گھریلو ملازمین۔۔ نوکر نہیں ورکر!

(Muhammad Anwar Graywal, Bahawlpur)

 اب گھریلو ملازمین کو نوکر نہیں کہا جائے گا، کیونکہ پنجاب اسمبلی نے ایک بل کی منظوری دے دی ہے، جس میں گھریلو ملازمین کے تحفظ کے لئے بہت باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے، جزویات تک کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ اس کے کام کے اوقات، کام کی نوعیت، اوور ٹائم، چھٹیوں وغیرہ سمیت تمام معاملات پر سیر حاصل بات کی گئی ہے۔ اس قسم کے قوانین تو شاید پہلے سے بھی بہت ہوں گے، ان میں ترامیم بھی ہوتی رہی ہوں گی ، مگر اب نئی بات یہ سامنے آئی ہے کہ اب اِ ن ملازمین کو نوکر نہیں کہا جائے گا۔ احترامِ آدمیت کے اس شاہکار بل کی منظوری کے بعد حضرتِ انسان کو یقینا قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔ اس بل کی دوسری اہم بات یہ ہے کہ پندرہ سال سے کم عمر بچوں کے گھریلو ملازم بننے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ پابندی والی خبر کسی حد تک حیران کن ہے، کیونکہ اس قسم کے قوانین تو ہر دور میں موجود رہے ہیں، نئے سرے سے ایسے قوانین کا بنایا جانا یا تو مذاق ہو سکتا ہے ،یا بھولپن یا پھر نمبر ٹانگنے کی کوشش۔ موجودہ حکومت چونکہ عمل پر یقین رکھتی ہے، اس لئے عوام الناس کو بھی یقین ہو جانا چاہیے کہ اِن سے پہلے جو کچھ ہوتا تھا وہ محض افسانہ تھا۔ تاہم اب اِن بچوں کو ملازم رکھنے پر د س سے پچاس ہزار روپے جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔

قانون بنانے والوں نے محسوس کیا ہوگا کہ لفظ ’’نوکر‘‘ سے انسان کی توہین کا پہلو نکلتا ہے، اسی لئے انہوں نے نوکر کی جگہ پر ’’ورکر‘‘ کی منظوری دے دی ہے، کارخانوں وغیرہ میں کام کرنے والوں کو ورکر کہا جاتا ہے، شاید گھریلو ملازمین زیادہ پِسا ہوا طبقہ تھا کہ جس کی حوصلہ افزائی کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے۔ کوئی وقت تھا سیاسی جماعتوں کے پاس کارکنوں کی بڑی کھیپ ہوتی تھی، اب وہ بھی ورکر ہی کہلاتے ہیں۔ ایک طرف نوکر کے لفظ کو کسی حد تک توہین آمیز جانا جاتا ہے، وہیں پر خود کو نوکر ظاہر کرکے یار لوگ اپنی کسرِ نفسی کا عملی ثبوت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی نے کسی کام کی فرمائش کی تو فوراً سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے،کمر کو تھوڑا سا خم دیا، خود کو نوکر قرار دے دیا ، ’’آپ کا نوکر‘‘۔ اسی ’’نوکر‘‘ سے متاثر ہو کر سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے خود کو خادمِ اعلیٰ قرار دے لیا تھا، آخر تک ’’خادمِ اعلیٰ‘‘ کا خود ساختہ لقب ان کے نام کا حصہ رہا، وہ نہ صرف خود کو بہت فخر سے خادمِ اعلیٰ پکارتے رہے بلکہ اخباری اشتہارات وغیرہ سے لے کر تقریبات تک انہیں اسی لقب سے یاد کیا جاتا رہا۔ مگر موجودہ حکمرانوں نے نوکر کو خادم شاید اس لئے کہنا پسند نہیں کیا کہ یہ نام میاں شہباز شریف نے اپنے نام کے ساتھ لگا رکھا تھا۔ نوکر کے لفظ میں جہاں توبے عزتی کا پہلو نکلتا ہے، وہاں اس سے اپنائیت بھی جھلکتی ہے۔فلموں میں بھی یہ لفظ مقبول رہا ہے، نوکر کے نام سے فلم تھی، ’’نوکر ووہٹی دا‘‘ کے نام سے بنائی جانے والی منور ظریف کی فلم نے کافی راج کیا۔ ویسے اپنے ہاں ملازمت کا دوسرا نام نوکری ہی گِنا جاتا ہے۔ اگر ملازمت نوکری ہے تو ملازم کے نوکر ہونے میں کوئی امر مانع نہیں ہونا چاہیے۔ موجودہ حکومت چونکہ اقدار کی سیاست اور دوسروں کو احترام دینے کی قائل ہے اس لئے مناسب نہیں جانتی کہ کسی کو نوکر کہہ کر اس کی تضحیک کی جائے۔

