سجدہ تلاوت اوراس کے احکام ومسائل

(Maqubool Ahmad, Saudi Arab)

اسلام میں سجدے کی بڑی اہمیت ہے ، عبادت میں اس کا خاص مقام ہیاس کی وجہ یہ ہے کہ بندہ اس حالت میں رب کے لئے انتہائی عاجزی کا اظہار کررہاہوتا ہے ۔عبادت کی یہی وہ اہم کیفیت ہے جس سے بندہ اﷲ سے بیحد قریب ہوتا ہے ، اس سے سرگوشی کرتا ہے اور خوب خوب دعائیں کرتا ہے۔
عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:أَقْرَبُ مَا یَکُونُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّہِ، وَہُوَ سَاجِدٌ، فَأَکْثِرُوا الدُّعَاء َ(صحیح مسلم:482)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس حالت میں ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے، لہٰذا اس میں کثرت سے دعا کرو۔
اﷲ کو یہ ادا بیحد پسند آتی ہے اور لوگوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَکُن مِّنَ السَّاجِدِینَ (الحجر:98)
ترجمہ: آپ اپنے پروردگار کی تسبیح بیان کرتے رہیں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہوجائیں ۔
اﷲ نے ابلیس کو آدم علیہ السلام کے لئے سجدہ کرنے کا حکم دیا تو انکار کرنے کی وجہ سے راندہ درگاہ ہوگیا۔اس لئے خالص ہوکر اﷲ کے لئے سجدہ بجالائیں اور ہرگزہرگز کسی غیر اﷲ کو سجدہ نہ کریں ۔
سجدے کے مقامات چودہ یا پندرہ؟
یہاں پر اس موضوع میں سجدہ سے مراد نماز کادوسجدہ نہیں بلکہ قرآن کریم کے پندرہ مقامات کی تلاوت پہ ایک سجدہ کرنا ہیجسے سجدہ تلاوت کہتے ہیں خواہ وہ مقام نماز کے دوران آئے یا بغیر نماز کے۔
احناف کی طرح شافعیہ کے نزدیک بھی چودے سجدے ہیں البتہ سورہ حج میں شافعیہ کے نزدیک دو سجدے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک ایک سجدہ ہے ۔اہل الحدیث پندرہ سجدے مانتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ابوداؤد میں حدیث ہے ۔
عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَہُ خَمْسَ عَشْرَۃَ سَجْدَۃً فِی الْقُرْآنِ، مِنْہَا ثَلَاثٌ فِی الْمُفَصَّلِ، وَفِی سُورَۃِ الْحَجِّ سَجْدَتَانِ (سنن ابی داؤد: 1401)
ترجمہ: عمرو بن العاص رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کو قرآن مجید میں (۱۵) سجدے پڑھائے: ان میں سے تین مفصل میں اور دو سورۃ الحج میں ۔
اس حدیث کو امام نووی نے الخلاصہ میں حسن ، ابن الملقن نے تحفۃ المحتاج میں صحیح یا حسن ، ابن القیم نے اعلام الموقعین میں صحیح اور صاحب تحفۃ الاحوذی نے حسن کہا ہے۔
حنفی کے مشہور عالم علامہ بدرالدین عینی نے بخاری کی شرح عمدۃ القاری میں مندرجہ ذیل روایت کو نقل کرکے صحیح کہا ہے۔
عن عمرِو بنِ العاصِ أنَّ رسولَ اﷲِ صلَّی اﷲُ علیہِ وسلَّمَ أقرأَہُ خمسَ عشرۃَ سجدۃً فی القرآنِ العظیمِ مِنْہَا ثلاثۃٌ فی المُفَصَّلِ(عمدۃ القاری:7/139 )
ترجمہ: عمرو بن العاص رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ان کو قرآن مجید میں (۱۵) سجدے پڑھائے: ان میں سے تین مفصل میں۔
گویا حنفی عالم سے پندرہ سجدوں کا ثبوت مل رہا ہے اور سورہ حج میں دو سجدے ہونے کا صحیح حدیث سے ثبوت ملتا ہے ۔
ان عقبۃ بن عامر حدثہ ، قال : قلت لرسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم : افی سورۃ الحج سجدتان ؟ قال : " نعم ، ومن لم یسجدہما فلا یقراہما ".
