شرم ان کو پھر بھی نہیں آتی .....

(Aslam Lodhi, Lahore)

عیدکی دوسری صبح میں کیولری گراؤنڈ پارک میں واک کے لیے گیا تو پورا پارک کولڈ ڈرنک کی بوتلوں ‘ ٹین کے ڈبوں ‘ بیکری کے سازو سامان کے وائپروں اور پتہ نہیں کیا کیا ہر جگہ بکھرا دکھائی دیا ۔ ہر طرف گندگی اور تعفن کو دیکھ کر یوں محسوس ہورہا تھا جیسے یہ پارک نہیں‘ کوڑے کا ڈھیر ہو۔ حقیقت میں یہ نہایت خوبصورت ترین پارک ہے۔ جہاں میرے جیسے سینکڑوں لوگ صبح اور شام واک کرتے اور یہاں ورزش کی باقاعدہ کلاسیں بھی لگتی ہیں ۔عید کی شام یہاں آنے والوں نے پارک کا حلیہ بگاڑا تھا ۔ میں یہ سوچ کر پریشان ہوگیاکہ ہم اس قدر گندے ہیں کہ کوڑا دان کی موجودگی کے باوجود ہم ان کو استعمال نہیں کرتے ‘ بلکہ جہاں کھاتے ہیں‘ وہیں پھینک دیتے ہیں ۔ہمیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ یہ پارک ہم سب کے لیے راحت و تفریح کا سامان بنتا ہے جس کی حفاظت کرنا اور صاف ستھرا رکھنا ہم سب کا فرض ہے ۔ کچھ ایسے ہی لوگ پارک میں کھلے ہوئے پھولوں کو ٹہنیوں سے توڑ کر اپنی جیب میں ڈالنا بہتر خیال کرتے ہیں حالانکہ پودوں پر لگے موتیے اور گلاب کے پھول نہ صرف ماحول کی خوبصورتی کا باعث بنتے ہیں بلکہ ان کی خوشبو بھی پارک میں آنے والوں کے لیے راحت سامان بنتی ہے ۔

والٹن کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے اس پارک کو خوبصورت بنانے کے لیے بے شمار سہولتیں فراہم کیں۔ ان سہولتوں میں بہترین صاف ستھرا فلش سسٹم ‘ خواتین اورمردانہ باتھ روم بھی شامل ہے جس کے کچھ ہی فاصلے پر ٹھنڈے پانی کاکولر بھی نصب ہے ۔میری کوشش تو یہی ہوتی ہے کہ گھر سے نکلنے سے پہلے ان دشواریوں سے نجات حاصل کرلوں جو پارک میں واک کے دوران پریشانی کا باعث بن سکتی ہیں ۔ پھر کبھی پارک میں پہنچ کر رفع حاجت کی ضرورت محسوس ہوئی تو صاف ستھرے باتھ روم کی حالت جو ہم لوگ بناتے ہیں اسے دیکھ کر سر شرم سے جھک جاتا ہے ۔کسی نے ٹھیک کہاہے کہ ہمار ا شمار اب مہذب اقوام میں نہیں ہوتا ۔ جو بھی کا م کرتے ہیں انتہائی غیر ذمہ داری اور لاپروائی سے کرتے ہیں ‘ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمارے بعد آنے والے کیا سوچیں گے ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ ہوائی سفر کے دوران مجھے جہاز کے ٹویلٹ میں جانے کا اتفاق ہوا تو ٹویلیٹ کے باہر ایک تختی آویزاں دکھائی دی جس پر یہ تحریر درج تھی ۔اگر آپ کو یہ صاف ستھرا واش روم اچھا نہیں لگتا تو بہتر ہے آپ اسے استعمال نہ کریں ۔ایسا نہ ہو کہ ہمیں مجبورا اس واش روم میں کیمرا لگانا پڑے اور واش روم میں ہونے والی تمام بیہودہ حرکت کو براہ راست ٹیلی کاسٹ کرنا پڑے تاکہ جہاز میں سفر کرنے والے بھی آپ کی ان غلیظ حرکتوں سے آگاہ ہوجائیں جو آپ باتھ روم میں گندگی پھیلانے کے لیے کررہے ہیں۔ آپ کو صاف ستھرا باتھ روم تب ہی ملے گا اگر آپ خود ایک ذمہ داری شہری کی حیثیت سے باتھ روم کو صاف ستھرا چھوڑ کر جائیں۔

