شریعت کی پیروی میں ہی نجات ہے

(Maryam Arif, Karachi)

تحریر: حمیدہ کیلانی، لاہور
آپی! وہ میرا ایک سوال تھا، یہ جو عرس ہوتا ہے یہ کس لیے ہوتا ہے؟ کینٹین گراؤنڈ میں بیٹھی ہادیہ کو اس نے مخاطب کرتے ہوئے پوچا۔ کون سا عرس؟ اس کی آپی نے سموسہ کھاتے ہوئے اس سے ہی پوچھ ڈالا۔ آپی یہی داتا صاحب کا عرس!، مکنون نے تھوڑا ضرور دیتے ہوئے کہا۔ اوہ اچھا، بیٹھو ذرا یہاں، آپی نے اسے پکڑ کر اپنے پاس بیٹھادیا۔ آپی بتا دیں نا جلدی سے، مکنون نے پھر سے پوچھا۔ یونیورسٹی پوائنٹ آنے والا ہے 5 منٹ رہ گئے ہیں، کل عرس ہے سوچا پوچھتی جاؤں آپ سے، وہ کلائی پہ بندھی گھڑی دیکھتے ہوئے بولی۔اچھا بتاتی ہوں۔ سموسہ کھا لو بہت لذیذ ہے، آپی نے آفر کی۔ اچھا میں کھاتی ہوں آپ بولیں۔
اچھا سنیے، لڑکپن میں جب نیا نیا عروسہ کا مطلب پتا چلا نا کہ عروسہ دلہن کو کہتے ہیں تو یہ والا عرس بھی یاد آگیا۔ اپنی یہ گول مٹول آنکھیں گھماتے امی جان سے دریافت کیا کہ یہ جو پیر صاحب والاعرس ہے اس کا کیا مطلب ہوتا ہے۔امی جان نے اپنی ناساز طبیعت کی بنا پر اس دن جواب ملتوی کر دیا۔ میرا تجسس بڑھا اور میں مطالعہ کرتی چلی گئی۔ ہر طرح کی کتاب کا، ہر طرح کے مکتبہ فکر کا۔ ہاں ہاں! مکنون کا سموسہ ختم ہوگیا تھا اور اب وہ اپنی نظریں اپیا کے چہرے پر گاڑے ہوئے تھی۔ تو پتا یہ چلا کہ عرس منانے والوں کا کہنا ہے کہ نبی مکرم ﷺنے فرمایا ’’قبر میں جب کوئی مومن بندہ سوال جواب میں سرخرو ہو جاتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں دلہن کی طرح سوجاؤ ‘‘۔ عربی میں دلہن کو عروسہ کہتے ہیں تو چونکہ اس دن پیر صاحب کو یہ کہا گیا کہ دلہن کی طرح سو جاؤ تو ہم اس دن ان کا عرس مناتے ہیں۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ قبر میں نبی کریم ﷺکی زیارت کروا کہ پوچھا جاتا ہے؟ یہ کون ہیں۔ تو نبی کریمﷺکی جس دن زیارت ہوجائے تو یہ تو شادی سے بڑھ کر خوشی کی بات ہے۔۔ لہٰذا ہم ان کا عرس مناتے ہیں۔ آپی نے اپنی بات مکمل کرلی تھی۔
 
اچھاتو یہ بات ہے ، لیکن اس کی کیا حقیقت ہے؟ مکنون نے پھر سے سوال کردیا۔ پہلی حدیث تو ٹھیک ہے مگر دوسری حدیث میں یہ ذکر نہیں کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی زیارت کروائی جاتی ہے، آپی نے مختصر سا جواب دیا۔ تو آپی پھر؟ پھر یہ کہ۔ یہ دیکھ کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں کسی جگہ عرس منانے کا حکم دیا؟ کیا آپ ﷺسے افضل کوئی ہو سکتا ہے؟ صحابہ کرام نے ان کا عرس نہیں منایا تو ہم کسی اور کا عرس کیوں کر منا سکتے ہیں ۔جب ہمارے نبی ﷺکا عرس نہیں ہے، تو ولیوں کا عرس کیوں؟