ترجمہ: عقبہ بن عامر رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے پوچھا: اﷲ کے رسول! کیا سورۃ الحج میں دو سجدے ہیں؟ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا:ہاں اور جو یہ دونوں سجدے نہ کرے وہ انہیں نہ پڑھے۔
اس حدیث کو شیخ البانی نے حسن کہا ہے ۔( صحیح أبی داود: 1402)
ابن ابی شیبہ نے مصنف میں ابواسحاق السبیعی کا قول نقل کیا ہے : أدرکت الناس منذ سبعین سنۃ یسجدون فی الحج سجدتین(المصنف: کتاب الصلاۃ ، فی الحج سجدتان)
ترجمہ: میں نے ستر سال سے لوگوں کو سورہ حج میں دوسجدے ہی کرتے پایا ہے۔
یہ قول حنفی تالیف اوجزالمسالک الی موطا مالک میں بھی موجود ہے جس پر کوئی کلام نہیں کیا ہے۔
سجدہ تلاوت کے پندرہ مقامات وآیات :
(۱)إن الذین عند ربک لا یستکبرون عن عبادتہ ویسبحونہ ولہ یسجدون(الأعراف:206 )
ترجمہ:یقینا جو آپ کے رب کے نزدیک ہیں وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے اور اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس کوسجدہ کرتے ہیں.
(۲)وﷲ یسجد من فی السماوات والأرض طوعاً وکرہاً وظلالہم بالغدو والآصال (الرعد:15).
ترجمہ: اﷲ ہی کے لیے زمین اور آسمان کی سب مخلوق خوشی اور ناخوشی سے سجدہ کرتی ہے اورصبح وشام ان کے سائے بھی ۔
(۳)وﷲ یسجد ما فی السماوات وما فی الأرض من دابۃ والملائکۃ وہم لا یستکبرون (النحل:49).
ترجمہ: یقینا آسمان وزمین کے کل جاندار اور تمام فرشتے اﷲ تعالی کے سامنے سجدہ کرتے ہیں اور ذرا بھی تکبر نہیں کرتے۔
(۴)قل آمنوا بہ أو لا تؤمنوا إن الذین أوتوا العلم من قبلہ إذا یتلی علیہم یخرون للأذقان سجدا(الإسراء :107 ) .
ترجمہ: کہہ دیجئے ! تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ ، جنہیں اس سے پہلے علم دیا گیا ہے ان کے پاس تو جب بھی اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ ٹھوڑیوں کیبل سحدہ میں گرپڑتے ہیں۔
(۵)إذ تتلی علیہم آیات الرحمن خروا سجداً وبکیاً( مریم:58 ) .
ترجمہ: ان کے سامنے جب اﷲ رحمان کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی تھی تویہ سجدہ کرتے روتے گڑگڑاتے گرپڑتے تھے۔
(۶)ألم تر أن اﷲ یسجد لہ من فی السماوات ومن فی الأرض والشمس والقمر والنجوم والجبال والشجر والدواب وکثیر من الناس وکثیر حق علیہ العذاب ومن یہن اﷲ فما لہ من مکرم إن اﷲ یفعل ما یشاء (الحج:18 ) .