سولہ سال کی عمر کے بچوں کے سکول میں داخلے کی خصوصی مہمات چلائی جاتی ہیں، جس عمر کے بچوں کو سکول ہونا چاہیے، ظاہر ہے وہ ملازمت نہیں کر سکتے۔ اگر ان بچوں کی ملازمت قانونی طور پر جرم ہے، تو اس دوران ان کی تعلیم فرض ہونی چاہیے، اس فرض کی تکمیل کا فریضہ بھی حکومت کے ہی ذمے ہے۔ہو یہ رہا ہے کہ نہ پندرہ سال سے کم عمر کے تمام بچے سکولوں تک پہنچ سکے ہیں اور نہ ہی ملازمتوں سے نکالے جا سکے ہیں۔ اب حکومت نے ان چھوٹے بچوں کی ملازمت پر پابندی لگا کر ان کا یہ راستہ تو بند کرنے کی کوشش کی ہے، مگر اس کے بدلے میں اِن کم عمر ورکروں کی تعلیم کا کوئی اہتمام نہیں کیا۔ چائلڈ لیبر اور ناخواندگی کے خاتمے کا دعویٰ تو ہر حکومت ہی کرتی آئی ہے، اسی نسبت سے موجودہ حکومت کی اولین ترجیح بھی یقینا تعلیم ہی ہے، مگر دونوں کام جاری و ساری ہیں۔ گھریلو ملازمین چونکہ اکثر اَن پڑھ ہی ہوتے ہیں، اس لئے اگر پندرہ سال سے کم عمر بچوں کو ملازم نہیں رکھنا تو پندرہ برس انہیں انتظار کرنا پڑے گا، پڑھ وہ سکتے نہیں، ملازمت انہیں کرنے نہیں دی جائے گی، چنانچہ صرف پندرہ سال وہ جیسے کیسے گزار لیں، بعد میں انہیں گھریلو ملازم رکھ لیا جائے گا۔ جب تک قانون پر عمل شروع نہیں ہوتا، اس وقت تک جو لوگ گھریلو ملازم بچوں کو بے دردی سے مارتے ہیں، وہ بھی اپنا شوق پورا کرلیں، کیونکہ بڑی عمر کے ملازم کی مار پٹائی شاید آسان نہ ہو۔ چراغ تلے اندھیرا کے مصداق قانون سازوں کے گھروں میں بھی دس سے پندرہ سال کی عمر کے بچے کام کر رہے ہوتے ہیں۔ جب تک آؤٹ آف سکول بچوں کے لئے ہنگامی حالت نافذ نہیں کی جاتی، چائلڈ لیبر پر بھاری جرمانے اور سزائیں نہیں دی جاتیں اور ان بچوں کے والدین کو بھی قائل نہیں کیا جاتا اس وقت تک بیانات دینے ، نوکر کو ورکر کہنے اور ایسے بل پاس کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 218 Print Article Print
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 567 Articles with 198169 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: