہ سات شہید ہیں (۱)مطعون شہید ہے (۲)اور ڈوبنے والا شہید ہے (۳)ذات الجنب کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے اور (۴)اورپیٹ کی بیماری سے مرنے والا ، اور(۵)جل کر مرنے والا شہید ہے، اور (۶)ملبے کے نیچے دب کر مرنے والا شہید ہے ، اور (۷)اور وہ عورت جو ولادت کی تکلیف ( درد زہ ) میں وفات پا جائے شہید ہے ۔
حمل والیوں سے متعلق یہ الفاظ بھی وارد ہیں ۔
والنُّفساء ُ شہیدۃٌ(صحیح الجامع:4441)
ترجمہ: حالت نفاس میں وفات پانے والی شہیدہ ہے ۔
مسند احمد، مجمع الزوائد، معجم طبرانی وغیرہ میں نفساء کے لئے یہ الفاظ آئے ہیں ۔
والنُّفساء ُ یجرُّہا ولدُہا بسُرُرِہا إلی الجنۃِ(صحیح الجامع:4439)
ترجمہ: ولادت کے بعد نفاس کی حالت میں مرنے والی کو اُسکی وہ اولاد (جِس کی ولادت ہوئی اور اِس ولادت کی وجہ سے وہ مرگئی) اپنی کٹی ہوئی ناف سے جنّت میں کھینچ لے جاتی ہے۔
(۳)والدین کی خدمت کرنا : ماں باپ کی خدمت کرنے سے جہاد کے برابر ثواب ملتا ہے ۔ انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے:
أن رجلاً جاء إلی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم وقال: إنی أشتہی الجہاد ولا أقدر علیہ، قال: ہل بقی من والدیک أحد؟ قال: أمی، قال: قابل اﷲ فی برہا، فإن فعلت فأنت حاج ومعتمر ومجاہد.
ترجمہ : ایک آدمی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آیااورکہامیں جہاد کی خواہش رکھتاہوں مگراس کی طاقت نہیں ۔ تو آپ نے پوچھاکہ تمہارے والدین میں سے کوئی باحیات ہیں ؟ تو اس نے کہا کہ ہاں میری ماں تو آپ نے بتایاکہ کاؤ ان کی خدمت کرو،تم حاجی ، معتمراورمجاہد کہلاؤگے ۔
٭بوصیری نے کہا کہ ابویعلی اور طبرانی نے اسے جید سند کے ساتھ روایت کیاہے۔(اتحاف الخیرہ:5/474) عراقی نے تخریج الاحیاء میں حسن اور منذری نے الترغیب والترہیب میں جید کہاہے۔
اسی طرح صحیحین میں نبی ﷺ کا فرمان ہے :
جاء رجلٌ إلی النبیِّ صلَّی اﷲُ علیہ وسلَّم فاستأذنہُ فی الجہاد، فقال : أحَیٌّ والِداکَ قال : نعم، قال : فَفِیہِما فَجاہِدْ.(صحیح البخاری:3004، صحیح مسلم:2549)
ترجمہ: ایک شخص نبی ? کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے جہاد میں شرکت کی اجازت طلب کی۔ آپ نیفرمایا:کیا تمھارے ماں باپ زندہ ہیں؟اس نے عرض کیا: جی ہاں(زندہ ہیں)۔ آپ نے فرمایا:ان کی خدمت کرنے میں خوب محنت کر(یہی تیرا جہاد ہے)۔
(۴)بیوہ اور مسکین کی خدمت کرنا : جو مرد یا عورت بیوہ یا مسکین کی خدمت کرے اس کے لئے جہاد کے برابر ثواب ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
السَّاعی علی الأرملۃِ والمسکینِ ، کالمُجاہدِ فی سبیلِ اللَّہِ ، أو القائمِ اللیلَ والصائمِ النہارِ( صحیح البخاری:5353)
ترجمہ: جو شخص بیوگان اور مساکین کا خدمت گار ہے وہ مجاہد فی سبیل اﷲ یا رات کو قیام کرنے اور دن کو روزہ رکھنے والے کی طرح ہے۔