ترجمہ: کیا تو دیکھ نہیں رہا کہ سب آسمان والے اور زمین والے ، اور سورج چاند اور ستارے اور پہاڑ اور درخت اور جانوراوربہت سے انسان بھی اﷲ کے سامنے سجدہ کرتے ہیں ہاں بہت سے وہ بھی ہیں جن پر عذاب کا مقولہ ثابت ہوچکا ہے ، جسے اﷲ تعالی ذلیل کرے اسے کوء بھی عزت دینے والا نہیں ، یقینا اﷲ تعالی جو چاہتا کرتا ہے۔
(۷)یا أیہا الذین آمنوا ارکعوا واسجدوا واعبدوا ربکم وافعلوا الخیر لعلکم تفلحون (الحج:77 )
ترجمہ: اے ایمان والو ! رکوع و سجدہ کرتے رہو اور اپنے رب کی عبادت میں لگے رہو اور نیک کام کرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
(۸)وَإِذَا قِیلَ لَہُمُ اسْجُدُوا لِلرَّحْمَنِ قَالُوا وَمَا الرَّحْمَنُ أَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَزَادَہُمْ نُفُورًا( الفرقان:60) .
ترجمہ:اور جب بھی ان سے رحمن کوسجدہ کرنے کا کہا جاتا ہے تو جواب دیتے ہیں رحمن کیا ہے ؟ کیا ہم اسے سجدہ کریں جس کا تو ہمیں حکم دے رہا ہے اور اس ( تبلیغ )نے ان کی نفرت میں مزید اضافہ کردیا۔
(۹)ألا یسجدوا ﷲ الذی یخرج الخبء فی السماوات والأرض ویعلم ما تخفون وما تعلنون (النمل:25 ) .
ترجمہ: کہ اسی اﷲ تعالی کے لیے سجدے کریں جو آسمانوں اور زمینوں کی پوشیدہ چیزوں کو نکالتا ہے ، اور جو کچھ تم چھپاتے اورظاہرکرتے ہو وہ سب جانتا ہے۔
(۱۰)إنما یؤمن بآیاتنا الذین إذا ذکروا بہا خروا سجداً وسبحوا بحمد ربہم وہم لا یستکبرون(السجدۃ:15) .
ترجمہ: ہماری آیتوں پر وہی ایمان لاتے ہیں جنہیں جب کبھی اس کی نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح پڑھتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔
(۱۱)وظن داود أنما فتناہ فاستغفر ربہ وخر راکعاً وأناب(ص:24) .
ترجمہ:اور داود علیہ السلام سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے ، پھر تو وہ اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گرپڑے اور پوری طرح رجوع کیا۔
(۱۲) ومن آیاتہ اللیل والنہار والشمس والقمر لا تسجدوا للشمس ولا للقمر واسجدوا ﷲ الذی خلقہن إن کنتم إیاہ تعبدون(فصلت:37) .
ترجمہ: اور دن رات اور سورج چاند بھی اﷲ تعالی کی نشانیوں میں سے ہیں ، تم سورج کو سجدہ نہ کرو اور نہ ہی چاند کو بلکہ اﷲ تعالی کوسجدہ کرو جس نے ان سب کوپیدا فرمایا ہے ، اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔
(۱۳)فاسجدوا ﷲ واعبدوا(النجم:63) .
ترجمہ:تو اﷲ ہی کو سجدہ کرو اور اس کی ہی عبادت کرو۔
(۱۴)وإذا قرء علیہم القرآن لا یسجدون(الانشقاق:21 ) .
ترجمہ:اور جب ان پر قرآن پڑھا جات ہے تو وہ سجدہ نہیں کرتے۔
(۱۵)کلا لا تطعہ واسجد واقترب(العلق:19 ) .