بہرکیف پارک کے واش روم میں یہ دیکھ کر پریشان ہوگیا کہ کسی بدبخت نے گھاس والے پاؤں ‘ واش بیسن کے نیچے کچھ اس طرح دھوئے کہ پاؤں دھو کر تو وہ واش روم سے رخصت ہوگیا ‘پاؤں کے ساتھ گھاس کے جتنے تنکے اور مٹی لگی تھی ‘ وہ سب کی سب فرش پر چھوڑ گیا ۔ وہاں کھڑے ہوکر میں سوچنے لگا کہ ہم کب سدھریں گے ‘کیا ہمیں واش روم بھی استعمال کرنا بھی نہیں آتا ۔ ہماری اولین خواہش ہے کہ پبلک مقامات پر واش روم صاف ستھرے ہوں اور وہ تمام جدید سہولتوں سے آراستہ بھی ہوں ۔ جب انہیں استعمال کرنے کا وقت آتا ہے تو غلاظت کمپوڈ میں چھوڑ کر پانی بہائے بغیر ہی چلتے بنتے ہیں ۔کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو سسٹم کو غلط استعمال کرکے خراب کر دیتے ہیں ۔ بے شمار جگہوں پر شاور خراب ملتے ہیں ۔ ان کو استعمال کرنے کا طریقہ ہمیں نہیں آتااگر آتا ہے تو ہم اپنا تصور کرکے استعمال نہیں کرتے ۔ اگر یہ کہاجائے تو غلط نہ ہوگا کہ ہم بحیثیت قوم اچھے نہیں رہے ۔ ہمارا شمار مہذب اقوام میں نہیں ہوتا ۔ ہم اپنے لیے تو ہر آسانی کے طلب گار ہیں لیکن دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا ہمیں یادنہیں رہتا ۔واش روم ہو یا کوئی اور جگہ ۔ہم یہی چاہتے ہیں کہ ہمارے بعد اسے کوئی استعمال نہ کرسکے ۔ ایک جگہ میں نے واش روم میں یہ لکھاہوا دیکھا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ صاف ستھرا واش روم آپ کو ملے تو یہ کام آپ خود بھی کرسکتے ہیں۔

یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ پبلک مقامات ‘ بسوں کے اڈے ‘ ہسپتالوں کے واش روم نہ صفائی کے اعتبار سے معیاری نہیں ہوتے بلکہ ان میں ایسی ایسی بیہودہ تحریریں اور تصویروں کا آرٹ ورک دکھائی دیتاہے جو ہمارے قومی مزاج کا حصہ بن چکا ہے ۔ جو لوگ پنسل ورک کرتے ہیں انکی خاندانی خصلت کا تو ان کے کام سے ہی علم ہوجاتاہے لیکن سینئر لوگ اس لیے ذمہ قرار پاتے ہیں کہ وہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ ایک بار میں سروسز ہسپتال اپنے ایک عزیز کی تیمار داری کے لیے گیا ۔رفع حاجت کے لیے مجھے ایمرجنسی وارڈ کے بیت الخلا میں جانا پڑا ۔ جو اس قدر گندہ تھا کہ اس کا ذکر الفاظ میں نہیں کیاجاسکتا۔ اس میں جو تصویریں اور تحریریں دیکھنے کو ملیں‘ انہیں دیکھ کر دماغ خراب ہوگیا ۔ سروسز ہسپتال کے ایک سنیئر ڈاکٹر سے بات ہوئی تو اس نے یہ کہہ کر معاملہ رفع دفع کردیا کہ ہم روز باتھ روموں میں جاکر تو چیک نہیں کرسکتے ۔ پتہ نہیں کون لوگ یہ فنکاری دکھاتے ہیں ۔ ایمرجنسی وارڈ میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا لوگ لائے جاتے ہیں اوران کے عزیز واقارب کی بھی ذہنی حالت قابل رحم ہوتی ہے وہ اپنے عزیز کی صحت یابی کے لیے دعا گو ہوتے ہیں لیکن واش روم میں جا منظرہی بدل جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کھلے عام دعوت گناہ دی جارہی ہے ‘ جیسے ہمیں موت کبھی نہیں آنی اور زندگی صرف گناہ کا نام ہی رہ گئی ہے ۔ بالکل یہی کیفیت لبر ٹی پارک کے واش روم میں دکھائی دی ۔ وہی بھی گناہ کے پوجاریوں نے اپنی فنکاری بلکہ بدکاری کا خوب مظاہرہ کررکھا ہے ۔ ہمارے ذہنوں پر کس قدر بیہودگی ‘ بے حیائی اور فحاشی چھا چکی ہے ہر جگہ اسی کے مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کہنے کو ہم مسلمان ہیں ۔ زندگی سے زیادہ ہمارا موت پر ایمان ہے ۔ موت کے بعد قبر میں کیا ہوگا اور روزقیامت کن مشکل ترین امتحانوں اور آزمائشوں سے گزر نا ہے ۔ ہمار ا دین ہمیں بتاتا ہے لیکن ہم اس دنیاوی زندگی کو ہی لذتوں کی آمجگاہ بنا کر آخرت کی زندگی کو بھول جاتے ہیں ۔اگر چند افراد ایسا کریں تو انہیں سمجھایا جاسکتاہے لیکن جب آدھی قوم ہی دنیاوی لذتوں اورگناہوں کی شوقین ہوجائے تو پھر ایسی قوموں پر عذاب ہی نازل ہوا کرتے ہیں ۔ ہم میں سے ہر شخص یہ کہتا سنائی دیتا ہے کہ ہم پر بدترین حکمران مسلط ہیں لیکن ہم اپنے گریبان میں جھانک نہیں دیکھتے کہ ہم کس قدر پارسا اور سچے اور کھرے انسان ہیں۔ اس لیے جیسی قوم ویسے ہی حکمران ہم پر مسلط ہوتے ہیں ۔