(۵)اول وقت پر نماز پڑھنا : نماز کو اس کے اول وقت میں ادا کرنا والدین کے ساتھ حسن سلوک اور جہاد فی سبیل اﷲ سے بڑھ کر اجر وثواب کا باعث ہے۔ حضرت عبد اﷲ بن مسعودرضی اﷲ عنہ سے روایت ہے،انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اﷲ ﷺ سے پوچھا :
أیُّ الأعمالِ أحبُّ إلی اﷲِ ؟ قالَ الصَّلاۃُ علی وقتِہا قلتُ : ثمَّ أیٌّ ؟ قالَ ثمَّ برُّ الوالدینِ قلتُ : ثمَّ أیٌّ ؟ قالَ ثمَّ الجہادُ فی سبیلِ اﷲِ ( صحیح مسلم:85)
ترجمہ: اے اﷲ کے نبی !کون سا عمل جنت سے زیادہ قریب (کردیتا) ہے ؟ فرمایا: نمازیں اپنے اپنے اوقات پر پڑھنا ۔میں نے پوچھا : اے اﷲ کے نبی ! اور کیا ؟ فرمایا : والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ۔ میں نے پوچھا : اے اﷲ کے نبی ! اور کیا ؟ فرمایا :اﷲ کی راہ میں جہاد کرنا ۔
(۶)عشرہ ذی الحجہ کے اعمال : ذوالحجہ کے پہلے عشرہ میں اعمال صالحہ انجام دینا جہاد میں شریک ہونے سے بڑھ کا ثواب کا باعث ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
ما العملُ فی أیامِ العشْرِ أفضلَ من العملِ فی ہذہ . قالوا : ولا الجہادُ ؟ قال : ولا الجہادُ، إلا رجلٌ خرجَ یخاطِرُ بنفسِہ ومالِہ، فلم یرجِعْ بشیء ٍ( صحیح البخاری : 969)
ترجمہ: ان دس دنوں میں اﷲ تعالیٰ کو عمل صالح بہت پسند ہے۔ آپ سے پوچھا گیا کہ کیا جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی زیادہ یہ دن پسند ہیں تو آپ صلی اﷲ علیہ و سلم نے فرمایا:ہاں! یہ دن جہاد فی سبیل اﷲ سے بھی بہتر ہیں سوائے اس شخص کے جو اپنے مال اور جان کو لے کر نکلے اور کسی چیز کو واپس لے کر نہ آئے ۔
(۷)عورتوں کا جہاد حج ہے اور وہ سب سے بہتر ہے : اس موضوع سے متعلق چند احادیث دیکھیں ۔
پہلی حدیث : ام المؤمنین عائشہ رضی اﷲ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے جہاد کی اجازت چاہی تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:جِہادُکُنَّ الحجُّ(صحیح البخاری:2875)
ترجمہ: تمہارا جہاد حج ہے۔
دوسری حدیث : سألہ نساؤہ عن الجہادِ، فقال : نعم الجہادُ الحجُّ .(صحیح البخاری:2876)
ترجمہ: نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے آپ کی ازواج مطہرات نے جہاد کی اجازت مانگی تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج بہت ہی عمدہ جہاد ہے۔
تیسری حدیث : عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا أَنَّہَا قَالَتْ یَا رَسُولَ اللَّہِ نَرَی الْجِہَادَ أَفْضَلَ الْعَمَلِ أَفَلَا نُجَاہِدُ قَالَ لَا لَکِنَّ أَفْضَلَ الْجِہَادِ حَجٌّ مَبْرُورٌ(صحیح البخاری:1536)
ترجمہ: اُم المنومنین حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے عرض کیا: اﷲ کے رسول اﷲ ﷺ !ہم سمجھتے ہیں کہ جہاد سب نیک اعمال سے بڑھ کر ہے تو کیا ہم جہاد نہ کریں؟آپ نے فرمایا: (نہیں) بلکہ (تمھارے لیے) عمدہ جہاد حج مبرورہے۔
چوتھی حدیث :عمرہ بھی اﷲ کے راستے میں سے ہے ۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
إنَّ الحجَّ والعمرۃَ فی سبیلِ اﷲِ(صحیح الترغیب:1119)
ترجمہ: بے شک حج اور عمرہ اﷲ کے راستے میں سے ہے ۔
(۸)افضل جہاد اپنے نفس سے جہاد ہے : عورت ہو یا مرد اس کے لئے سب سے افضل جہاد یہ ہے کہ وہ نفسانی خواہشات سے جہاد کرے ۔ نبی ? کا فرمان ہے : أفضلُ الجہادِ أن یُجاہدَ الرَّجلُ نَفسَہ وہواہُ(صحیح الجامع:1099)
ترجمہ: سب سے افضل جہاد یہ ہے کہ آدمی اپنی نفسانی خواہش سے جہاد کرے ۔
(۹)ایک نماز سے دوسری نماز کا انتظار کرنا : نبی ﷺ کا فرمان ہے :
ألا أدلُکم علی ما یمحو اﷲُ بہِ الخطایا ویرفعُ بہِ الدرجاتِ ؟ قالوا : بلی . یا رسولَ اﷲِ ! قال إسباغُ الوضوء ِ علی المکارہِ . وکثرۃُ الخطا إلی المساجِدِ . وانتظارُ الصلاۃِ بعدَ الصلاۃِ . فذلکمْ الرباطُ .(صحیح مسلم:251)
ترجمہ: کیا میں تمہیں ایسی چیزیں نہ بتاوں جن سے اﷲ گناہوں کو مٹاتا اور درجات کو بلند کرتاہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اﷲ کے رسول !کیوں نہیں،آپ ضرور بتائیں،آپ نے فرمایا: ناگواری کے باوجودمکمل وضوکرنا اورمسجدوں کی طرف زیادہ چل کرجانا اورنمازکے بعد نماز کا انتظار کرنا،یہی سرحدکی حقیقی پاسبانی ہے ۔
(۱۰)جو اپنے مال ، عزت اور اہل کے لئے مارا جائے شہید ہے : نبی ﷺ کا فرمان ہے :
من قاتل دون مالِہ، فقُتل فہو شہیدٌ، ومن قاتل دونَ دمِہ، فہو شہیدٌ، ومن قاتل دونَ أہلِہ، فہو شہیدٌ(صحیح النسائی:4105)
ترجمہ:جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے، وہ شہید ہے اور جو اپنی جان بچاتے ہوئے مارا جائے، وہ بھی شہید ہے او جو شخص اپنے گھر والوں کے دفاع میں مارا جائے، وہ بھی شہید ہے۔
دین اسلام کے لئے اپنی جان قربان کرنی والی پہلی شہیدہ خاتون حضرت سمیہ رضی اﷲ عنہا ہیں ۔
(۱۱)فتنے کے زمانے میں دین حق پر قائم رہنے سے پچاس شہیدوں کا ثواب : نبی ﷺکا فرمان ہے :
إِنَّ مِنْ ورائِکُم زمانُ صبرٍ ، لِلْمُتَمَسِّکِ فیہ أجرُ خمسینَ شہیدًا منکم(صحیح الجامع:2234)
ترجمہ: تمہارے بعد والا زمانہ صبر آزما (پرفتن)ہو گا، اس وقت (حق کو؍دین کو) تھامنے والے کو تمہارے پچاس شہیدوں کے اجر کے برابر ثواب ملے گا۔
(۱۲)نمازکے بعد تسبیح فاطمی پڑھنا:حضرت ابوھریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا :
جاء الفقراء إلی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم فقالوا: ذہب أہل الدثور بالدرجات العُلی والنعیم المقیم، یصلون کما نصلی ویصومون کما نصوم، ولہم فَضْلٌ من أموال یحجون بہا ویعتمرون ویجاہدون ویتصدقون، قال: ألا أحدثکم بأمر إن أخذتم بہ أدرکتم من سبقکم ولم یدرککم أحد بعدکم، وکنتم خیر من أنتم بین ظہرانیہ إلا من عمل مثلہ: تسبحون وتحمدون وتکبرون خلف کل صلاۃ ثلاثاً وثلاثین.(صحیح البخاری: 843)