ترجمہ: خبردار ! اس کا کہنا ہرگز نہ ماننا اور سجدہ کراور قریب ہوجا۔
(فقہ السنہ)
ان جگہوں کی تلاوت کرتے وقت سجدہ کرنا مشروع ہے خواہ تلاوت نمازمیں ہو یا نماز سے باہر ۔ نبی ﷺ جب سجدہ کی ان آیات سے گزرتے تو سجدہ کرتے ۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ:أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقْرَأُ الْقُرْآنَ، فَیَقْرَأُ سُورَۃً فِیہَا سَجْدَۃٌ، فَیَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَہُ، حَتَّی مَا یَجِدُ بَعْضُنَا مَوْضِعًا لِمَکَانِ جَبْہَتِہِ(صحیح مسلم:575)
ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی کہ نبی کریم ? قرآن مجید کی تلاوت فرمایا کرتیتھے ۔ آپ اس سورت کی تلاوت فرماتے جس میں سجدہ ہوتا اور سجدہ کرتے تو ہم (سب)بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے ، حتی کہ ہم میں سے بعض کو پیشانی رکھنے کے لیے بھی جگہ نہ ملتی تھی ۔
سجدہ تلاوت کا حکم :
سجدہ تلاوت کے مقامات پر سے جب گزر ہو تو سجدہ کرنا سنت ہے واجب نہیں ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے۔
حضرت عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے:
قرأَ یومَ الجمعۃِ علی المنبرِ بسورۃِ النحلِ ، حتی إذا جاء َ السجدۃ نزل فسَجَدَ ، وسَجَدَ الناسُ ، حتی إذا کانت الجمعۃُ القابلۃُ ، قرأَ بہا ، حتی إذا جاء َ السجدۃُ ، قال : یا أیُّہا الناسُ ، إنا نَمُرُّ بالسجودِ ، فمَن سَجَدَ فقد أصابَ ، ومَن لم یَسْجُدْ فلا إثمَ علیہ . ولم یَسْجُدْ عمرُ رضی اﷲُ عنہ . وزادَ نافعٌ ، عن ابنِ عمرَ رضی اﷲ عنہما : إن اﷲَ لم یَفْرِضْ السجودَ إلا أن نشاء َ .(صحیح البخاری:1077)
ترجمہ: انہوں نے جمعہ کے دن منبر پر سورہ نحل تلاوت فرمائی۔ جب آیت سجدہ پر پہنچے تو منبر سے نیچے اترے اور سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی آپ کے ہمراہ سجدہ تلاوت کیا۔ جب آئندہ جمعہ آیا تو آپ نے منبر پر پھر اسی سورت کی تلاوت فرمائی۔ جب آیت سجدہ پر پہنچے تو فرمایا: لوگو! ہم آیت سجدہ پڑھ رہے ہیں، جس نے اس پر سجدہ کیا اس نے ٹھیک اور درست کام کیا اور جس نے سجدہ نہ کیا اس پر کوئی گناہ نہیں، تاہم حضرت عمر ؓ نے سجدہ نہ کیا۔ حضرت نافع نے ابن عمر ؓ کے واسطے سے حضرت عمر ؓ سے ان الفاظ کا اضافہ نقل کیا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے سجدہ تلاوت ہم پر فرض نہیں کیا ہے، ہاں! اگر ہم چاہیں تو کر سکتے ہیں۔
صحیحین میں حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:
قرأتُ علی النبیِّ صلی اﷲ علیہ وسلم : والنجم . فلم یَسْجُدْ فیہا(صحیح البخاری:1073، صحیح مسلم:577)
