فون پر ہولڈ کے وقت حمد ونعت یا میوزک لگانے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ میں کہ:
مختلف اداروں میں جب کسی کو فون ہولڈ کرنے کا کہتے ہیں تو میوزک لگا دیتے ہیں تاکہ فون پر موجود شخص یہ سمجھ کر کہ فون بند ہوگیا ہے، رابطہ منقطع نہ کرے۔ اسی طرح بعض حضرات اور ادارے والے فون پر ہولڈ آن میوزک کی جگہ اسماء الحسنیٰ ‘ تلاوت‘ اذان یا حمد ونعت لگا دیتے ہیں‘ ان کا مقصد بھی یہ ہوتا ہے کہ فون کرنے والا یہ خیال نہ کرے کہ فون بند ہوگیا ہے اور دوسری وجہ اس کو پس منظر میں ہونے والے شک سے بچانا ہوتا ہے۔

۱- اس طرح فون پر ہولڈ کرواتے ہوئے قرآنی آیت‘ اذان‘ اسماء الحسنیٰ یا کسی حمد ونعت کا لگانا جائز ہے؟
۲- بعض اداروں میں ہولڈ آن میوزک ہوتا ہے‘ آدمی کو نا چاہتے ہوئے بھی سننا پڑتا ہے اور کچھ اداروں میں لازم ہوتا ہے کہ اگر انہیں بند کرنے کا بھی کہا جائے تو اسے وہ بند کرنے کا اختیار نہیں رکھتے‘ اس طرح میوزک سننے یا سنانے کا گناہ کس پر ہوگا؟ سننے والے پر‘ سنانے والے پر یا اس ادارے کی پالیسیاں بنانے والوں پر؟

از راہ کرم قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
مستفتی۔ارشاد احمد رضوی‘کراچی
الجواب حامداً ومصلیا

فون پر ہولڈ کرواتے ہوئے تلاوت‘ اذان اور حمد ونعت لگا دینا جائز نہیں‘ اس لئے کہ قرآن کریم کلام اللہ اور اذان شعائر اللہ میں سے ہے۔ کلام اللہ اور شعائر اللہ کو کلامی مقاصد یا کلام الناس کی جگہ استعمال کرنا شرعاً ناجائز ہے‘بلکہ بعض فقہاء کرام نے کفر کا اندیشہ بھی ظاہر فرمایا ہے۔ نیز حمد ونعت بھی شرعاً واجب الاحترام ہیں‘ ان میں بھی اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہو وسلم کے اسماء اور تعریف شامل ہوتی ہے جن کا تعلق ایمانیات سے ہے اور ایمانیات کو لغویات وفضولیات اور لایعنی کام کے طور پر استعمال کرنا بھی شدید گناہ ہے‘ چنانچہ شرح فقہ اکبر میں ہے:
”وفی الفتاوی الظہیریة: من قرأ آیة من القرآن علی وجہ الہزل کفر۔ قلت: لانہ تعالیٰ قال: ”انہ لقول فصل وما ہو بالہزل“ وفی تتمة الفتاوی: من استعمل کلام الله تعالیٰ بدل کلامہ کمن قال فی اذدحام الناس : ”فجمعناہم جمعا“ کفر‘ قلت: ہذا انما یتصور اذا کان قائل ہذا الکلام ہو جامع الناس بالازدحام والا فلا مانع ․․․ وفی المحیط: من قال لمن یقرأ القرآن ولایتذکر کلمة ”والتفت الساق بالساق“ ․․․ الی قولہ کفر‘ وفیہ وجہ الکفر فی القولین الاولین ظاہر‘ لانہ وضع القرآن فی موضع کلامہ‘ واما القول الاخیر فلا یظہر وجہ کفرہ‘ لانہ ماجاء جمعنا ہم عندنا فی القرآن وبمجرد مشارکة کلمة تکون فی القرآن من جملة اجزاء الکلام لایخرج من الاسلام باتفاق علماء الانام“۔ (فصل فی القرا ء ة والصلوة ص:۲۵۰تا ۲۵۲ ط‘ دار الباز مکة المکرمة)
اسی طرح فتاویٰ شامی میں ہے:
”وقد کرہوا والله اعلم ونحوہ لاعلام ختم الدرس حین یقرر․․․ قولہ: لاعلام ختم الدرس اما اذا لم یکن اعلاما بانتہائہ لایکرہ‘ لانہ ذکر وتفویض بخلاف الاول فانہ استعملہ آلة للاعلام ونحوہ اذا قال الحارس: لا الہ الا الله ونحوہ لیعلم باستیقاظہ فلم یکن المقصود الذکر اما اذا اجتمع القصدان یعتبر الغالب کما اعتبرنی نظائرہ“۔ (کتاب الحظر والاباحة ۶/۴۳۱ ط‘ سعید)

جن اداروں میں ہولڈ آن میوزک ہوتا ہے‘ اس میوزک کے گناہ کا وبال بنیادی طور پر ادارے کے پالیسی ساز افراد پر ہوگا پھر اسے چلا کر سنوانے والے حضرات پر بھی ہوگا‘ نیز دوسری جانب فون پر سننے والا اگر اپنے اختیار اور شوق سے تلذذ کے طور پر سن رہا ہو تو وہ بھی اس گناہ میں شریک ہوگا۔ مشکوٰة کی شرح مرقاة المصابیح میں ہے:
”فقال رسول اللہ ا : من سن فی الاسلام سنة حسنة ای اتی بطریقة مرضیة یقتدی بہ فیہا فلہ اجرہا ای اجر تلک السنة ای ثواب العمل بہا وفی نسخة اجرہ ای اجر من سن یعنی اجر عملہ ․․․ ومن سن فی الاسلام سنة سیئة ای بدعة مذمومة عمل بہا کان علیہ وزرہا ای اثمہا ووزرو من عمل بہا من بعدہ ای من جہة تبعیتہ (من غیر ان ینقص) تقدم (من اوزارہم شئ) جمع فی الموضعین باعتبار معنی من کما افرد فی ینقص باعتبار لفظہ “۔ (کتاب العلم ۱/۲۷۷-۲۷۸ ط‘ امدادیہ ملتان)
فتاوی شامی میں ہے:
”وفی البزازیة: استماع صوت الملاہی کضرب قضیب ونحوہ حرام لقولہ علیہ الصلوة والسلام استماع الملاہی معصیة والجلوس علیہا فسق والتلذذ بہا کفر“۔ (الدر المختار مع الرد المحتار باب خظر والاباحة ۶/۳۴۹ ط‘سعید)
الجواب صحیح الجواب صحیح
محمد عبد المجید دین پوری محمد عبد القادر
کتبہ
فخر السادات چترالی
متخصص جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن
اشاعت ۲۰۰۸ ماہنامہ بینات , رجب: ۱۴۲۹ھ اگست۲۰۰۸ء, جلد 71, شمارہ 7

https://banuri.edu.pk/ur/node/281
Mohammad Moin
About the Author: Mohammad MoinCurrently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.