بیہودگی اور لچر پن کے ساتھ ساتھ ہمارا مزاج بھی حد سے زیادہ بگڑ چکا ہے ۔ یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ جو پاکستانی دوسروں ملکوں میں جاتے ہیں وہاں کیسے قانون کی پابندی کرتے ہیں ۔یہاں تو نہ کسی کو صحیح گاڑی پارک کرنا آتی ہے اور نہ چلانا آتی ہے۔کب سڑک عبور کرنی ہے اور کب رکنا ہے ہر بات ہمارے ذہن سے محو ہے ۔اشارے کھلے ہوتے ہیں ٹریفک تیز رفتاری سے گزر رہی ہوتی تو ان کے بیچ میں ہی پیدل کراس کرنے والے بھی الجھے ہوتے ہیں۔کئی مرتبہ تو ایسے قانون شکن لوگ حادثات کاشکار ہوکر ہسپتال پہنچ جاتے ہیں ۔شطر بے محار قوم بنتے جارہے ہیں۔

میرے ایک دوست دوبئی میں ملازمت کے سلسلے میں موجود ہیں ۔ایک دن وہ بہت پریشان تھے ۔ استفسار پر بتایا کہ رات گیارہ بجے میں نے ایک سڑ ک کو سرخ اشارے پر کراس کیا‘ اس وقت سڑک پر کوئی ٹریفک بھی نہ تھی ۔ ابھی میں سڑک کراس کرکے دوسری جانب پہنچا ہی تھا کہ ٹریفک سارجنٹ کہیں سے نمودار ہوا اور مجھے اس نے سرخ سگنل پر سڑک عبور کرنے کے جرم میں چار سو ریال جرمانہ کردیا ۔ چار سو ریال پاکستانی کرنسی میں 12 ہزار روپے بنتے ہیں۔ میں اس کی بات سن کے مسکرایا کہ تم رات گیارہ بجے کی بات کرتے ہو ۔ ہمارے پاکستان میں دن ہو یا رات جدھر کسی کا منہ آتا ہے چلاآتا ہے نہ انہیں کوئی روکنے والا اور نہ ٹوکنے والا ۔ اگر ون وے کا بورڈ نظر آئے تو اسی سڑک پر مخالف سمت آنیوالوں کی تعداد جانیوالوں سے زیادہ ہوتی ہے ۔ کتنے ہی حادثے ہوتے ہیں لوگ پھر بھی باز نہیں آتے ۔ خلاف ورزی کرنے والوں میں صرف نوجوان ہی نہیں ۔اچھے خاصے سمجھ دار لوگ بھی شامل ہیں ۔ ایک بائیک پر پانچ بچے اور بیگم بٹھائے مخالف سمت جانیوالے کی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے ۔ ہمارے ہاں ٹریفک قوانین پر پابندی کرنے والوں کو بزدل کہا جاتا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کو جی دار ‘ بہادرکے لقب سے پکارا جاتا ہے ۔میرا ایک نوجوان جسے سرخ اشارے سے بہت چیڑ تھی ۔وہ گھر سے نکل کر سروس ہسپتال (جہاں وہ ملازم تھا ) جانے لگتا تو راستے میں جتنے بھی سرخ اشارے ملتے انہیں کراس کرکے اسے ذہنی سکون میسر آتا ۔ ایک دن میں نے اس سے پوچھ ہی لیا کہ اس بے تابی اوربے قراری کی آخر وجہ کیاہے کہ تم ہر اشارے پر اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہو ۔ کیا تمہیں اپنی زندگی عزیز نہیں۔ میری بات پر اس نے قہقہہ لگایا اور بلند آواز میں بولا ۔ جناب زندگی دو چار دن کی ہے اسے زندہ انسانوں کی طرح گزارنے میں ہی مزا آتا ہے ۔ پھر بولا پتہ نہیں کیوں سرخ اشارے کو دیکھ کر میرے جسم میں گدگدیاں سی ہونے لگتی ہیں جب تک میں سرخ اشارہ کراس نہ کرلو ں مجھے سکون نہیں ملتا ۔ میں نے کہا اگر کسی دن کوئی حادثہ ہوگیا۔ اس نے کہا تو آپ یاد تو کیا کرو گے کہ بہت زندہ دل انسان تھا جو موت سے بھی نہیں ڈرتا تھا۔

