زندگی

(Kanwal Ziauddin, Karachi)

ایک ایسی ہستی جس کو دنیا میں نعمت بنا کر بھیجا گیا ۔ اللہ نے بیٹی، بیوی ، بہن اور ماں چاروں کو ہی بہت بڑا درجہ دیا ہے۔ مگر افسوس ہماری اس دنیا میں آج بھی ایک بیٹی کی کوئی قدر نہیں۔کیا بیٹی صرف بوجھ ہی ہوتی ہے؟ پہلے ماں باپ پر اور اگلے گھر جاکر اپنے شوہر پر اس کی اپنی کوئی خوشی کوئی مرضی نہیں ہوتی؟ کیوں کہ آج بھی ہمارےمعاشرے میں بیٹیوں کی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی؟ کیوں کہ ان کی مرضی کو اپنی غیرت کا مسئلہ بنالیا جاتا ہے؟ وہ بھی تو انسان ہے تو جینےکا حق سب کو برابر کا کیوں نہیں۔

جس کا مقام میرے اللہ نے سب سے بڑا رکھاہے۔اُس کو انسان کیوں خود سے کم سمجھتا ہے۔ جب کسی گھر میں بیٹاپیدا ہوتا ہے تو اُس گھر کی تو جیسے شان ہی بڑھ جاتی ہے۔ دور دور تک شور اور مٹھایوں کو بھیجا جاتا ہے کہ ہمارے گھر کا چراغ آگیا ۔ ہماری نسل کو بڑھانے والا آگیا۔ ہمارے گھر کو سمبھالنےوالا آگیا ہے ، آگر اس کی جگہ کوئی بیٹی پیدا ہوتی ہےتو اُس کو افسوس کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جیسے کوئی بہت شرم ناک بات ہوگئی ہو۔گھر میں افسوس کا سماء ہوتا ہےکہ گھر میں کوئی بوجھ آگیا ہو جس کو کھلانا پلانا اور بڑی ہو کہ اس کے لیے جہیز تیار کرکے اس کی شادی کروانا یہ سب تو بہت مشکل سبب بنےگا اور ایک بیٹی اُن کا سہارا بننے کے بجائے اُن کے لیے بس بوجھ کا ہی سبب بنے گا۔

یہ سوچ لے کہ جب معاشرے آگے بڑھےگا تو بیٹی کو زندہ دفنانہ اور کسی ادارے کے دروازے چھوڑ کر جانا کوئی بڑی مشکل بات نہیں۔ موجودہ دور میں ایسے بہت سے ادارے ہیں جہاں ایسے بچوں کو رکھاجاتا ہے جن کو اُن کے والدین اُن دروازوں پر چھوڑ جاتے ہیں یا کچرے کے ڈبوں میں ڈال کر چلے جاتےہیں کہ بیٹی ہو نے سے اچھا ہے اُس کو ما ر دیا جائے یا کسی کچرےمیں ڈال کر جان بچالی جائے۔

جب کہ آگر موجودہ صورتِ حال کا جائزلیں تو ہم اس بات کو محسوس کرینگے کہ ایک بیٹی وہ سب کہ سکتی ہے جو بیٹا۔ اس با ت کو بھی ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بیٹیاں تو ماں باپ کو بھی بوجھ نہیں سمجھتی مگر بیٹے اُن ہی ماں باپ کو جنہوں نےاُس کو بہت مان سے پال کر بڑا کیاتھا کہ بڑا ہو کر وہ اُن کا سہارا بنےگااُن کو گھر سے نکال دیتے ہیں اور زندگی کے آخری دن اُن کو کسی ادارے کے بستر پر گزارنے پڑتے ہیں ۔ جب کہ ایک بیٹی اپنے والدین کو کبھی بھی ایسے نہیں چھوڑتی۔ کیا عجیب دور ہے کہ جس کو سب نے چھوڑا یہاں تک کے اپنے والدین نے بھی وہ ہی سہارا بنی اور جس پر سارا مان تھا وہ ساتھ چھوڑا گیا۔

غیرت نے نام پر ہمیشہ بیٹی کو قتل کردینا تو مردانگی ہے مگر غیرت صرف مردوں کی ہی ہوتی ہے ؟اور عورتوں کی عزتِ نفس اُس کا کیا؟بیٹی تو وہ خوبصورت ستارہ ہے کہ جس کے گھر میں آئے روشن کردے اور جس کے گھر سے جائے وہاں اندھیرا ہوجائے۔ اس نعمت کو نعمت ہی سمجھے کیونکہ یہ ہر گھر کو نہیں ملتی۔ ہا ں! میں بیٹی ہوں۔۔۔۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Kanwal Ziauddin

Read More Articles by Kanwal Ziauddin: 3 Articles with 909 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Dec, 2018 Views: 163

Comments

آپ کی رائے