ہمارا معاشرہ اور سوشل میڈیا کا کردار

(Syed Obaid Ali, Karachi)

انٹرنیٹ
جب کوئی نئی چیز ایجاد ہوتی ہے تو اس کا اثر ہمارے معاشرے پر آہستہ آہستہ پڑتا ہے۔ جس طرح تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں اسی طرح ہر نئی ایجاد کے بھی دو رخ ہوتے ہیں: روشن اور تاریک۔ اسی طرح سوشل میڈیا کے بھی روشن اور تاریک پہلو ہیں۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم روشن کی طرف جاتے ہیں یا تاریکی میں ڈوبنے کی طرف۔

جب کسی معاشرے میں انصاف مہنگا ہوجاتا ہے اور معاشرہ ذہنی پسماندی کی سارے حدیں عبور کرلیتا ہے، جب ہم میں غلط کو غلط کہنے کی اور سچ کا ساتھ دینے کی ہمت نہیں رہتی، تب ہمارے زوال کا سفر بھی تیز تر ہوجاتا ہے۔ اب تو شکر ہے کہ اگر کسی کے ساتھ ظلم ہوجاتا ہے یا کوئی بااثر کسی بھی کیس پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتا ہے تو سوشل میڈیا کی وجہ سے بے نقاب ہوجاتا ہے۔ پاکستان میں پچھلے کچھ ہفتوں کے واقعات کو دیکھا جائے تو معلوم ہوجائے گا کہ سوشل میڈیا کیسز کو کہاں سے کہاں لے گیا۔ نقیب محسود، زینب، ڈاکٹر عاصمہ اور ان جیسے کئی اور واقعات جو کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر چھائے ہوئے ہیں اور ہر ادارے کی توجہ اپنی طرف مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ یہ سب سوشل میڈیا کا کمال ہے۔

آپ سوچیے کہ کیا پاکستان میں نقیب محسود پولیس گردی کا پہلا شکار تھا؟ کیا زینب جیسے معصوم پھول کی پتیاں پہلی بار نوچی گئی تھیں؟ کیا ڈاکٹر عاصمہ وہ پہلی لڑکی تھی جسے رشتے سے انکار پر بیدردی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا؟ ہر گز نہیں! لیکن یہ سوشل میڈیا ہی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں ایسے کیسز میڈیا میں آگئے اور اب بہت مشکل ہے کہ جس نے بھی کیے ہوں، وہ سزا سے بچ جائے۔ یہ سوشل میڈیا ہی ہے جس کی وجہ سے آج ان معصوم بچوں کےلیے بھی سوموٹو ایکشن لیے جاتے ہیں۔ جب ایسے واقعات کو دیکھتے ہیں تو انسان کی روح کانپ جاتی ہے۔

اسی ٹیکنالوجی نے ہماری اسلامی اور معاشرتی اقدار کو بری طرح متاثر کیا ہے کیونکہ نیٹ کیفے اسکینڈل سے لے کر آئے روز کسی معصوم انسان کی ویڈیو اسی ٹیکنالوجی کے طوفیل بنتی ہے، جس کے نتیجے میں حوا کی بیٹی تختہ دار پر چڑھتی ہے۔ لیکن پہلی بار دل خوش ہوا کہ اسی سوشل میڈیا کے ذریعے درندے بے نقاب ہو رہے ہیں، خواہ وہ راؤ انوار کی شکل میں ہوں یا عمران یا مجاہد آفریدی کی صورت۔

اب ہر کسی کو اپنا حق ادا کرنا ہے۔ اداروں کو تفتیش صحیح طریقے سے کرنی ہے، عدالتوں کو اپنا کام سچی نیت سے کرنا ہے، والدین کو اپنے بچوں کو ان کے بچپن ہی سے ایک اچھا انسان بننے کا درس دینا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ دیکھا جائے گا کہ ہمارے معاشرے میں جرم کم ہوتا ہے یا نہیں؟ جب تک جزا اور سزا نہیں ہوگی اور مجرم دندناتے پھریں گے، تب تک معاشرے میں بگاڑ رہے گا۔ جب تک انسان کے دل میں سزا کا خوف نہیں ہوگا، وہ جرم کرتا رہے گا۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Obaid Ali
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Apr, 2018 Views: 374

Comments

آپ کی رائے