چند دن پہلے فیصل آباد میں دو نوجوان طالب علموں کو پولیس نے ناکے پر نہ روکنے کی بنا پر گولی مار دی اور دونوں نوجوان موقع پر ہی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ نوجوان ناکے پر کیوں نہیں رکے یہ ان کی غلطی تھی اور پولیس والوں نے یہ دیکھے بغیر ان پر گولیاں برسا دیں ‘ یہ پولیس کا اختیار ات سے تجاوز تھا ۔ ایک مرنے والا دو بہنوں کا اکلوتا بھائی تو دوسرا اپنے والدین کا واحدسہارا تھا ۔اگریہ کہاجائے تو غلط ہوگا کہ نہ پولیس والے قانون پر عمل کرتے ہیں اور نہ ہی عوام اس کی زحمت گوارا کرتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ مادر پدر آزاد بنتا جارہا ہے ۔میڈیا اس حوالے سے کردار ادا کرسکتا ہے لیکن اسے سیاسی منافقت پھیلانے سے ہی فرصت نہیں ۔ جنگل کا معاشرہ دیکھنے کے باوجود میڈیا کی خاموشی معنی خیز ہے اور تو اور یوم آزادی پر تو ہر تیسرا نوجوان بفل نکال کر بائیک چلاتا اور کانوں کے پردے پھاڑتا دکھائی دیتا ہے ۔جو لوگ فیملی سمیت رونق میلہ دیکھنے کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی غلطی کرتے ہیں انہیں جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہوجاتاہے ۔ 14 اگست کو تو بطور خاص ہماری قوم ‘ آزادی کو بے راہ روی کا رنگ پہنا دیتی ہے ۔

ایک شام بیگم کے ہمراہ لاہورکینٹ کے ایک چوراہے پر کھڑا تھا کہ اشارہ کھلے ہو تو سفر شروع کروں ۔ ابھی عابد مجید روڈ سے شیرپاؤ پل کی جانب ٹریفک جاری تھی ۔اشارہ ابھی پیلا ہی تھا ایک کار والے نے چوک کراس کرنے کی کوشش کی ۔ ہم سے آگے کھڑے دو جوشیلے نوجوان بھی بہت جلدی میں تھے انہوں نے اشارہ گرین ہونے کاانتظار کرنے کی بجائے بائیک کو پوری رفتار کے ساتھ چلا دیا ۔ وہی ہوا جو ایسے مواقعوں پر ہوتا چلا آیا ہے ۔ کار اور موٹرسائیکل کی زبردست ٹکر ہوئی۔ بائیک پر سوار دونوں نوجوان خون میں لت پت سڑک پر تڑپ رہے تھے ۔ جبکہ کار والا اپنی کار سے باہر نکل کر زخمی نوجوانوں کو اٹھانے کی کوشش کررہا تھا ۔ حادثے کو دیکھ کر لوگ بھی جمع ہوگئے اور چند لمحوں میں تبدیل ہوتا ہوامنظر دیکھ کر ہم پر سکتہ طاری ہوگیا ۔ بیگم نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا۔یہ نوجوان اس قدر جلدی میں کیوں ہوتے ہیں کہ اپنی جان سے ہی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ میں نے کہا جوانی مستانی ہوتی ہے ‘رگوں میں دوڑنے والا خون سکون نہیں لینے دیتا ۔

