بااخلاق مسلمان کا کردار

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر :عالیہ ذوالقرنین، لاہور
بی بی جی! میں آ جاؤں؟ پروین نے ٹوکری سے کوڑا اپنی کچرا گاڑی میں منتقل کرتے ہوئے بی بی جان سے پوچھا۔ ہاں ہاں، کیوں نہیں! تم سامنے نل سے ہاتھ دھو کر آؤ، تب تک میں ناشتہ منگواتی ہوں، بی بی جان نے شفقت بھرے انداز میں پروین کو جواب دیا اور ساتھ ہی اپنی بہوؤں کو آواز دینے لگیں۔

اری ثروت! انیلہ! بیٹی جلدی سے پروین کے لیے ناشتہ لے آؤ ایک تو میں اس پروین سے بہت تنگ ہوں، پتا نہیں کیوں بی بی جان کو اس کے عیسائی ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔ پھر وہ کوڑا اٹھانے والی گندی عورت! ہونہہ ثروت بیگم دانت کچکچاتے ہوئے ناشتہ بنانے لگیں۔

ہاں بھابی! مجھے بھی اس گھر میں دو سال تو ہونے کو آئے ہیں، میں بھی یہی دیکھ رہی ہوں کہ پورے پروٹوکول کے ساتھ کوڑا اٹھانے والی پروین صاحبہ کو ہر صبح ٹرے میں ناشتہ پیش کیا جاتا ہے۔ کچھ کہو تو یہ کہہ کر خاموش کروا دیا جاتا ہے کہ اسلام تلوار سے نہیں اخلاق سے پھیلا ہے انیلہ بیگم بھی برا مناتے ہوئے گویا ہوئیں۔

تم دو سال کی بات کر رہی ہو؟ میری شادی کو ساڑھے تین سال ہو چکے ہیں۔ اس سے بھی پہلے پتا نہیں کب سے یہ سلسلہ پوری آب و تاب سے چل رہا ہے ، ثروت بیگم نے کہا اور بے دلی سے ٹرے سجائی اور مصنوعی مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے لان میں بیٹھی پروین کے سامنے رکھی اور پلٹ گئیں۔

کھاؤ کھاؤ! اور ہاں دیکھو پیٹ بھر کر کھانا، روٹی اور چاہیے تو لے لینا۔ ہمارے پیارے نبی صل اﷲ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان ہے کہ بھوک اور تکلف کو ایک جگہ اکٹھا مت کرو۔ بی بی جان نے اس کے سامنے جگ سے پانی نکال کر رکھتے ہوئے کہا مگر دوسرے ہی لمحے حیران رہ گئیں۔ پروین نے کھانا کھانے کے بجائے منہ پر ہاتھ رکھ کر رونا شروع کر دیا تیزی سے نکلنے والے آنسو لمحوں میں اس کا چہرہ بھگو چکے تھے۔

اری، کیا ہوا؟ پروین! ایسے کیوں رو رہی ہو؟ گھر میں سب ٹھیک تو ہیں نا؟ کوئی مسئلہ تو نہیں؟بی بی جان نے گھبرا کر ایک ہی سانس میں کئی سوال کر ڈالے اور پروین کی طرف پانی بڑھاتے ہوئے کہا سب چھوڑو، لو، پہلے پانی پیو پروین نے پانی پیا اور کچھ دیر سر جھکا کر بیٹھی رہی۔ اس کی آنسوؤں بھری کچھ سوچتی آنکھیں پل بھر کو بی بی جان پر ٹکیں۔