ترجمہ : کچھ مسکین لوگ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے پاس آئے اوربولے کہ مال والے تو بلند مقام اورجنت لے گئے ۔ وہ ہماری ہی طرح نمازپڑھتے ہیں اور روزہ رکھتے ہیں ۔ اوران کے لئے مال کی وجہ سے فضیلت ہے ، مال سے حج کرتے ہیں، اورعمرہ کرتے ہیں، اورجہاد کرتے ہیں، اورصدقہ دیتے ہیں ۔تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایاکہ کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جس کی وجہ سے تم پہلے والوں کے درجہ پاسکو اورکوئی تمہیں تمہارے بعد نہ پاسکے اورتم اپنے بیچ سب سے اچھے بن جاؤ سوائے ان کے جو ایسا عمل کرے ۔ وہ یہ ہے کہ ہرنمازکے بعد تم تینتیس بار۳۳ سبحان اﷲ تینتیس بار۳۳الحمدﷲ اورتینتیس بار۳۳ اﷲ اکبرکہو۔
(۱۳)اﷲ کا ذکر کرنا : اوپر نماز کے بعد تسبیح پڑھنے کا ذکر ہے ، ایک دوسری حدیث میں ہے کہ عمومی ذکر سے بھی جہاد سے بڑھ کر ثواب ملتا ہے۔ نبی ﷺ کا فرمان ہے :
ألا أنبئکم بخیر أعمالکم وأزکاہا عند ملیککم وأرفعہا فی درجاتکم وخیر لکم من إنفاق الذہب والورق وخیر لکم من أن تلقوا عدوکم فتضربوا أعناقہم ویضربوا أعناقکم قالوا بلی قال ذکر اﷲ تعالی (صحیح الترمذی:337)
ترجمہ: کیا میں تمہارے سب سے بہتر اور تمہارے رب کے نزدیک سب سے پاکیزہ اور سب سے بلند درجے والے عمل کی تمہیں خبر نہ دوں؟ وہ عمل تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے، وہ عمل تمہارے لیے اس سے بھی بہتر ہے کہ تم ( میدان جنگ میں ) اپنے دشمن سے ٹکراو، وہ تمہاری گردنیں کاٹے اور تم ان کی ( یعنی تمہارے جہاد کرنے سے بھی افضل )۔لوگوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے فرمایا:وہ اﷲ تعالیٰ کا ذکر ہے۔
اس بات کی طرف اﷲ تعالی نے اپنے کلام میں بھی اشارہ کیا ہے ۔ فرمان الہی ہے :
وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلَیٰ فِی بُیُوتِکُنَّ مِنْ آیَاتِ اللَّہِ وَالْحِکْمَۃِ إِنَّ اللَّہَ کَانَ لَطِیفًا خَبِیرًا (الاحزاب:34)
ترجمہ: اور تمہارے گھروں میں اﷲ کی جو آیتیں اور رسول کی جو احادیث پڑھی جاتی ہیں ان کا ذکر کرتی رہو یقیناً اﷲ تعالٰی لطف کرنے والا خبردار ہے ۔
(۱۴)سو بار اﷲ اکبر، سوبار الحمد ﷲ اور سوبار سبحان اﷲ کہنا: أم ہانی بنت أبی طالب رضی اﷲ عنہما بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اور میں نے عرض کیا: اﷲ کے رسول! مجھے کوئی عمل بتلائیے، میں بوڑھی اور ضعیف ہو گئی ہوں، میرا بدن بھاری ہو گیا ہے تو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:
کبِّری اللَّہَ مائۃَ مرَّۃٍ ، واحمَدی اللَّہَ مائۃَ مرَّۃٍ ، وسبِّحی اللَّہَ مائۃَ مرَّۃٍ خیرٌ من مائۃِ فرَسٍ مُلجَمٍ مُسرَجٍ فی سبیلِ اللَّہِ ، وخیرٌ من مائۃِ بدَنۃٍ ، وخیرٌ من مائۃِ رقبۃٍ(صحیح ابن ماجہ:3810)
ترجمہ: سو باراﷲ اکبر، سو بار الحمدﷲ، سو بار سبحان اﷲکہو، یہ ان سو گھوڑوں سے بہتر ہے جو جہاد فی سبیل اﷲ میں مع زین و لگام کے کس دیئے جائیں، اور سو جانور قربان کرنے، اور سو غلام آزاد کرنے سے بہتر ہیں ۔
مذکورہ بالا سطور میں چند فطری شہادت کے علاوہ کئی اعمال ایسے ہیں جن کی انجام دہی سے شہادت کا ثواب ملتا ہے جن میں سے کئی کا یہاں ذکر کیا گیا ہے ، ساتھ ہی ہمیں یہ معلوم ہوا کہ عورتوں پر جسمانی جہاد فرض نہیں ہے البتہ اسلامی غزوات کو مدنظر رکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ معمر عورتیں مجاہدوں کو پانی پلانے ، کھانا بنانے ، مرہم پٹی کرنے اور دیگر ضروریات پر تعاون کرنے کی غرض سے جنگوں میں شرکت کر سکتی ہیں۔ صحیح مسلم میں ہے۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: کَانَ رَسُولُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَغْزُو بِأُمِّ سُلَیْمٍ وَنِسْوَۃٍ مِنَ الْأَنْصَارِ مَعَہُ إِذَا غَزَا، فَیَسْقِینَ الْمَاء َ، وَیُدَاوِینَ الْجَرْحَی(صحیح مسلم:4787 )
ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اﷲ ﷺ جب جنگ کرتے تو ام سلیم اور انصار کی کچھ دوسری عورتوں کو ساتھ لے جا کر جنگ کرتے، وہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔
اور اگر کوئی کافربغیر جنگ کے مسلم عورت پر حملہ کرے یا حملے کی ہجومی صورت حال ہو تو اپنی جان بچانے کے لئے عورت اپنا دفاع کرسکتی ہے اس مقاتلہ میں وفات پانے پر وہ شہید کہلائے گی ۔
یہاں ایک اہم نکتہ عورتوں کو سمجھ لینا چاہئے کہ اگران پر جسمانی جہاد نہیں ہے تو مطمئن نہ جائیں ،آج کے پرفتن دور میں قدم قدم پر آزمائشوں سے جہاد کرنا ہے ۔ عورت خواہشات نفس سے ، زبان وقلم سے اور دعوت دین کے لئے حتی المقدور جہاد کرے گی۔ ان تمام برائیوں کے خلاف جہاد کرے گی جو اس کی عزت وآبرو کے لئے پرخطر ہو مثلا زنا سے ، اختلاط سے، رقص وسرود سے ، اباحیت وانارکی سے اورعریانیت وفحاشیت سے جہاد کرے گی ۔آج مردوں کے مقابلے میں زیادہ صبر آزما مرحلہ عورت کے لئے ہی ہے اس لئے انہیں اﷲ کی اطاعت میں جہاد بالنفس کولازم پکڑ لینا چاہئے جو انہیں ہرفتنے اور ہر شر سے بچا سکے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maqubool Ahmad

Read More Articles by Maqubool Ahmad: 303 Articles with 170509 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Jan, 2018 Views: 641

Comments

آپ کی رائے
جزاک اللہ خیرا شیخ
By: Baber Tanweer, Karachi on Jan, 24 2018
Reply Reply
0 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