یہ صرف ایک حادثہ نہیں بلکہ روزانہ کئی ایسے حادثات ہوتے ہیں جس میں لوگ زخمی بھی ہوتے ہیں اور جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں لیکن خود کو ٹریفک قوانین کا پابند نہیں بناتے ۔اگر سب لوگ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سے بچیں تو حادثات کی روک تھام ممکن بنائی جاسکتی ہے ۔

ایک اور بیماری ہمارے نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے اور وہ ہے ڈرائیونگ کے دوران موبائل سننا اور چیٹنگ کرنا ۔ کئی نوجوان ایسے دکھائی دیتے ہیں جن کے ایک ہاتھ میں سٹرنگ پر تو دوسرے ہاتھ میں موبائل ہوتا ہے ۔ حادثات دیکھنے کے باوجودلوگ عبرت نہیں پکڑتے ۔ یہ وبا صرف نوجوانوں تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ بڑی عمر کے سمجھ دار لوگ بھی برابر کے شریک ہیں ۔ ایک مرتبہ میں کلمہ چوک سے لبرٹی کی جانب جارہا تھا کہ اچانک ایک بنگلے سے نئی ٹویوٹاکرولا گاڑی نمودار ہوئی جسے ایک خاتون ڈرائیو کررہی تھی ۔مین شاہراہ پر آتے ہی فراٹے بھرنے لگی جبکہ موبائل بھی کانوں کو لگا رکھا تھا ۔ بدقسمتی سے ایسا ہی نوجوان مخالفت سمت سے گاڑی کو چلاتا ہوا سامنے آگیا ۔ چندہی لمحوں بعد دونوں زخموں سے چور چکے تھے ۔ موبائل کہاں اور خود کہاں تھے ۔ میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ہم قانون شکن قوم کیوں بنتے جارہے ہیں ۔جہاں لکھا ہوتا ہے تھوکنا منع ہے ‘ وہیں ہم نے ضرور تھوکناہے ۔ جہاں لکھا ہو‘ یہاں گاڑی پارک نہیں کرنی ‘ وہیں گاڑیوں کی لمبی قطار نظر آتی ہے ‘ کثیرالمنزلہ عمارتوں کے باہر لوگ اس انداز سے بائیک کھڑی کرتے ہیں کہ کسی دوسرے کو جگہ نہ مل سکے اور سب سے آگے کھڑی ہونے والی بائیک کو تو نکلنے کے تمام راستے ہی بند کردیئے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ لوگ آگے بائیک کھڑی کرنے کی بجائے سب سے پیچھے کھڑی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں ۔ جہاں لکھاہوتاہے یہاں ہارن بجانا منع ہے وہی پر ہارن بجانے کا شوق حد سے زیادہ بڑھ جاتاہے ۔ جس دیوار پر یہاں پیشاب کرنا اور گندگی پھیلانا منع ہے اسی دیوار کے ساتھ گندگی کے انبار دکھائی دیتے ہیں ۔کتنے ہی ہم جیسے لوگ اپنے ہاتھوں میں کوڑے کے بھرے شاپر لے کر گھر سے نکلتے ہیں جہاں انہیں موقع ملتا ہے پھینک کر رفع چکر ہوجاتے ہیں ۔