آپی ٹھیک ہے اس زمانے میں واقعی عرس نہیں ہوتے تھے۔ میں نے ڈیپلی ہسٹری پڑھی ہوئی ہے لیکن اگر منا لیں تو گنا ہ ہوگا ؟ بالکل گناہ ہوگا۔ احادیث کی ایسی تشریح صحابہ کرام نے نہیں کی تو ہم کیوں کر سکتے ہیں۔ خیر القرون میں ایک عرس کی مثال نہیں مل سکتی اور یہ کسی کی وفات کے دن خوشیاں منانا نہیں تو اور کیا ہے۔ آپی میں اپنی آنٹی کو بتاؤں گی۔ وہ تو باقاعدگی سے ایسے میلوں اور عرسوں میں جاتی ہیں۔ بالکل مکنون اور انہیں یہ بھی بتا نا یہ الفاظ تو ہر مومن کو کہے جاتے ہیں کہ دلہن کی طرح سو جاؤ، تو اس طرح ہر مومن کا عرس منانے لگیں تو اس کام کے علاوہ کوئی کام کر ہی نہ سکیں۔ اففف! اﷲ جی! مکنون کی چیخ پر وہ ایک دم چونکی۔ کیا ہوا! میرا پوائنٹ آپی! میں آپ کی باتوں میں اتنا گم تھی کہ یاد ہی نہیں رہا۔

آپی کو اس کی ادا پر خود ساختہ ہنسی آگئی۔ اﷲ تعالی کی حکمت ہوگی اسی میں ،اس سے پہلے کہ تم بھوک کی وجہ سے اﷲ کے پاس چلی جاؤ، آو کینٹین چلتے ہیں۔آؤ بریانی کھاتے ہیں۔ ہاں اب تو کھانی پڑے گی۔ مکنون جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔ ہادیہ آپی! آج میں نے سب کو جا کر لیکچر دینا ہے عرس پر۔ اﷲ معاف فرمائے ہم کیوں اتنے نادان ہوگئے۔ مکنون انگلی ہلا ہلا کر بول رہی تھی اور مکنون جو کچھ ہم عرس میں کرتے ہیں اس سے صراحتا منع کیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺکی وہ حدیث تو تم نے لیکچر میں سنی ہوگی۔وہ اکثر یہ حدیث سناتی ہیں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’تم میری قبر کو میلہ گاہ نہ بنانا‘‘ (ابوداود۔صحیح)
اور آج ہم نے بزرگوں قبروں کو میلہ گاہ نہیں بنایا تو اور کیاکیا ہے۔ جی آپی واقعی وہ اکثر سناتی ہیں۔ آپی پلیز، آپ مجھے یہ سب احادیث واٹس ایپ کر دیجیے گا۔ میں ان شا اﷲ سب کو بتاؤں گی۔

اندھیری رات میں اس نے موبائل تھاما اور ہادیہ کا میسیج پڑھنے لگی۔ قبر کو پختہ بنانا، قبر پر بیٹھنا، ان کی طرف نماز پڑھنا۔ یا ان کے اوپر نماز پڑھنا اور قبر پر عمارت، قبے بنانا ناجائز ہے ( صحیح مسلم ۵۴۲۲) ۔ قبر پر پھولوں کی چادر چڑہانا ،یا دیے اور چراغ جلانا ناجائز ہے (بخاری ۸۹۶۲،نسائی ۵۴۰۲) قبر وں کو تبرکا چھونا ،تاکہ قبر والوں سے فیض یاب ہوں، بالکل ممنوع ہے۔اسی طرح قبروں کا طواف کرنا شرک ہے کیونکہ طواف ایک عبادت ہے۔انبیا وصلحا کی قبروں پر مساجد بنا کر ان میں عبادت کرنا یہود ونصاری کاطرز عمل ہے۔ سخت ممنوع ہے ( صحیح بخاری و مسلم ) قبر والوں سے مانگنا، ان کو مدد کے لیے بلانا شرکیہ عمل ہے۔ (سورہ فاطر ۳۱،۴۱)

ہادیہ آپی کے میسجز میں ایک میسج یہ بھی تھا کہ مکنون یاد رکھنا، ہماری کامیابی صرف اور صرف اﷲ تعالیٰ کی دی ہوئی شریعت پر عمل کرنے میں ہے۔ ہمارے پیارے پیغمبر جناب محمد رسول اﷲ صلی علیہ وسلم کے فرامین ہی ہمارے لیے اولین ترجیح ہیں۔ اگر ہم نے شریعت سے روگردانی کی تو دنیا اور آخرت میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔ کسی کی مخالفت نہیں بلکہ دوسروں کی اصلاح کرنی ہے۔ اسی میں ہماری نجات ہے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1232 Articles with 503551 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Oct, 2018 Views: 628

Comments

آپ کی رائے
جزاک اللہ خیرا
By: Baber Tanweer, Karachi on Oct, 30 2018
Reply Reply
0 Like

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