لاجواب کرنے والا سوال

(Dilpazir Ahmed, Rawalpindi)
میں تو عشروں قبل زلفی کے سوال کی دلدل میں پھنسا ہوا تھا مگر اب خود زلفی اپنی بیٹی کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے ا۔ اگر میرے پاس زلفی کے سوال کا جواب نہیں تھا تو آج عشروں بعد اس کے پاس بھی نئے سوالوں کا جواب نہیں ہے ۔ کیا مسلمان مجبور ہے کہ وہ نئی نسل کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں خاموشی اختیار کرے؟

۱۹۶۹ کی ایک شام بی بی سی ریڈیو نے خبر نشر کی کہ ایک امریکی خلائی جہاز چاند کی سطح پر اترا ہے اور نیل ارمسٹرانگ نام کے ایک خلاباز نے چاند پر چہل قدمی کی ہے ۔ میں ان دنوں ہائی سکول میں تھا۔ اخباروں میں ، ریڈیو پر اور ٹی وی پر بھی اس خبر کا چرچا تھا۔ انسان کو عطا کیے گئے علم کے بل بوتے پر انسان نے بہت بڑا معرکہ سر کیا تھا۔ میرے فزکس کے استاد اپنے مضمون کی خوبیوں کو اس کامیابی کا اعجاز بتاتے تھے تو میتھ کے استاد نے اپنے مضمون کو اس کامیابی کی اساس قرار دیا تھا۔ کیمسٹری کے پیریڈ میں بتایا گیا کہ اس مضمون نے اس کامیابی میں کیا کردار ادا کیا ہے ۔ہمارا ہفتے میں ایک دن ڈرائننگ کا پیریڈ ہوا کرتا تھا۔اس دن ہمیں بتایا گیا کہ ڈرائنگ کے بغیر خلائی جہاز کا بننا ممکن ہی نہ تھا۔ البتہ ہمیں یہ جان کر خوشی ہو رہی تھی کہ ہم وہ مضامین پڑھ رہے ہیں جو انسان کو چاند اور ستاروں تک پہنچا سکتے ہیں۔ ان دنوں راولپنڈی صدر میں امریکن سینٹر ہوا کرتا تھا ۔ بہت بڑی لائبریری کے ساتھ ساتھ وہاں سیمنارز کا اہتمام بھی ہوتا تھا ۔ تسخیر چاند پر بھی ایک سیمنار منعقد ہوا تھا ۔ لیکچر، سیمنار میں جو سمجھ آیا سو آیا مگر اگلا پورا ہفتے ہمارے فزکس کے استاد نے اس لیکچر کو ہمارے ذہن کی سطح پر ہمیں سمجھانے میں صرف کیا۔