ترجمہ: میں نے ایک دفعہ نبی ﷺ کے حضور سورہ نجم تلاوت کی تھی تو آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا تھا۔
سنت ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ اسے چھوڑ دیا جائے بلکہ اس پہ ہمیشگی برتنا چاہئے اور کوئی امر مانع نہ ہو سجدہ والی آیت پہ فورا سجدہ کرنا چاہئے ۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہاکہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا :
إذا قرأ ابنُ آدمَ السجدۃَ فسجد ، اعتزل الشیطانُ یبکی . یقول : یا وَیْلَہْ ( وفی روایۃ أبی کریب یا وَیْلی ) . أُمِرَ ابنُ آدمَ بالسجود فسجد فلہ الجنَّۃُ . وأُمِرتُ بالسجود فأَبَیْتُ فلی النارُ . وفی روایۃ : فعَصَیتُ فلی النَّارُ(صحیح مسلم:81)
ترجمہ: جب ابن آدم سجدے کی آیت تلاوت کر کے سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتے ہوئے وہاں سے ہٹ جاتا ہے ، وہ کہتا ہے : ہائے اس کی ہلاکت !(اور ابوکریب کی روایت میں ہے ، ہائے میری ہلاکت!) ابن آدم کو سجدے کا حکم ملا تو اس نے سجدہ کیا ، اس پر اسے جنت مل گئی اور مجھے سجدے کا حکم ملا تو میں نے انکار کیا ،سو میرے لیے آگ ہے ۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے: علیک بکثرۃِ السجودِ ﷲِ, فإنک لا تسجدُ ﷲِ سجدۃً إلا رفعَک اﷲُ بہا درجۃً وحطَّ عنک بہا خطیئۃً(صحیح مسلم:488)
ترجمہ: تم اﷲ کے حضور کثرت سے سجدے کیا کرو کیونکہ تم اﷲ کے لیے جو بھی سجدہ کرو گے اﷲ اس کے نتیجے میں تمہارا درجہ ضرور بلند کرے گا اور تمہارا کوئی گناہ معاف کر دے گا۔
سجدہ تلاوت کرنے کا طریقہ :
سجدہ تلاوت نمازہی کی طرح سات اعضاء پر کرنا ہے مگر اس میں نماز کی طرح شرائط نہیں ہیں۔سجدہ تلاوت کے لئے طہارت شرط نہیں ہے ، باوضو ہو تو اچھی بات ہیاور ممکن ہوتوافضل ہے قبلہ رخ ہوجائے تاہم بغیر قبلہ رخ کیا گیا سجدہ بھی ادا ہوجائے گا۔ سجدہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اکبر کہتے ہوئے سجدہ میں جائے او ر سجدے کی دعائیں کرے۔ مثلا "سبحان ربی الأعلی" اور"سبحانک اﷲم ربنا وبحمدک، اﷲم اغفر لی"۔سجدہ تلاوت کی دعابھی کافی ہے تاہم سجدوں کی دعاؤں کے ساتھ دیگر مسنون دعائیں بھی کرسکتے ہیں۔ سجدہ میں دعا کرنے کے بعد بغیر تکبیر کے سر اٹھالے، بس ایک ہی سجدہ کرے ۔ سجدہ کے لئے نہ تو یہ ضروری ہے کہ بغیر وضو والا ضروری طور پر وضو کرے اور نہ ہی سجدہ کے لئے کھڑے ہوکر تکبیر تحریمہ کہنا یا سجدہ سے اٹھتے وقت تکبیر کہنا یا سجدہ کرکے سلام پھیرنا ثابت ہے۔
تلاوت کی دعائیں :
پہلی دعا:
عن عائشۃَ رضیَ اللَّہُ عنْہا قالَت : کانَ رسولُ اللَّہِ صلَّی اللَّہُ علیْہِ وسلَّمَ یقولُ فی سجودِ القرآنِ باللَّیلِ یقولُ فی السَّجدۃِ مرارًا سجدَ وجْہی للَّذی خلقَہُ وشقَّ سمعَہُ وبصرَہُ بحولِہِ وقوَّتِہِ(صحیح أبی داود:1414)