بی بی جان! مجھے اپنے نبی کا کلمہ پڑھا دیں میں مسلمان ہونا چاہتی ہوں کیا؟۔۔۔ ک۔۔ ک۔۔ کیا کہا تم نے؟ بی بی جان نے بمشکل فقرہ پورا کیا۔ جی بی بی جان! میں باہوش و حواس مسلمان ہونا چاہتی ہوں، پروین بولی۔
تم نے یہ مذہب بدلنے کا اتنا بڑا فیصلہ کس طرح اتنی آسانی سے کر لیا؟ بی بی جان ابھی تک یقین نہیں کر پا رہی تھیں۔ آسانی کہاں بی بی جان! 4سال ہو گئے ہیں قطرہ قطرہ چوٹ پڑتے۔۔ آپ کو یاد ہے نہیں ، مگر مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب چار سال پہلے ایک دن بھوک سے تنگ آ کر آپ سے کھانا مانگا تھا تو میرا خیال تھا کہ آپ مجھے کوئی بچی کچھی روٹی شاپر میں ڈال کر دے دیں گی۔ مگر میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب آپ نے صابن سے میرے ہاتھ منہ دھلوا کر ٹرے میں رکھ کر ناشتہ پیش کیا اور میرے جھجکنے پر کہا بیٹی! کھا لو۔ ہمارے قرآن میں جگہ جگہ بھوکے کو کھانا کھانے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ حکم صرف کسی مسلمان کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لئے ہے جو بھوکا ہو۔ پھر یہ ٹرے میں سجے قیمتی برتن! آپ مجھے عام برتنوں میں دے دیتیں میں اسی میں کھا لیتی۔ میرے جھجکنے پر آپ کا جواب تھا بیٹی! یہ کھانا میں تمہیں اﷲ کے نام پر کھلا رہی ہوں تو اﷲ کے نام پر کھلایا جانے والا کھانا میں کس طرح عام برتنوں میں کھلاؤں؟ میرا دل گوارا نہیں کرے گا اور پھر اس دن کے بعد سے آج تک میں اس گھر سے پہلے دن کی طرح عزت سے پیٹ بھر کر جاتی ہوں۔مگر یہ تو 4سال سے تمہارا معمول ہے، اب ایسی کیا بات ہوئی کا تم اپنا پیدائشی مذہب چھوڑنے کو تیار ہو گئی؟ بی بی جان خوشی اور حیرت کی ملی جلی کیفیت میں بولیں۔

بی بی جان! آپ میری بات کا یقین کریں یا نہ کریں، میں نے آج رات خواب دیکھا کہ قیامت کا سماں ہے ہر طرف پریشانی اور خوف کا ڈیرہ ہے سورج کی تپش ہر چیز پگھلا چکی ہے ہر طرف شور و غل مچا ہے۔ مجھ ان پڑھ کے پاس وہ الفاظ ہی نہیں جو اس کیفیت کو بتلا سکوں کہ میں چھاؤں کی تلاش میں بھاگتی ہوں۔ قدموں کے نیچے تپتی زمین پاؤں میں چھالے بنا چکی ہے مگر کہیں پیر رکھنے جتنی بھی ٹھنڈی جگہ نہیں۔ اچانک میں نے کچھ لوگوں کو ایک ٹھنڈی چھاؤں میں دیکھا۔ کیا چھاؤں تھی وہ بی بی جان!! جس میں موجود نہ ہونے کے باوجود اس کی ٹھنڈک کے تصور نے مجھے میرے پاؤں کے چھالے بھی بھلا دئیے اور جب جب۔۔۔ جب میں نے اس چھاؤں تک پہنچنے کی کوشش کی تو مجھے یہ کہہ کر وہاں سے پیچھے ہٹا دیا گیا کہ یہ اﷲ کے عرش کا سایہ ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو اس کے لیے لوگوں سے محبت کرتے ہیں اور اسی کے لیے نفرت۔ اور بی بی جان پھر میری آنکھ کھل گئی اور میرے دل نے آپ کے مذہب کے سچا ہونے کی گواہی دی اور میں آپ کے سامنے ہوں۔ مگر آپ کو ایک بات بتاؤں بی بی جان؟ اس چھاؤں میں خوشی سے چمکتا دمکتا چہرہ لیے آپ بھی موجود تھیں۔ میں نے آپ کو خود دیکھا تھا پروین آنسوؤں کی لڑی میں ہنستے ہوئے خوش ہوکر بولی۔

مقصد حیات پورا ہونے پر حیرت اور مسرت سے بی بی جان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا اور وہ پروین کو کلمہ پڑھانے کے لیے غسل کرنے کا کہہ کر خودسجدہ شکر ادا کرنے چل پڑیں۔ انہیں کیا خبر تھی کہ 4سال تک اسم اعظم یعنی اﷲ کے نام کا کھانا کھلانے سے جہاں اسے ہدایت کا نور عطا کیا جائے گا، وہیں خود انہیں بھی روز قیامت سایہ عرش کی خوشخبری اسی کے ذریعے پہنچا دی جائے گی۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1254 Articles with 531866 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Aug, 2018 Views: 205

Comments

آپ کی رائے