فواد عالم "انٹرنیشنل کرکٹ ٹیم میں واپسی کے منتظر"

(Arsalan Shahzad, Karachi)
ارباب اختیار اور چیف سلیکٹرز سےاب ہی گزارش ہےکہ فواد عالم کو قومی ٹیم میں شامل کرنے پرکب تک لاعلم رکھا جائے گا،کیا پی سی بیکی سلیکشن کمیٹی اس انتظار میں تو نہیں ہے کہ فواد عالم کو اب انٹرنیشنل کرکٹ کو خیر آباد کردینا چاہیے،لیکن شائقین کرکٹ اس بات پر افسردہ ہے کہ ارباب اختیار کی نطر میں ٹیلنٹ کی قدر آخر کیوں نہیں ہے ،کیا پھر واقعی ہی ٹیم سلیکشن میں ذاتی پسند اور نا پسند کا کلچر عروج پر ہے۔اب شائقین کرکٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی سے امید لگائے بیٹھے ہے کہ ماضی میں ہونے والی ٹیسٹ سریز میں فواد عالم کو ایک بار پھر قومی ٹیسٹ ٹیم میں شامل کرکے انکے کیلیے انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کھولے جائیں تاکہ ایسا ٹیسٹ میچزکا تجربہ کارکھلاڑی بیٹسمین ضائع نہ ہو جائے

فواد عالم "انٹرنیشنل کرکٹ ٹیم میں واپسی کے منتظر"

کسی بھی باصلاحیت کھلاڑی کوقومی کرکٹ ٹیم میں دوبارہ کھیلنے کا مواقع دیناسلیکٹرز کی اولین ترجیح ہوتی ہیں ،سلیکشن کمیٹی کسی بھی تجربہ کار کھلاڑی کو قومی ٹیم میں دوبارہ شامل کرنے سے قبل مختلف سلیکٹرز پلیئر پر مکمل طور پر کڑی نظر رکھتے ہے،سلیکٹرز کھلاڑی کی ڈمیسٹک کرکٹ کی کارکردگی سے متاثر ہوکرمختلف میڈیکل ٹیسٹ اور ٹریننگ سیشن میں شامل ہونے کیلیے دعوت دیتی ہے ،لیکن بد قسمتی سے نوجوان کھلاڑی ان تمام مراحلے میں کامیابی سے گرزنے کے بعد اپنی نگاہیں کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کیطرف متوجہ کرتا ہےاور اس سوچ وبچار میں پڑ جاتے ہے کہ انھیں ایک بار قومی ٹیم جگہ مل جائیں گی ،لیکن پھر سلیکشن کمیٹی اور دیگر ارباب اختیار کی جانب سے کھلاڑیوں کو ٹریننگ سیشن شامل کرنے بعد بیوقوف بنانے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔

جی ہے ،یہ حقیقت ہے، کچھ دن پہلے ہی اس کی نئی مثال منظر عام پر آئی جب ایک بار پھرپاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کی جانب سےدورہ انگلینڈ اور آئرلینڈ کیخلاف ہونے والی ٹیسٹ سیریز کے حتمی اسکو ڈ کا اعلان کرتے وقت با صلاحیت کھلاڑی فواد عالم کو ٹیسٹ میں شامل نہیں کیا گیا؟آخر کیوں قومی سلیکشن کمیٹی نے دورہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کیلیے فواد عالم کو ٹیسٹ اسکوڈ میں شامل نہیں کیا گیا؟ ٹیسٹ ٹیم کے اسکوڈ میں فواد عالم کو نظر انداز کرکے نا تجربہ کارکھلاڑیوں پرانحصار کیا گیا ۔

ذرائع ابلاغ میں فواد عالم کےقومی ٹیم سے اخراج سے متعلق مختلف انداز میں خبریں پیش کی گئی جس میں قومی چیف سلیکٹرز انضمام الحق کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا،بر قیاتی، مطبوعہ اور سوشل میڈیا میں قومی چیف سلیکٹر انضمام الحق کو انکے بھتیجے انعام الحق کے سلیکشن پر مختلف سوالات اُٹھائیں گے۔
پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ کی تاریخ میں فواد عالم اپنی کارکردگی کے جوہرنے دکھانےو الے وہ واحد کھلاڑی ہے جنھوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں رنز کے ڈھیر لگائے ، لیکن پھر بھی تجربہ کار کھلاڑی کے حامل فواد عالم کو دوسرے کھلاڑیوں کے پیش نظر زیادہ فوقیت دی گیئں -

اسپورٹس جرنلسٹ کے شعبہ سے منسلک بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ مصباح الحق اور یونس خان کی ریٹائرڈ کے بعد ٹیم کو مڈل آرڈر میں تجربہ کار بلے بازوں کی بے حد ضرورت ہے اوروہ کثر کوئی تجربہ کار کھلاڑی ہی پوری کرسکتا ہے لیکن اس کے بر عکس فواد عالم کودورے آئرلینڈ اور انگلینڈ ٹیسٹ سیریزکیلیے قومی ٹیم میں چانس نہ دینا سمجھ سے بالا تر ہے -

فوادعالم کی اخلاقیات کی مثال سب کے سامنے ہے ، انھیں کبھی کسی سے کوئی شکوہ کرتے نہیں دیکھا، نہ ہی کسی ہی منفی پٌڑوپیگنڈا میں دیکھا گیا ،مگر نجانے کیوں سلیکٹرز اور ہیڈکوچ انکو وہ عزت نہیں دیتے جن کے وہ حقدار ہوں ،فواد عالم کے انتخاب کے معاملے پر شائقین کرکٹ بھی تشویش کا اظہار کررہی ہے اس بات کا اظہار کر رہی ہےآخر فواد عالم کیلیے کرکٹ کے دروزاے کب کھولے گے-

گزشتہ تین سالوں سے فواد عالم قومی کرکٹ میں واپسی کیلیے مسلسل جدوجہد کر رہے تھے لیکن فواد عالم کو صرف بہانے بناکر اورانکی فٹنس سے متعلق سوالات کو مختلف انداز گھوما کر جوابات دیے گئے،ارباب اختیار اور چیف سلیکٹرز سے اب ہی گزارش ہے کہ فواد عالم کو قومی ٹیم میں شامل کرنے پر کب تک لا علم رکھا جائے گا،کیا پی سی بی کی سلیکشن کمیٹی اس انتظار میں تو نہیں ہے کہ فواد عالم کو اب انٹرنیشنل کرکٹ کو خیر آباد کردینا چاہیے،لیکن شائقین کرکٹ اس بات پر افسردہ ہے کہ ارباب اختیار کی نطر میں ٹیلنٹ کی قدر آخر کیوں نہیں ہے ،کیا پھر واقعی ہی ٹیم سلیکشن میں ذاتی پسند اور نا پسند کا کلچر عروج پر ہے۔اب شائقین کرکٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی سے امید لگائے بیٹھے ہے کہ ماضی میں ہونے والی ٹیسٹ سریز میں فواد عالم کو ایک بار پھر قومی ٹیسٹ ٹیم میں شامل کرکے انکے کیلیے انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کھولے جائیں تاکہ ایسا ٹیسٹ میچز کا تجربہ کار کھلاڑی بیٹسمین ضائع نہ ہو جائے -

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arsalan Shahzad
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Apr, 2018 Views: 692

Comments

آپ کی رائے