ترجمہ: ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ رات کو سجدہ قرآن میں یہ دعا تکرار سے پڑھا کرتے تھے (سجد وجہی للذی خلقہ وشق سمعہ وبصرہ بحولہ وقوتہ)میرا چہرہ اس ذات کے لیے سجدہ ریز ہے جس نے اس کو پیدا کیا اور اپنی طاقت اور قوت سے اس کے کان اور آنکھ بنائے ۔
ابوداؤد، ترمذی، سنن دارقطنی، سنن نسائی، مسند امام احمد، مصنف ابن ابی شیبہ میں یہ دعا بطور سجدہ تلاوت وارد ہے ان مقامات میں "فتبارک اﷲ أحسن الخالقین" کے الفاظ نہیں ہیں البتہ مستدرک حاکم میں یہ روایت تین جگہوں پر ہے ایک جگہ ان الفاظ بھی زیادتی ہے ۔ اس روایت کو حاکم نے شیخین کی شرط پہ صحیح کہاہے ۔ الفاظ کی زیادتی مسلم میں بھی بطور عام سجدہ کی دعا وارد ہے روایت آگے آرہی ہیاور یہ سورہ مومنون آیت نمبر چودہ کا حصہ بھی ہے۔
دوسری دعا:
ایک شخص خواب میں ایک درخت کے پیچھے نماز میں سجدہ کرتے ہوئے اس درخت کو یہ کہتے سنا اور رسول اﷲ ﷺ سے وہ آواز بیان کیا جو یہ ہے۔
اﷲم اکتُبْ لِی بہا عندَک أَجْرًا، وضَعْ عنی بہا وِزْرًا، واجعلْہا لی عندک ذُخْرًا، وتَقَبَّلْہا مِنِّی کما تَقَبَّلْتَہا من عبدِکَ دَاوُدَ(صحیح الترمذی:579)
ترجمہ: اے اﷲ! اس کے بدلے تو میرے لیے اجر لکھ دے، اور اس کے بدلے میرا بوجھ مجھ سے ہٹادے، اور اسے میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنالے،اور اسے مجھ سے تو اسی طرح قبول فرماجیسے تونے اپنے بندے داود سے قبول کیاتھا۔
ترمذی کی روایت میں آگے مذکور ہے۔ حسن بن محمدبن عبیداﷲ بن ابی یزید کہتے ہیں: مجھ سے ابن جریج نے کہا کہ مجھ سے تمہارے دادا نے کہا کہ ابن عباس رضی اﷲ عنہما نے کہاکہ نبی اکرمﷺ نے آیت سجدے کی تلاوت کی اور سجدہ کیا، ابن عباس کہتے ہیں: تو میں نے آپ کو ویسے ہی کہتے سنا جیسے اس شخص نے اس درخت کے الفاظ بیان کئے تھے۔
تیسری عام دعا:
صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ نبی ﷺ جب سجدہ کرتے توکہتے : اﷲمَّ ! لک سجدتُ . وبک آمنتُ . ولک أسلمتُ . سجد وجہی للذی خلقَہ وصوَّرہ ، وشقَّ سمعَہ وبصرَہ . تبارک اﷲُ أحسنُ الخالقِین(صحیح مسلم:771)
ترجمہ:اے اﷲ!میں نے تیرے ہی حضور سجدہ کیااور تجھ ہی پر ایمان لایا اور ا پنے آپ کو تیرے ہی حوالے کیا،میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہے جس نیاسے پیدا کیا،اس کی صورت گری کی اور اس کے کان اور اس کی آنکھیں تراشیں،برکت والاہے اﷲ جو بہترین خالق ہے ۔
سنن دارقطنی اور صحیح ابن حبان وغیرہ میں رسول اﷲ ﷺ سے یہ دعا فرض نمازمیں کرنے کی بابت منقول ہے جبکہ دوسری احادیث سے رات کی نفل نماز کے سلسلے میں بھی وارد ہے ۔ چونکہ سجدہ تلاوت میں سجدہ سے متعلق ساری دعائیں کرسکتے بلکہ دیگر ماثورہ دعائیں بھی کرسکتے ہیں اس دعا کو بھی سجدہ تلاوت میں پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