اور تو اور اس عید قربان پرکراچی کی مویشی منڈی میں ایک بچے کو چالیس ہزار روپے کے جعلی نوٹ دے کر جعل ساز اچھا خاصا صحت مند بکرا لے گئے ۔ کیا چوری کے اس بکرے کی قربانی قبول ہوجائے گی ۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ دوسروں کو دھوکہ دینے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ میں ایک مرتبہ پولیس اسٹیشن میں چند دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا ۔گپ شپ کے دوران ایک پولیس آفیسر نے کہا ہمیں بدنام کیاجاتا ہے کہ ہم چوروں کی سرپرستی کرتے ہیں ۔ اس نے ایک واقعہ سنایا ۔عید قربان سے چند دن پہلے ایک بڑے پولیس افسر کا فون آیاکہ بچے قربانی کرنے کی فرمائش کررہے ہیں ۔میں آپ کو پیسے بھجوا رہا ہوں کوئی اچھا صحت مند سا بکر ا خرید کر میرے گھر بھجوا دینا ۔فون بند ہوتے ہی ایک گھریلو ملازم مجھے ایک لفافہ دے گیا جس میں صرف 300 روپے تھے جو اس اعلی پولیس افسر نے بکرا خریدنے کے لیے مجھے بھجوائے تھے ۔ ہم سے مخاطب ہوکر وہ کہنے لگا اب آپ ہی بتاؤ کیا 300 روپے کا کوئی بکرا آتا ہے ۔ ہم اپنے باس سے مزید پیسے بھی نہیں مانگ سکتے اور اسے صحت مند بکرا بھی بھجوانا ضروری ہے ۔ چنانچہ ہم علاقے کے چوروں کو تھانے بلاکر حکم دیتے ہیں کہ ہمیں چند صحت مند بکرے درکار ہیں عید سے چند دن پہلے جہاں بھی نظر آئیں اٹھا کر لے آئیں ۔ اس طرح ہمارے پاس کئی بکرے جمع ہوجاتے ہیں ۔اپنے سینئر افسران کو بھجوانے کے بعد جو دو چار بکرے بچتے ہیں ان کو قربانی کے لیے ہم اپنے گھر رکھ لیتے ہیں۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ جن کے مہنگے بکرے چوری ہوتے ہیں وہ روتے پیٹتے تھانے آتے ۔ہم انہیں کرسی پیش کرکے انکے لیے کولڈ ڈرنک منگواتے ہیں۔ تھانے کی کرسی پر بیٹھ کر ٹھنڈی بوتل پیتے بکروں کے مالکان کو تسلی ہوجاتی ہے کہ ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔ ہم انہیں یقین دلاتے ہیں کہ ان کے بکروں کوتلاش کرنے کی پوری کوشش کی جائیگی ۔ ہماری یہ چکنی چوپڑی باتیں سن کر وہ بے چارے خوشی خوشی گھر چلے جاتے ہیں ۔دو تین دن وہ تھانے چکر لگاتے ہیں ‘ہم انہیں اطمینا ن دلاتے ہیں کہ تفتیش جاری ہے جلد ہی کوئی نتیجہ نکلے گا۔ جب عید کا چاند نظر آتا ہے تو ہم ان سے معذرت کرلیتے ہیں کہ اب تو بکرے قربان بھی ہوچکے ہوں گے ۔ قانون کے رکھوالے ہی جب قانون کی دھجیاں بکھیرنے لگیں تو باقی کا عالم کیا ہوگا ۔

ہم قانون شکن قوم بننے کے ساتھ ساتھ اخلاقی قدروں سے بھی عاری ہوتے جارہے ہیں۔مسجدوں سے جوتیاں بھی اعزاز سمجھ کر چرا لیتے ہیں ‘ پارکوں میں لڑکیوں کو دیکھ کر آوازے کسنا ہمارا شوق بن چکا ہے ۔ یوم آزادی کے دن خداکاشکر ادا کرنے کی بجائے موٹر سائیکلوں کے بفل نکال کر اتنا شور مچاتے ہیں کہ گھر وں میں رہنے والے بھی توبہ توبہ کر اٹھتے ہیں ۔ کوئی شریف انسان اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اگر سڑک پر نکل آئے تو اس کو بگڑے ہوئے نوجوان اس قدر تنگ کرتے ہیں کہ خدا کی پناہ ۔ پہلے کہیں ایک دو حلوائی کی دکانیں دکھائی دیتی تھیں لیکن آج کل دودھ کا کاروبار بھی نہایت منافع بخش بن چکا ہے ایک ہی محلے میں دس پندرہ دکانیں ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر کھلی جارہی ہیں کئی ملک شاپ تو ایسی بھی ہیں جہاں گاہکوں کو ترغیب دینے کے لیے دو کلو دودھ کی قیمت پر ایک کلو دودھ فری دینے کااعلان کررہے ہیں ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ دودھ کے نام پر یہ لوگ نہ جانے کیا کیا کیمیکل ملاکر دودھ کی شکل کالیکوڈ بنا لیتے پھر اسے دودھ کا نام دے کر انسانی صحت سے کھیلا جارہا ہے ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہمارا میڈیا قوم کے مزاج کو سنوارنے کی بجائے بگاڑنے کی طرف زیادہ توجہ دے رہا ہے ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aslam Lodhi

Read More Articles by Aslam Lodhi: 571 Articles with 290206 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Sep, 2018 Views: 469

Comments

آپ کی رائے