میرا سکول اسلام آباد کے پرانے ائرپورٹ کی بغل میں ، ویول لائنز میں ، سنٹرل گورنمنٹ ہائی سکول نمبر۱یک ہوا کرتا تھا۔ وفاقی اداروں ، جو نئے نئے کراچی سے منتقل ہوئے تھے ، کے بچوں کے لیے یہ پہلاسکول تھاجو راولپنڈی میں قائم کیا گیا تھا ۔ سکول اب بھی موجود ہے مگر اب شائد عسکری نگرانی میں ہے۔ان دنوں سکولوں کی نگرانی کا کام صرف وزارت تعلیم انجام دیا کرتی تھی۔ البتہ مذہبی نگرانی کا فریضہ علماء کرام ہی ادا کیے کرتے تھے۔ ہمارے محلے کی مسجد جامع مسجد ہوا کرتی تھی اور عام دنوں میں مسجد کا ہال نمازیوں سے بھر جاتا تھا مگر جمعہ والے دن صحن بھی بھر جایا کرتا تھا۔ اب ہمارے محلے کی آبادی اس وقت کی نسبت کافی زیادہ ہے شائد دوگنی ہو گئی ہے مگر عام دنوں میں نمازیوں کی تعداد ان دنوں کی نسبت آدھی ہوتی ہے ۔ البتہ جمعہ والے دن صحن بھی بھر جاتا ہے اور دوسری منزل جو اس وقت موجود نہیں تھی وہاں بھی اوردوسری منزل کے چھت پر بھی نمازیوں کا رش ہوتا ہے ۔ حالانکہ اس عرصہ میں اس محلے میں چار مزید مساجد کا اضافہ ہو چکا ہے ۔اس وقت پورا محلہ محض مسلمان ہوا کرتا تھااور اب پانچ مسالک میں تقسیم ہو چکا ہے۔ اس مسجد میں صبح کی نماز میں میرے بچپن کے دنوں میں چھ صفیں ہوا کرتی تھیں ۔ اج کل صرف دو ہوتی ہیں۔ دوسری مساجد ۔ جو اس مسجد کی نسبت چھوٹی اور نئی ہیں ، وہاں بھی ، صبح کی جماعت میں نمازیوں کی تعداد ایک یا ڈیڑھ صف کی ہوتی ہے۔میں ذاتی طور پر صبح کی نماز جہاں بھی ادا کروں نمازیوں کی تعداد معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میرے اس تجسس کی وجہ ایک مکالمہ ہے جو ایک شامی یہودی کے ساتھ ہوا تھا۔ اس یہودی کا کہنا تھا کہ جس دن مسلمانوں کی مساجد میں صبح اور جمعہ کی نمازکے نمازیوں کی تعداد برابر ہو گئی اس دن دنیا سے یہودی مذہب کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مجھے نہیں معلوم یہ روائت صیح ہے یا نہیں یا یہ صرف یہودیوں ہی کا عقیدہ ہے یا اسلام میں بھی کوئی ایسا قول موجود ہے۔البتہ میں اپنے مشاہدے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ مسلمانوں کی مساجد میں صبح کی نماز کے نمازیوں کی تعداد کم ہی ہوئی ہے اور مسلسل ہو رہی ہے۔میرا موضوع انسان کا چاند پر اترنا ہے اور جن دنوں کا ذکر کر رہا ہوں ان دنوں مساجد میں لاوڈ سپیکر پر علماء کی تنقید کم ہو چکی تھی بلکہ ہمارے محلے کی مسجد میں بھی امام صاحب نے لاوڈسپیکر کی مخالفت عرصہ ہوا ترک کر دی تھی اور لاوڈسپیکر مسجد میں جگہ پا چکا تھا ۔ ان دنوں مینار پر لگے بھونپو کی تعداد دو تھی جو اب چھ ہو چکی ہے ۔ ان دنوں مخالفت کا موضوع انسان کا چاند پر اترنا تھا۔ مساجد میں امریکہ کے اس دعوے کو خود ساختہ اور بے بنیاد بتایا جاتا تھا ۔ مولوی صاحب کی بات کچھ دلوں میں ایمان تازہ کرتی تھی اور کچھ لوگ خاموشی سے وعظ سن لیتے تھے۔ان ہی دنوں ہمارے ہاں کراچی سے میرے ایک عزیز کی فیملی ہمارے ہاں مہمان آئی ہوئی تھی ان میں ایک چوتھی جماعت کا طالب علم زلفی بھی تھا۔ جمعہ کا دن تھا ۔ میں نماز پڑہنے کے لیے نکلنے لگا تو زلفی بھی میرے ساتھ ہو لیا۔ ہم مسجد پہنچے اور بیٹھ کر وعظ سننا شروع کیا ۔ امام صاحب کا موضوع آج بھی امریکہ اور چاند ہی تھا۔یہ ان دنوں عام موضوع ہوا کرتا تھا مگر اس دن انھوں نے باقاعدہ فتوی دیا کہ جو مسلمان امریکہ کے اس دعوے پر یقین کرئے گا اس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی ۔کچھ نمازیوں کا ایمان تازہ ہوا اور کچھ نے خاموشی سے وعظ سن کر نماز ادا کی ۔ غیر متوقع واقعہ یہ ہوا کہ جب ہم نماز پڑھ کر واپس آ رہے تھے زلفی نے مجھ سے استفسار کیا کہ یہ کیسا فتویٰ ہے کہ یقین مرد کرے اور گھر بیٹھی اس کی بیوی کو طلاق ہو جائے ۔
زلفی اج کل اسلام آباد میں ایک کمپنی میں ملازم ہے اس کے دو بچے ہیں ۔ گذشتہ اتوار کو وہ خاندان سمیت ہمارا مہمان تھا۔ مغرب کی نماز ہم نے اکٹھے اور اسی مسجد میں پڑہی ، واپسی پر اس نے پوچھا ْ انکل میں نے بچپن میں آپ سے ایک سوال پوچھا تھا ْ پھر خود ہی کہنے لگا اس وقت آپ کے پاس اس سوال کا جواب نہیں تھا مگر اب بچے مجھ سے ایسے سوالات پوچھتے ہیں جن کا جواب میرے پاس نہیں ہوتا ۔
ْ مثال کے طور پر کون سا سوالْ میں نے پوچھا
زلفی نے بتایا کہ اس کی بیٹی جو اے لیول کی طالبہ ہے نے اس سے سعودی عرب میں ۱۹۷۹ میں شروع ہونے والی ْ تحریک سہوہ ْ پر بات کرتی ہے ایران میں ۱۹۷۹ میں آنے والے انقلاب کے نتائج کے بارے میں بات کرتی ہے

ایران میں خواتین کے سکرٹ سے ْ چادر تک کے سفر پر بحث کرتی ہے ۔ سعودیہ میں عورت اور اسلامی شعار میں ربط پر سوال کرتی ہے کہ سعودی خواتین نے اس تحریک کے نتیجے میں عباء کو اپنا لیا اور ڈرائیونگ پر پابندی کو قبول کر لیا ۔ اب سعودیہ میں مگر ْ تحریک سہوہ ْ کے رد میں جو سجدہ سہو کیا جا رہا ہے اور معاشرتی ترقی کا نیا خواب دکھایا جا رہا ہے ۔ اس میں عورت کو ْ بے پردہ ْ کرنا بھی شامل ہے ۔ سعودی عرب ہو یا ایران ان کی اپنی معاشرت ہے ہمارا مقصد ان کے نظریات پر تبصرہ کرنا ہر گز نہیں ہے ۔ میں تو عشروں قبل زلفی کے سوال کی دلدل میں پھنسا ہوا تھا مگر اب خود زلفی اپنی بیٹی کی طرف سے پوچھے گئے سوالوں کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے ا۔ اگر میرے پاس زلفی کے سوال کا جواب نہیں تھا تو آج عشروں بعد اس کے پاس بھی نئے سوالوں کا جواب نہیں ہے ۔ کیا مسلمان مجبور ہے کہ وہ نئی نسل کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کے جواب میں خاموشی اختیار کرے؟

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dilpazir Ahmed

Read More Articles by Dilpazir Ahmed: 104 Articles with 55490 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Aug, 2018 Views: 393

Comments

آپ کی رائے