سجدہ تلاوت کے مزید چند احکام :
٭نماز میں سجدہ تلاوت کرتے وقت امام تکبیر کہتے ہوئے سجدہ کرے گا اور مقتدی کو الزامی طور پر امام کے ساتھ سجدہ کرنا ہوگا پھر تکبیر کہتے ہوئے کھڑا ہوگا، سجدہ سے اٹھتے وقت تکبیر نماز کے ساتھ خاص ہے،بغیر نماز والے سجدہ میں اٹھتے وقت تکبیر نہیں ہے۔
٭ بہتر یہ ہے کہ امام سری نماز میں لوگوں میں تشویش ہونے کی باعث سجدہ تلاوت نہ کرے البتہ منفرد کے لئے کوئی حرج کی بات نہیں ہے۔
٭ قاری کے علاوہ سامع پر بھی سجدہ تلاوت مسنون ہے یعنی نے جس نے قاری کو آیت سجدہ تلاوت کرتے سنا اس کو سجدہ کرنا چاہئے جیساکہ نبی ﷺ جب کوئی سجدہ کی آیت تلاوت کرتے تو سجدہ کرتے اور آپ کے ساتھ موجود صحابہ بھی سجدہ کرتے۔
٭ کوئی گاڑی چلاتے ہوئے ٹیپ رکارڈسے تلاوت کی آیت سنے تو ممکن ہو تو سجدہ کرلے ورنہ چھوڑ بھی سکتا ہے کیونکہ واجب نہیں ہے ، عدم وجوب کی دلیل اوپر گزری ہے۔ ٹرین، جانورکی سواری اور جہاز وغیرہ پر سفر کرتے وقت آیت سجدہ پڑھنے یا سننے یا لاؤڈسپیکرسے آیت سجدہ سننے کا بھی یہی حکم ہے۔ سواری پہ سجدہ نہ کرسکنے کی صورت میں ہاتھ کے اشارے کے ساتھ تھوڑا سا جھک جائے اور دعا پڑھ لییہ بھی کافی ہے۔
٭سجدہ تلاوت کرتے وقت کوئی اونچی چیز نہ ملے توقرآن پاک فرش پہ رکھ سکتے ہیں ، کوئی موجود ہو تو اس کو تھمادے اور اگر ریحل ، ٹیبل یا طاق وصندوق وغیرہ ہوتواس پر رکھ دے یا خود اپنے ہاتھ میں تھام کر بھی سجدہ کرسکتا ہیاس حال میں کہ ہاتھ زمین پر ہو۔
٭ دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ حائضہ بھی قرآن پڑھ سکتی ہے وہ اگر سجدہ تلاوت سے گزرے تو شیخ ابن باز رحمہ اﷲ نے کہا ہیکہ حیضاء اور نفساء کے سجدہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
٭ عورت سجدہ کرے تو سر ڈھانپنا ضروری نہیں ہے تاہم بہتر ہے اور بعض اہل علم نے ضروری قرار دیا ہے مگر اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
٭جب قاری یا حفظ کرنے والا بار بار سجدہ والی آیت پڑھے تو ایک بار سجدہ کرنا کافی ہیاور چھوڑ دینے میں گناہ نہیں ہیکیونکہ واجب نہیں ہے۔
٭جس طرح اسباب والی نمازیں مکروہ اوقات میں بھی ادا کرسکتے ہیں اسی طرح سجدہ تلاوت بھی کرسکتے ہیں خواہ سورج ڈوب رہاہو یا نکل رہاہو۔
٭کوئی تلاوت کرے اور تھوڑی دیر بعد سجدہ کرے تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن آیت سجدہ کی تلاوت پہ طویل وقت گزر جائے اور سجدہ نہیں تھا تو اب سجدہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
٭ قرآن کریم میں سورہ حج کے آخر میں باہری صفحہ پر"السجدۃ عند الشافعی" (یعنی امام شافعی رحمہ اﷲ کے نزدیک یہاں سجدہ تلاوت ہے) لکھا ہوتا ہے ۔ یہ فقہی مسلک کے اعتبار لکھا ہوا ہے کہ اسے امام شافعی یہاں سجدہ مانتے ہیں جبکہ امام ابوحنیفہ نہیں مانتے ۔ میں نے اوپر حدیث کا حوالہ دیا ہے کہ سورہ حج میں دو سجدے ہیں اس لئے حدیث رسول کے بعد کسی چیز کی ضرورت نہیں رہتی یعنی ہمیں اس بات کو محمد ﷺ کی جانب نسبت کرنے کی ضرورت ہے۔
سجدہ تلاوت کے متعلق رائج چند غلط طریقے :
(۱)بعض لوگ سجدہ کے لئے کھڑے ہوتے ہیں ، زبان سے نیت بھی کرتے ہیں اورسجدہ سے اٹھتے ہوئے تکبیر کہتے ہیں سو ان کاموں کی کوئی دلیل نہیں ہیاس لئے ایسا نہیں کرنا چاہئے، سجدہ کرنے کا طریقہ اوپر بیان ہوا ہے اس کیمطابق کریں ۔
(۲)بعض لوگوں میں یہ طریقہ رائج ہیکہ مکمل قرآن ختم کرکے اکٹھے سارے سجدے کرتے ہیں بطور خاص تراویح پڑھانے والے آخر رمضان میں ختم قرآن کے دن ساری سجدہ والی آیتیں اکٹھے پڑھ کر اکٹھے سجدہ کرتے ہیں ۔ یہ دین میں نئی ایجاد ہے ۔ اسی طرح بعض لوگ تلاوت مکمل کرکے سجدے کرتے ہیں یہ بھی غلط ہے۔
(۳)تلاوت کرتے ہوئے سجدہ والی آیت کو چھوڑ دینا اور آگے تلاوت کرنا جائز نہیں ہے جیساکہ بعض حفاظ کرتے ہیں ،بھلے سجدہ نہ کرے مگر آیت سجدہ کی تلاوت ترک نہ کرے ۔
(۴)بعض لوگ سجدہ کی جگہ بجائے سجدہ کرنے کیبعض قسم کے اذکار کرتے ہیں مثلا "سمعنا وأطعنا غفرانک ربنا وإلیک المصیر" یا "سبحان اﷲ والحمد ﷲ ولا إلہ إلا اﷲ واﷲ أکبر" یا چار دفعہ"لا إلہ إلا اﷲ وحدہ لا شریک لہ ، لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شیء قدیر" یہ بھی دین میں نئی ایجاد ہے ، ذکرسجدہ کا بدل نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اسلاف میں سے کسی نے ایسا کیا ہے ۔ مختصر یہ ہے کہ ایسی کوئی دعا نہیں ہے جو سجدہ تلاوت سے مستغنی کردے۔
(۵)بعض لوگ سور ج ڈوبتے اور نکلتے وقت سجدہ تلاوت نہیں کرتے ایسے لوگ اس معاملہ میں خطا پر ہیں ، صحیح بات یہی ہے کہ ایسے وقتوں میں سجدہ کرسکتے ہیں ۔
(۶)احناف کییہاں لکھا ہے کہ کلاس میں جتنے طالب علم سجدہ کی آیت پڑھے استاد کو اتنی دفعہ واجبی طور پرسجدہ کرنا ہوگا۔ یہ تکلیف مالا یطاق ہے۔ اولا سجدہ تلاوت واجب ہے ہی نہیں ،ثانیا ایسی حالت میں ایک بار سجدہ کافی ہے۔
(۷)قرآن خوانی میں ایک شخص دوسرے کی طرف سے سجدہ کرتا ہے۔ معلوم رہے قرآن خوانی کامروجہ طریقہ شریعت کے خلاف ہے اور یہ بھی خلاف سنت ہے کہ کوئی دوسرے کی جانب سے سجدہ تلاوت کرے۔

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maqubool Ahmad

Read More Articles by Maqubool Ahmad: 302 Articles with 166163 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
31 Jul, 2018 Views: 885

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